میانمار: انتونیو گوتیرش کی فوجی حملے میں 11 بچوں کی ہلاکت کی کڑی مذمت

علاقے سگینگ کا ایک گاؤں۔ لیٹ یٹ کون میں اٹھارہ ستمبر کو ایک سکول پر حملے میں گیارہ بچوں سمیت تیرہ افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔
© ADB
علاقے سگینگ کا ایک گاؤں۔ لیٹ یٹ کون میں اٹھارہ ستمبر کو ایک سکول پر حملے میں گیارہ بچوں سمیت تیرہ افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

میانمار: انتونیو گوتیرش کی فوجی حملے میں 11 بچوں کی ہلاکت کی کڑی مذمت

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سربراہ نے جمعرات کو میانمار میں سرکاری فوج کی جانب سے شمالی علاقے میں سرگرم باغیوں کے گڑھ پر حملوں کی سختی سے مذمت کی ہے جن میں ایک سکول کو بھی نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 11 بچوں سمیت 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق گزشتہ جمعے کو گن شِپ ہیلی کاپٹروں نے فوجی حکومت کے زیرکمان دستوں کے ساتھ مل کر شمالی میانمار میں ساگائنگ کے علاقے لِٹ یِٹ کون میں ایک ٹیمپل سکول پر فائرنگ کی۔

اطلاعات کے مطابق فوج کا کہنا ہے کہ اس نے باغیوں پر حملہ کیا تھا جن کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ سکول میں چھپے ہوئے تھے۔

فروری 2021 کی فوجی بغاوت

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو اِس ماہ کے آغاز میں بتایا گیا کہ فروری 2021 میں فوج کے ہاتھوں منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد میانمار شورش کا شکار رہا ہے۔ اس دوران حکومت کے مخالفین کو پُرتشدد انداز میں دبایا گیا اور انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم میں شدت دیکھنے میں آئی۔

ملک بھر میں حکومت مخالف تحریکوں نے، جن میں بعض مسلح بھی ہیں، فوجی حکومت کے خلاف اپنی مزاحمت بڑھائی جس کا جواب حکومتی فوج کی جانب سے طاقت کے بھرپور استعمال کی صورت میں آیا۔

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اپنے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں سکول پر حملے میں ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں سے دلی تعزیت کی ہے۔

سکولوں کا تحفظ ہونا چاہیے

ان کا کہنا تھا کہ ''مسلح جنگ کے دوران بھی سکولوں کو ایسی جگہ ہونا چاہیے جہاں بچوں کو تحفظ اور سیکھنے کے لیے محفوظ ماحول ملے۔ مسلح جنگ کے دوران بین الاقوامی انسانی قانون کے خلاف سکولوں اور ہسپتالوں پر حملے بچوں کے حقوق کی چھ سنگین ترین خلاف ورزیوں میں سے ایک ہیں جن کی سلامتی کونسل نے سختی سے مذمت کی ہے۔

گوتیرش نے زور دیا کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ''جنگ لڑنے والوں کو بچوں یا شہری اہداف سمیت عام لوگوں پر براہ راست حملے نہیں کرنے چاہئیں۔''

احتساب ضروری

بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ ''میانمار میں ہر طرح کے بین الاقوامی جرم کا ارتکاب کرنے والوں کا احتساب ہونا چاہیے۔''

سوموار کو اقوام متحدہ میں بچوں کے فنڈ یونیسف نے ٹویٹ کیا کہ اِسی سکول میں زیرتعلیم 15 بچے لاپتہ ہیں۔ ''یونیسف نے ان کی فوری اور محفوظ رہائی کا مطالبہ کیا۔ سکولوں کو محفوظ ہونا چاہیے۔ بچوں پر کبھی حملے نہیں ہونے چاہئیں۔''