ملائیشیا میانمار سے آئے پناہ کے متلاشیوں کو جبراً واپس بھیجنا بند کرے: یو این ایچ سی آر

سات ماہ تک سمندروں میں بھٹکنے کے بعد روہنگیا مہاجرین کو انڈونیشیا میں پناہ ملی۔
© UNHCR/Jiro Ose
سات ماہ تک سمندروں میں بھٹکنے کے بعد روہنگیا مہاجرین کو انڈونیشیا میں پناہ ملی۔

ملائیشیا میانمار سے آئے پناہ کے متلاشیوں کو جبراً واپس بھیجنا بند کرے: یو این ایچ سی آر

مہاجرین اور پناہ گزین

اقوام متحدہ میں پناہ گزینوں کے ادارے 'یو این ایچ سی آر' نے کہا ہے کہ ملائشیا میں پناہ کے خواہش مند میانمار سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی جبری واپسی کا مطلب یہ ہے کہ گزشتہ دو ماہ میں ایسے ہزاروں افراد کو ''ان کی مرضی کے خلاف شورش زدہ ملک میں واپس بھیجا جا چکا ہے''۔

'یو این ایچ سی آر' کی ترجمان شابیہ منٹو نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ اپریل سے اب تک لوگوں کو ملائشیا بدر کیے جانے کی ''متعدد اطلاعات'' سامنے آئی ہیں اور یہ اقدام انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون سے متضاد ہے۔

Tweet URL

ان کا کہنا تھا کہ ''یو این ایچ سی آر کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق میانمار سے تعلق رکھنے والے پناہ کے ایک خواہش مند کو اس ادارے کی جانب سے روکے جانے کے اقدامات کے باوجود 21 اکتوبر کو حراستی مرکز سے میانمار واپس بھیج دیا گیا۔ پناہ گزینوں اور پناہ کے خواہش مند لوگوں کو اس طرح واپس بھیجا جانا ان کی جبری واپسی کے مترادف ہے۔''

میانمار فروری 2021 سے خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے اور وہاں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو واپس بھیجنے کا مطلب انہیں ''نقصان اور خطرے'' کے سامنے کُھلا چھوڑنا ہے۔

اتوار کو سامنے آنے والی غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق کاچن میں حکومت مخالف فورسز کی جانب سے منعقدہ موسیتی کے پروگرام پر فضائی حملوں میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہو گئے۔ 

پناہ گزینوں کی جبری واپسی ناقابل قبول ہے

'یو این ایچ سی آر 'کی ترجمان کا کہنا ہے کہ پناہ کے خواہش مند لوگوں کو زبردستی واپس نہ بھیجنے کا اصول ''بین الاقوامی قانون کا ایک بنیادی ستون ہے'' اور ''تمام ممالک اس پر عمل کرنے کے پابند ہیں''۔

ملائشیا کے اس اقدام کے بعد اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کی جانب سے خطے کے تمام ممالک سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سخت نقصان سے تحفظ کے خواہش مند میانمار کے شہریوں کو جبراً واپس مت بھیجیں۔

'یو این ایچ سی آر' کے معاون ہائی کمشنر برائے تحفظ گیلیئن ٹرِگز نے کہا ہے کہ ''ان لوگوں کو واپس بھیجنا گویا بے شمار انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنا ہے۔''

یو این ایچ سی آر کے اعلیٰ عہدیدار کہنا ہے کہ میانمار کے ہمسایوں کو چاہیےکہ وہ پناہ کے خواہش مند افراد اور پناہ گزینوں کی ''لا محدود حراست'' کو ختم کریں۔ انہوں نے میانمار میں فوجی بغاوت کے بعد ملک بھر میں عام شہریوں کے خلاف جاری بلاامتیاز تشدد پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔

ٹرگز کا کہنا تھا کہ بعض سرحدی علاقوں میں میانمار کی فوج اور قوم پرست مسلح گروہوں کے مابین لڑائی بھی جاری ہے جس کے باعث لوگ اندرون ملک اور سرحد پار نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

میانمار کی پیچیدہ صورتحال

منگل کو 'یو این ایچ سی آر' کی جانب سے جاری کردہ انتباہ ان لوگوں کے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ اور وسیع پیمانے پر خدشات کو واضح کرتا ہے۔ گزشتہ مہینے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں میانمار کے لیے اقوام متحدہ کے متعین کردہ انسانی حقوق کےماہر ٹام اینڈریوز نے بتایا کہ وہاں بے شمار بے گناہ شہریوں کے لیے حالات ''بد سے بدتر اور خوفناک حد تک پہنچ گئے ہیں۔''

اینڈریوز نے بتایا کہ میانمار میں تقریباً 1.3 ملین لوگ بے گھر ہیں، 28,000 کے گھر تباہ ہو گئے ہیں، دیہات کو جلا دیا گیا ہے اور 13,000 سے زیادہ بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ملک میں خوراک کا بحران بھی سر اٹھا رہا ہے اور حقیقی نظربندی کیمپوں میں رکھے گئے 130,000 روہنگیا اور دیگر لوگوں کو شہریت نہ ہونے کے باعث محرومی اور امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔