بچوں میں اموات روکنے کے لیے طبی نگہداشت کو قابل رسائی بنایا جائے

منگولیا کا ایک زچہ و بچہ سنٹر۔
UNICEF/UN0155835/Zammit
منگولیا کا ایک زچہ و بچہ سنٹر۔

بچوں میں اموات روکنے کے لیے طبی نگہداشت کو قابل رسائی بنایا جائے

صحت

2021 میں ہر 4.4 سیکنڈ کے بعد ایک بچے یا نوعمر فرد کی موت ہوئی اور تمام خواتین اور بچوں کو مناسب طبی نگہداشت تک رسائی نہ ملنے کی صورت میں 2030 تک مزید لاکھوں افراد کی زندگی ختم ہو سکتی ہے۔

بچوں کی اموات کے تخمینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے بین الاداری گروپ (یو این۔آئی جی ایم ای) کے تازہ ترین اندازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2021 میں پانچ سال سے کم عمر کے اندازاً 50 لاکھ لڑکوں اور لڑکیوں اور پانچ سے 24 سال کی درمیانی عمر کے تقریباً 21 لاکھ افراد کی موت ہوئی۔

Tweet URL

ایک اور رپورٹ سے یہ سامنے آیا ہے کہ اس عرصہ میں 19 لاکھ بچے مردہ حالت میں پیدا ہوئے۔ زچہ، نومولود بچوں، پانچ سال سے زیادہ عمر کے بچوں اور نوعمروں کو اعلیٰ معیار کی طبی خدمات کی فراہمی اور ان تک مساوی رسائی مہیا کر کے ایسی بہت سی اموات کو روکا جا سکتا تھا۔

بہتری ممکن ہے

'یو این۔آئی جی ایم ای' کا قیام 2004 میں عمل میں آیا تھا جس کا مقصد بچوں کی اموات کے بارے میں معلومات کا تبادلہ اور ان کی بقا سے متعلق اہداف اور دیگر مقاصد کے لیے ہونے والی عالمگیر پیش رفت کے بارے میں اطلاع دینا ہے۔

اس گروپ کی سربراہی اقوام متحدہ کے چلڈرن فنڈ (یونیسف) کے پاس ہے جبکہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)، ورلڈ بینک گروپ اور اقوام متحدہ میں معاشی و سماجی امور کے شعبے (یو این ڈی ای ایس اے) میں آبادی سے متعلق ڈویژن بھی اس کے ساتھ ہیں۔

یونیسف میں معلومات کے تجزیے، منصوبہ بندی اور نگرانی کے ڈویژن کی ڈائریکٹر ودھیا گنیش نے کہا ہے کہ ''روزانہ بہت سے والدین اپنے بچوں کو کھونے کا صدمہ جھیل رہے ہیں اور بعض اوقات تو بچے پہلا سانس لینے سے پہلے ہی جان سے گزر جاتے ہیں۔

اس قدر بڑے پیمانے پر اور قابل انسداد المیے کو ناگزیر سمجھ کر کبھی قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔ مضبوط سیاسی ارادے اور ہر خاتون اور بچے کی بنیادی طبی نگہداشت تک مساوی رسائی ممکن بنانے کے لیے مخصوص سرمایہ کاری کے ذریعے اس معاملے میں مثبت پیش رفت ممکن ہے۔

زندگی یا موت

گروپ کا کہنا ہے کہ معیاری طبی نگہداشت تک رسائی اور اس کی دستیابی دنیا بھر کے بچوں کے لیے زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔

بیشتر بچوں کی اموات پانچ سال کی عمر سے پہلے ہوتی ہیں اور ان میں نصف تعداد کی زندگی پیدائش کے بعد پہلے مہینے میں ہی ختم ہو جاتی ہے۔ قبل از وقت پیدائش اور دوران پیدائش پیچیدگیاں ان بچوں کی موت کے سب سے بڑے اسباب ہیں۔

اسی طرح مردہ پیدا ہونے والے 40 فیصد سے زیادہ بچوں کی موت بھی دوران پیدائش ہوتی ہے اور اگر خواتین کو حمل اور بچے کی پیدائش کے عرصہ میں معیاری طبی خدمات تک رسائی میسر ہو تو ان میں سے بیشتر کی جان بچائی جا سکتی ہے۔

جو بچے پیدائش کے بعد ابتدائی 28 ایام بخیروعافیت گزار لیتے ہیں ان کے لیے نمونیہ، اسہال، ملیریا سب سے بڑا خطرہ ہوتے ہیں۔

پیش رفت اور غیرمتوقع خطرات

رپورٹوں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بنیادی نظام ہائے صحت کو مضبوط بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری سے خواتین، بچوں اور نوعمر افراد کو کیسے فائدہ پہنچا ہے۔

ایسے اقدامات کی بدولت 2000 سے اب تک دنیا بھر میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں اموات کی شرح نصف حد تک کم ہو گئی ہے جبکہ اس سے بڑی عمر کے بچوں اور نوعمر افراد میں اس شرح میں 36 فیصد جبکہ مردہ بچوں کی پیدائش کی شرح میں 35 فیصد تک کمی کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔

بنیادی نظام ہائے صحت کو مضبوط بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری سے خواتین، بچوں اور نوعمر افراد کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔
© UNICEF/Vincent Tremeau
بنیادی نظام ہائے صحت کو مضبوط بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری سے خواتین، بچوں اور نوعمر افراد کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔

تاہم 2010 کے بعد ان فوائد میں نمایاں کمی آئی ہے اور 54 ممالک پانچ سال سے کم عمری میں اموات پر قابو پانے کے حوالے سے پائیدار ترقی کے اہداف حاصل نہیں کر سکیں گے۔

رپورٹ میں 2030 تک نومولود اور پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں ایسی اموات کی خاتمے کے لیے کہا گیا ہے جنہیں روکا جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے تمام ممالک نومولود بچوں میں اموات کی شرح 1,000 میں 12 اور پانچ سال سے کم عمر بچوں میں اموات کی شرح کو 1,000 میں 25 تک لانے کا ہدف طے کریں۔

'مزید لاکھوں بچوں کو خطرہ ہے'

ان رپورٹوں میں خبردار کیا گیا ہے کہ طبی خدمات بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو قریباً 59 ملین بچے اور نوعمر افراد اس دہائی کے آخر تک زندگی کھو بیٹھیں گے اور ممکنہ طور پر 16 ملین مردہ بچے پیدا ہوں گے۔

ڈبلیو ایچ او میں زچہ، نومولود بچوں، پانچ سے بڑی عمر کے بچوں، نوعمر افراد اور عمر رسیدگی سے متعلق شعبے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر انشو بینرجی نے کہا ہے کہ ''بچے کی بقا کے امکانات کا محض اس کی جائے پیدائش پر منحصر ہونا شدید ناانصافی ہے اور تحفظ زندگی کے لیے ان کی طبی خدمات تک رسائی میں بھی بڑے پیمانے پر عدم مساوات پائی جاتی ہے۔''

آج بھی بچوں کی بقا کے امکانات ایک دوسرے سے بڑی حد تک مخٹ مختلف ہوتے ہیں اور ان کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ کہاں پیدا ہوئے ہیں اور اس حوالے سے ذیلی۔صحارا افریقہ اور جنوبی ایشیا کے خطے پر سب سے زیادہ بوجھ ہے۔