انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ڈبلیو ایچ او کا چین سے کووڈ۔19 پر مزید معلومات دینے کا ایک بار پھر مطالبہ

ہر ہفتے اندازاً 10 ہزار افراد کووڈ۔19 کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں۔
© Unsplash/Joshua Fernandez
ہر ہفتے اندازاً 10 ہزار افراد کووڈ۔19 کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کا چین سے کووڈ۔19 پر مزید معلومات دینے کا ایک بار پھر مطالبہ

صحت

عالمی ادارہِ صحت چین میں کووڈ۔19 کے پھیلاؤ میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چین سے کہا ہے کہ وہ اپنے ہاں اس بیماری کے پھیلاؤ کے بارے میں مفصل معلومات مہیا کرے۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے جنیوا میں سال کی پہلی ورچوئل بریفنگ میں کہا ہے کہ  ''ہم چین سے کہہ رہے ہیں کہ وہ ہسپتالوں میں آنے والے کووڈ۔19 کے مریضوں اور ان میں اموات کے بارے میں مزید تیزی اور باقاعدگی سے مصدقہ معلومات مہیا کرے اور وائرس کی ترتیب کے حوالے سے مزید جامع اور تازہ ترین اطلاعات فراہم کرے۔

Tweet URL

ڈبلیو ایچ او کو دنیا میں سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں زندگی کو لاحق خطرے پر تشویش ہے اور اس نے زیادہ سے زیادہ لوگوں خصوصاً اس بیماری کے سنگین خطرے سے دوچار آبادی جیسا کہ معمر افراد کو ویکسین اور اس کی اضافی خوراکیں لگانے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

تفصیلی معلومات کی ضرورت

ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ ''چین کی جانب سے اس بیماری کے پھیلاؤ کے بارے میں بڑی تعداد میں اور مصدقہ معلومات نہیں آ رہیں اور جیسا کہ میں نے گزشتہ ہفتے کہا تھا یہ بات قابل فہم ہے کہ بعض ممالک ایسے اقدامات کر رہے ہیں جن کے بارے میں ان کا یقین ہے کہ وہ ان کے شہریوں کو تحفظ دیں گے۔''

کرونا وائرس کی نئی اقسام کے پھیلاؤ سے متعلق خدشات کے ہوتے ہوئے متعدد ممالک نے چین سے آنے والے مسافروں کے لیے کووڈ کے ٹیسٹ سے متعلق نئی شرائط کا اعلان کیا ہے۔ ان ممالک میں امریکہ بھی شامل ہے جہاں کل سے یہ شرائط لاگو ہوں گی۔

بعدازاں ایک بریفنگ میں بات کرتے ہوئے ڈبلیو ایچ او میں ہنگامی حالات سے متعلق شعبے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مائیک ریان نے بھی چین کے حکام سے اس وبا کے بارے میں مزید معلومات مہیا کرنے پر زور دیا۔

ماہرین کے ساتھ اجلاس

ڈبلیو ایچ او نے گزشتہ ہفتے چین کے حکام کے ساتھ اعلیٰ سطحی اجلاس کیے ہیں جن میں کووڈ کے مریضوں کی تعداد میں اضافے اور ہسپتالوں میں داخل ہونے والے مریضوں سے متعلق صورتحال زیربحث آئی۔

وائرس کے ارتقا سے متعلق ادارے کے تکنیکی مشاورتی گروپ (ٹی اے جی۔وی ای) نے بھی منگل کو چین کے ماہرین سے ملاقات میں اس صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

اس اجلاس کے دوران چین میں بیماریوں پر قابو پانے اور ان کی روک تھام کے مرکز سے تعلق رکھنے والے سائنس دانوں نے بیرون اور اندرون ملک سے کرونا وائرس کا شکار ہونے والے مریضوں کے بارے میں معلومات مہیا کیں۔

ان معلومات کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں زیرگردش بیشتر وائرس کا تعلق اومیکرون کے دو سلسلوں بی اے۔5.2 اور بی ایف۔7 سے ہے اور اندرون ملک اس وبا کا شکار ہونے والے 97.5 افراد اسی وائرس کا نشانہ بنے ہیں جبکہ بعض لوگ اومیکرون کی دیگر معلوم ذیلی اقسام کی زد میں آئے ہیں۔

ٹی اے جی۔وی ای نے بدھ کو ایک بیان میں بتایا کہ ''وائرس کی یہ معلوم اقسام ہیں جو دیگر ممالک میں بھی پائی جاتی ہیں جبکہ فی الوقت چین کے سی ڈی سی کی جانب سے اس وائرس کی کسی نئی قسم کے بارے میں اطلاع نہیں دی گئی۔

اب تک چین سے وائرس کے 773 نمونے عالمگیر سائنسی اقدام (جی آئی ایس اے آئی ڈی) کے زیراہتمام وائرس کے ڈیٹا بیس کو بھیجے گئے ہیں۔

ان میں سب سے زیادہ 564 نمونے یکم دسمبر کے بعد جمع کیے گئے۔ ان میں سے صرف 95 کو مقامی طور پر لاحق ہونے والے کیس قرار دیا گیا ہے جبکہ 187 کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ بیرون ملک سے آئے جبکہ ''261کے بارے میں ایسی کوئی معلومات مہیا نہیں کی گئیں''۔

مقامی طور پر سامنے آنے والے بیشتر کیس (95 فیصد) اومیکرون کی دو اقسام سے تعلق رکھتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ''یہ نمونے دیگر ممالک کی جانب سے 'جی آئی ایس اے آئی ڈی' کے 'ایپی کوو' ڈیٹا بیس میں جمع کرائے گئے چینی مسافروں کے جینوم سے مطابقت رکھتے ہیں۔ وائرس کی ترتیب کے حوالے سے عام دستیاب معلومات میں اس کی کسی نئی قسم یا تغیر کے حوالے سے کوئی ایسی خاص بات سامنے نہیں آئی جس کے بارے میں پہلے سے معلومات موجود ہوں۔''

وینزویلا میں کرونا اور کووڈ۔19 کے خلاف حفاطتی ویکسین لگائی جا رہی ہیں۔
© PAHO/Baro Brizuela
وینزویلا میں کرونا اور کووڈ۔19 کے خلاف حفاطتی ویکسین لگائی جا رہی ہیں۔

'وباء کے خطرات برقرار ہیں'

ڈائریکٹر جنرل نے بریفنگ میں بتایا کہ اس وباء کو اب چوتھا سال شروع ہو گیا ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے ہونے والی پیش رفت کے باوجود یہ اب بھی صحت، معیشتوں اور معاشروں کے لیے خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ''ہمیں کووڈ۔19 کی موجودہ وبائی صورتحال کے بارے میں اب بھی حقیقی خدشات لاحق ہیں جن میں دنیا کے متعدد علاقوں میں اس بیماری کا شدید اور اس کی نوتشکیل شدہ ذیلی قسم کا تیزتر پھیلاؤ بھی شامل ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ دنیا بھر میں بڑی تعداد میں لوگوں کو ویکسین لگائے جانے اور زندگی کو تحفظ دینے والی نئی ادویات/ویکسین کے سبب 2021 کے بیشتر عرصہ میں کووڈ۔19 کی شدت میں کمی آئی۔ 

ہفتہ وار 10,000 اموات

تاہم اس بیماری کی تشخیص، علاج اور ویکسین تک رسائی میں اب بھی بڑے پیمانے پر عدم مساوات پائی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ''ہر ہفتے اندازاً 10 ہزار افراد کووڈ۔19 کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں۔ یہ وہ تعداد ہے جس سے ہم آگاہ ہیں جبکہ ایسی اموات کی حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

مزید برآں، امریکہ اور یورپ میں اومیکرون کی ذیلی قسم 'ایکس بی بی۔1.5 پھیل رہی ہے اور تقریباً 30 ممالک میں اس کی نشاندہی ہو چکی ہے۔

ابتداً وائرس یہ قسم اکتوبر 2022 میں سامنے آئی تھی۔ کووڈ۔19 کے بارے میں ڈبلیو ایچ او کے تکنیکی شعبے کی سربراہ ڈاکٹر ماریا وان کیرکوو کے مطابق یہ کورونا وائرس کی ایسی قسم ہے جو اس سے پہلے سامنے والی اقسام کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ''ہمیں دنیا بھر میں اس بیماری کی مزید لہریں آنے کی توقع ہے تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس سے بڑی تعداد میں مزید اموات بھی ہوں گی کیونکہ اس وبا کے خلاف ہمارے اقدامات مثبت نتائج دے رہے ہیں۔''