طبی ناہمواریوں کے باعث کئی معذور افراد کو وقت سے پہلے موت کا سامنا
عالمی ادارہِ صحت کے مطابق بہت سے معذور افراد کی جلد موت واقع ہو جاتی ہے، بعض معذور دوسروں سے 20 سال کم عمر پاتے ہیں اور بہت سے معذور لوگوں کو کئی طرح کے طبی مسائل لاحق ہونے کا خطرہ عام لوگوں کے مقابلے میں دو گنا زیادہ ہوتا ہے۔
یہ بات حسی افعال، معذوری اور جسمانی بحالی سے متعلق ڈبلیو ایچ او کے تکنیکی شعبے کے سربراہ ڈیرل بیریٹ نے جنیوا میں صحافیوں کو بریفنگ میں بتائی۔
معذور افراد کے عالمی دن سے پہلے طبی مساوات کے بارے میں شائع ہونے والی عالمی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ اس معاملے میں حالیہ برسوں کے دوران کچھ بہتری بھی دیکھنے میں آئی ہے تاہم نظام میں شامل اور دائمی طبی مساوات بدستور موجود ہے جس کے باعث بہت سے معذور افراد کو دائمی امراض لاحق ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
بیریٹ کا کہنا تھا کہ ''ناقص معیار کی طبی خدمات معذور افراد کی قبل از وقت اموات کی بڑی وجہ ہے۔ معذور افراد میں تپ دق، زیابیطس، فالج، جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں اور دل کے امراض میں مبتلا ہونے کے واقعات بھی زیادہ ہیں۔''
ناقص طبی خدمات
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا ہے کہ ''صحت کے نظام کو ایسا ہونا چاہیے کہ اس کی بدولت معذور افراد کو درپیش طبی مسائل بڑھنے کے بجائے ختم ہوں۔ یہ رپورٹ اس عدم مساوات کو واضح کرتی ہے جس کا معذور افراد کو طبی نگہداشت تک رسائی کے موقع پر سامنا ہوتا ہے۔''
''ڈبلیو ایچ او اس معاملے میں دنیا بھر کے ممالک کو رہنمائی اور ایسے ذرائع کے ساتھ مدد دینے کا عزم رکھتا ہے جن کی انہیں تمام معذور افراد کی معیاری طبی خدمات تک رسائی یقینی بنانے کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ طبی نتائج کے حوالے سے کئی طرح کی تفاوت کی وضاحت بنیادی طبی حالت یا معذوری سے نہیں کی جا سکتی بلکہ اسے علاج تک عدم رسائی جیسے قابل گریز اور غیرمںصفانہ عوامل یا ہنگامی طبی صورتحال سے نمٹنے کی منصوبہ بندی کے موقع پر معذور افراد پر زیادہ توجہ نہ دینے کے رحجان سے سمجھا جا سکتا ہے۔
بیریٹ کا کہنا تھا کہ ''اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں اندازاً کتنے لوگ نمایاں معذوری کے حامل ہیں اور یہ تعداد کرہ ارض کی مجموعی آبادی کا 16 فیصد ہے۔ موجودہ شرح سے دیکھا جائے تو 1.3 ارب افراد کسی نہ کسی نمایاں معذوری کا شکار ہیں۔
معذور افراد کی آبادی میں تقریباً 80 فیصد لوگوں کا تعلق کم اور متوسط درجے کی آمدنی والے ممالک سے جہاں طبی خدمات محدود ہیں اور اسی لیے وہاں طبی عدم مساوات پر قابو پانا مشکل ہو سکتا ہے۔ تاہم ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ محدود ذرائع کے باوجود بہت کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
عملی اقدامات کی ضرورت
رپورٹ میں صحت کے حوالے سے امدی ڈھانچے کو بہتر بنانے سے لے کر طبی عملے کی تربیت تک حکومتوں کے لیے 40 اقدامات کی سفارش کی گئی ہے۔
اس کی مثال دیتے ہوئے بیریٹ کا کہنا تھا کہ ''طبی عملے کا رویہ اور قابلیت بالکل منفی بھی ہو سکتے ہیں اور ان کا اثر معذور افراد کی صحت پر پڑ سکتا ہے۔''
ڈبلیو ایچ او نے طبی عدم مساوات سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ بیریٹ کا کہنا تھا کہ ''حکومتوں کو چاہیے کہ اپنے طبی عملے کو تربیت دیتے وقت جسمانی معذوری کو ان کی تعلیم و تربیت کا حصہ بنائیں تاکہ وہ معذور افراد کی درست طور سے نگہداشت کے لیے مطلوبہ اعتماد اور اہلیت سے بہرہ ور ہو سکیں۔''
رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحت کے شعبے میں معذور افراد پر خاطرخواہ توجہ دینے سے اخراجات کی بچت بھی ہوتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے حساب لگایا ہے کہ حکومتیں غیرمتعدی بیماریوں کی روک تھام اور ان سے متعلق نگہداشت پر معذور افراد کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے خرچ کریں تو استعمال کیے گئے ہر ایک ڈالر کے عوض دس ڈالر کی بچت کر سکتی ہیں۔