خواتین کے خلاف تشدد کو کتابِ ماضی کا حصہ بنا دیں: گوتیرش

خواتین پر تشدد کے خلاف یوراگوئے میں احتجاجی جلوس۔
UN Women/Sahand Minae
خواتین پر تشدد کے خلاف یوراگوئے میں احتجاجی جلوس۔

خواتین کے خلاف تشدد کو کتابِ ماضی کا حصہ بنا دیں: گوتیرش

خواتین

اقوام متحدہ کے سربراہ نے 25 نومبر کو خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن سے قبل اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ''خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کو ختم کر کے اسے قصہء پارینہ بنا دیں۔''

سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ دنیا میں ہر گیارہ منٹ میں کوئی خاتون یا لڑکی اپنے ہی کسی قریبی ساتھی یا رشتہ دار کے ہاتھوں قتل ہوتی ہے۔ اسی طرح کووڈ۔19 وباء سے معاشی بدحالی تک تناؤ کی بہت سی کیفیات کے باعث جسمانی و زبانی بدسلوکی میں شدت آئی ہے۔

زن بیزار نفرت پر مبنی اظہار اور جنسی ہراسانی نے خواتین اور لڑکیوں کے خلاف آن لائن استحصال کو بڑھا دیا ہے۔

انتونیو گوتیرش نے اس دن کے لیے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ ''دنیا کو انسانوں کی نصف آبادی کے خلاف امتیازی سلوک، تشدد اور بدسلوکی کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے۔''

انہوں نے کہا کہ ''تشدد خواتین اور لڑکیوں کی زندگی کے ہر شعبے میں شرکت کو محدود کر دیتا ہے، انہیں ان کے بنیادی حقوق اور آزادیوں سے محروم رکھتا ہے اور ہماری دنیا کو درکار مساوی معاشی بحالی اور پائیدار ترقی سے روک دیتا ہے۔''

خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام کے حوالے سے مالی میں ایک تربیتی ورکشاپ اور اس کے شرکاء۔
© UNICEF/Harandane Dicko
خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام کے حوالے سے مالی میں ایک تربیتی ورکشاپ اور اس کے شرکاء۔

رویوں میں تبدیلی کی ضرورت

انہوں ںے کہا کہ یہ ''تبدیلی لانے کے اقدامات'' کا وقت ہے جن سے خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ ہو جو کہ دنیا میں انسانی حقوق کی سب سے عام خلاف ورزی ہے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے بتایا کہ اس لعنت پر قابو پانے کے لیے سرکاری سطح پر منصوبہ بندی، مالی وسائل کی فراہمی اور قومی عملی منصوبوں پر عملدرآمد سمیت کیا کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید برآں، نچلی سطح پر کام کرنے والوں اور سول سوسائٹی کے گروہوں کو اس بارے میں ہر سطح پر فیصلہ سازی میں شامل کیا جانا چاہیے اور تمام متعلقہ قوانین پر عملدرآمد اور ان کا احترام ہونا چاہیے تاکہ تشدد کی متاثرین دیکھ سکیں کہ انصاف اور مدد سے متعلق ان کے حقوق برقرار ہیں۔

انہوں نے تمام لوگوں پر یہ زور بھی دیا کہ وہ ایسی عوامی مہمات کی حمایت کریں جن میں پدرسری روایات کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے اور جو مردانگی کی ایسی صورتوں کو فروغ دیتی ہیں جن میں زن بیزاری اور تشدد کو مسترد کیا جاتا ہے۔

عمل کی پکار

اقوام متحدہ کے سربراہ کے مطابق اس سال ''یکجائی: خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے فعالیت'' کا موضوع ہر ایک کو یاد دہانی کراتا ہے کہ ہمیں دنیا بھر میں ایسے لوگوں کا ساتھ دینا ہے جو تبدیلی لانے اور تشدد کے متاثرین کی مدد کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ''میں حکومتوں سے کہتا ہوں کہ وہ 2026 تک خواتین کے حقوق کی تنظیموں اور تحریکوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی میں 50 فیصد تک اضافہ کریں۔''

آخر میں سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ''آئیے کھڑے ہوں اور خواتین کے حقوق کی حمایت میں اپنی آواز بلند کریں اور فخریہ انداز میں کہیں کہ ''ہم سب خواتین کے مساوی حق کے حامی ہیں۔''

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ''خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے خواتین کے حقوق کی مضبوط اور خودمختار تنظیموں اور تحریکوں کی مدد کرنا اور انہیں وسائل مہیا کرنا ضروری ہے۔''

ایکواڈور میں خواتین کے حقوق کے لیے مظاہرے میں شریک ایک لڑکی۔
© UN Women/Johis Alarcón
ایکواڈور میں خواتین کے حقوق کے لیے مظاہرے میں شریک ایک لڑکی۔

تشدد کے خاتمے کا راستہ

پانچ سال پہلے #MeToo  تحریک نے خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کی روک تھام کے لیے زور دار عالمگیر فعالیت پیدا کی تھی۔

اس کے بعد اس حوالے سے بے مثال آگاہی پیدا ہوئی اور اس مسئلے پر قابو پانے کے اقدامات میں تیزی دیکھنے میں آئی۔

تاہم اس کے ساتھ خواتین کے مساوی حق کے مخالف گروہوں نے بھی زور پکڑا جس کے نتیجے میں سول سوسائٹی کے لیے گنجائش میں کمی آئی، خواتین کے حقوق کی تنظیموں کے خلاف ردعمل آیا اور خواتین کے حقوق کے محافظوں اور کارکنوں پر حملوں میں اضافہ ہوا۔

خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد (وی اے ڈبلیو جی) کے معاملے میں جرائم پر کھلی چھوٹ، خاموشی، بدنامی اور شرمندگی کے باعث انسانی حقوق کی متواتر اور تباہ کن خلاف ورزی بڑی حد تک سامنے نہیں لائی جاتی۔

خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ خواتین پر تشدد صنفی بنیاد پر تشدد کے کسی بھی اقدام جیسا ہے جس کا نتیجہ یا امکانی نتیجہ خواتین کے جسمانی، جنسی یا نفسیاتی نقصان یا ان کے لیے تکالیف کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس میں خواتین کو لاحق ایسے خطرات، جبر یا انہیں ناجائز طور پر آزادی سے محروم کیے جانے جیسے اقدامات بھی شامل ہیں خواہ یہ کھلے عام ہوں یا نجی زندگی میں کیے جائیں۔

'وی اے ڈبلیو جی' کے نفسیاتی، جنسی اور تولیدی صحت پر منفی اثرات خواتین کو زندگی کے ہر مرحلے پر متاثر کرتے ہیں اور یہ صورتحال کسی کو کسی بھی جگہ پیش آ سکتی ہے۔

علاوہ ازیں، یہ تشدد مساوات، ترقی، امن اور خواتین اور لڑکیوں کے انسانی حقوق کی تکمیل میں رکاوٹیں ڈالتا رہتا ہے اور سبھی کو مساوی مواقع کی فراہمی کے لیے پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے وعدے کو ایفا ہونے سے روکتا ہے۔