کوریا میانمار کا بحران حل کرنے میں ’مزید‘ قائدانہ کردار ادا کرے: ماہر انسانی حقوق

میانمار میں بے گھر ہونے والے خاندان راخائن میں ایک بدھ خانقاہ میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
© UNICEF Myanmar
میانمار میں بے گھر ہونے والے خاندان راخائن میں ایک بدھ خانقاہ میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

کوریا میانمار کا بحران حل کرنے میں ’مزید‘ قائدانہ کردار ادا کرے: ماہر انسانی حقوق

انسانی حقوق

انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ایک غیرجانبدار ماہر نے جمہوریہ کوریا پر زور دیا ہے کہ وہ میانمار میں شہریوں کے خلاف تشدد کو ختم کرانے میں علاقائی سطح پر قائدانہ کردار ادا کر کے وہاں عالمی برادری کی ناکامی کا ازالہ کرنے میں مدد دے۔

میانمار میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے خصوصی اطلاع کار ٹام اینڈریوز نے یہ بات جمہوری کوریا کے چھ روزہ سرکاری دورے کے اختتام پر کہی۔

Tweet URL

سوموار کو جاری کردہ بیان میں ان کا کہنا ہے کہ ''جمہوریہ کوریا میانمار میں انتہائی ضرورت مندوں کو انسانی امداد کی فراہمی کے عمل کی قیادت کرتے ہوئے وہاں کی فوج کو 54 ملین لوگوں کو یرغمال بنائے رکھنے کے ذرائع استعمال کرنے سے روکنے کے لیے اہم قائدانہ کردار ادا کر سکتا ہے۔''

جمہوریہ کوریا مثال قائم کرے

انہوں ںے جنوبی کوریا کی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس حوالے سے اپنے مثبت اقدامات کو آگے بڑھائے جن میں فوجی بغاوت کی کھلی مذمت، میانمار کو ہتھیاروں کی ترسیل پر پابندی اور میانمار کے شہریوں کی اپنے ملک جبری واپسی کی عارضی ممانعت شامل ہیں۔

انہوں ںے کہا کہ ''جمہوریہ کوریا میانمار کے شہریوں کی دوسرے ممالک سے جبری طور پر اپنے ملک واپسی کو روکنے کے لیے اپنی مثال کے ذریعے قائدانہ کردار ادا کر سکتا ہے۔ میانمار کی فوج کی جانب سے ظالمانہ تشدد کے ہوتے ہوئے کسی ملک کو میانمار کے لوگوں کو جبراً واپس نہیں بھیجنا چاہیے۔''

ان کا کہنا تھا کہ ''جمہوریہ کوریا نے ایک واضح پالیسی تشکیل دی ہے جو لوگوں کو جبراً میانمار واپس بھیجے جانے کے خلاف تحفظ مہیا کرتی ہے۔ یہ پالیسی خطے میں تمام ممالک کے لیے ایک مثال ہونی چاہیے۔''

محصور لوگ

اینڈریوز نے میانمار کی صورتحال پر مثبت طور سے اثرانداز ہونے کے لیے جمہوریہ کوریا کی منفرد پالیسی پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ ''جمہوریہ کوریا پھلتی پھولتی معیشت کی حامل ایک مضبوط علاقائی قوت اور آسیان+3 کا رکن ہی نہیں بلکہ جیسا میں نے یہاں اپنے دوروں میں دیکھا ہے، اس ملک کے لوگ ایسے لوگوں کا درد اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں جنہیں محاصرے کی سی صورتحال کا سامنا ہو اور اس کے ساتھ وہ فوجی آمریت کی بیڑیاں توڑنے کی ہمت اور عزم بھی رکھتے ہوں۔''

''اب وقت آ گیا ہے کہ جمہوریہ کوریا اپنے مثبت اقدامات کو آگے بڑھائے اور میانمار کے لیے اپنی سیاسی حمایت اور ہمدردی کو مزید مضبوط عملی کارروائی میں تبدیل کرے۔''

حمایت میں اضافے کی ضرورت

خصوصی اطلاع کار نے متعدد تجاویز بھی دیں جن میں جمہوریہ کوریا کی جانب سے میانمار میں ''جعلی انتخابات کو رد کرنا' جنہیں فوجی حکومت آئندہ سال منعقد کرانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، فوج سے منسلک اہم مالیاتی اداروں پر معاشی پابندیوں کا نفاذ اور اپنے ہاں مقیم میانمار کے شہریوں کے ساتھ اچھے سلوک میں اضافہ اور میانمار کے ہمسایہ ممالک کی بھی ''یہی کچھ کرنے'' کے لیے حوصلہ افزائی جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔

میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف ایک مظاہرہ۔
Unsplash/Pyae Sone Htun
میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف ایک مظاہرہ۔

اگرچہ انسانی بنیادوں پر ویزا پروگرام جمہوریہ کوریا میں قانونی ویزے کے حامل میانمار کے شہریوں کو اپنا قیام بڑھانے اور روزگار تک رسائی کی قانونی اجازت دیتا ہے تاہم انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ''ان کوششوں کو بہتر بنانے کے لیے یہ یقینی بنائے کہ جمہوریہ کوریا میں رہائش پذیر میانمار کے تمام شہری بشمول بے قاعدہ مہاجرین استحصال اور بدسلوکی سے بچنے کے لیے ملک میں اپنی حیثیت کو باقاعدہ صورت دے سکیں۔

ملاقاتیں

اینڈریوز نے اپنے دورے میں سرکاری حکام، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے نمائندوں، میانمار میں کام کرنے والے کوریا کے بڑے کاروباری رہنماؤں اور ملک میں نسلی گروہوں کے ارکان سے ملاقاتیں کیں۔

اقوام متحدہ کے غیرجانبدار ماہر گانگ جو شہر میں بھی گئے جہاں انہوں نے 18 مئی کے انقلاب کے یادگاری مقامات کا دورہ کیا اور گانگ جو میانمار یکجہتی تحریک کے ارکان سے ملے۔

تمام خصوصی اطلاع کاروں کی طرح ایںڈریوز کو بھی جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے انسانی حقوق سے متعلق مخصوص امور یا ملک کی صورتحال کا جائزہ لینے اور اس بارے میں اطلاع دینے کے لیے تعینات کیا ہے۔ وہ اعزازی حیثیت میں یہ کام کر رہے ہیں اور اس کے عوض کوئی معاوضہ وصول نہیں کرتے۔