خواتین و لڑکیوں کے لیے اپنے ہی گھروں میں خطرہ، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انکشاف

ایکواڈور میں صنفی تشدد کے خلاف مظاہرے میں شریک ایک خاتون۔
© UN Women/Johis Alarcón
ایکواڈور میں صنفی تشدد کے خلاف مظاہرے میں شریک ایک خاتون۔

خواتین و لڑکیوں کے لیے اپنے ہی گھروں میں خطرہ، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انکشاف

خواتین

2021 میں ہر گھنٹے اوسطاً پانچ سے زیادہ خواتین یا لڑکیاں اپنے ہی خاندان کے کسی رکن کے ہاتھوں قتل ہوئیں۔ یہ بات اقوام متحدہ کے دو اداروں نے بدھ کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتائی ہے۔

منشیات اور جرائم سے متعلق اقوام متحدہ کے دفتر (یو این او ڈی سی) اور یو این ویمن کی جانب سے لیے گئے جائزے کے نتائج خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن سے پہلے جاری کیے گئے ہیں جو ہر سال 25 نومبر کو منایا جاتا ہے۔

Tweet URL

گزشتہ سال عمداً قتل کی جانے والی 81,000 خواتین اور لڑکیوں میں سے 45,000 یعنی تقریباً 56 فیصد اپنے ساتھیوں یا خاندان کے دیگر ارکان کے ہاتھوں ہلاک ہوئیں۔

اسی دوران دنیا بھر میں مردوں کے قتل کے تمام واقعات میں سے 11 فیصد خانگی ماحول میں ہوئے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سی خواتین اور لڑکیوں کے لیے گھر محفوظ جگہ نہیں ہے۔

اعدادوشمار نہیں، افراد

یو این ویمن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیما بحوث کا کہنا ہے کہ ''خواتین کے قتل سے متعلق تمام اعدادوشمار کے پیچھے ایک انفرادی خاتون یا لڑکی کی کہانی ہوتی ہے جسے بچانے میں ناکامی ہوئی۔ یہ اموات روکی جا سکتی ہیں، اس مقصد کے لیے درکار ذرائع اور علم پہلے ہی موجود ہے۔''

یہ رپورٹ اس بات کی خوفناک یاد دہانی ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد دنیا بھر میں انسانی حقوق کی انتہائی عام خلاف ورزیوں میں سے ایک ہے۔

اعدادوشمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین کے قتل کی مجموعی تعداد گزشتہ دہائی میں بڑی حد تک ایک سی رہی ہے اور اس سے ان واقعات کی روک تھام کے لیے مضبوط اقدامات کی فوری ضرورت واضح ہوتی ہے۔

ہر متاثرہ کو شمار کریں

رپورٹ کے مطابق اب بھی بڑی تعداد میں متاثرین کو گنا ہی نہیں جاتا۔ 2021 میں قتل ہونے والی ہر 10 خواتین اور لڑکیوں میں سے کم و بیش چار کے حوالے سے ایسی خاطرخواہ معلومات دستیاب نہیں ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہو کہ انہیں ان کے قریب لوگوں نے ارادتاً قتل کیا۔

یو این او ڈی سی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر غادہ والے کا کہنا ہے کہ ''کسی خاتون یا لڑکی کو اس وجہ سے اپنی جان جانے کا خوف نہیں ہونا چاہیے کہ وہ عورت ہے۔''

''خواتین کی صنف سے متعلق ہر طرح کی ہلاکتوں کو روکنے کے لیے ہمیں ہر جگہ ہر متاثرہ فرد کو گننے اور خواتین کو ان کے قریبی لوگوں سے لاحق ارادتاً قتل کے خطرات اور ایسے واقعات کے محرکات کے بارے میں سمجھ بوجھ کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ہم ایسے واقعات کی روک تھام اور جرائم کے خلاف انصاف کے اقدامات کو بہتر اور مزید موثر بنا سکیں۔''

ہر طرف یہی مسئلہ

اگرچہ خواتین کے ان کے قریبی لوگوں کے ہاتھوں ارادتاً قتل کا مسئلہ روئے زمیں پر ہر ملک میں پایا جاتا ہے تاہم اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعض جگہوں پر اس مسئلے کی شدت زیادہ ہے۔

2021 میں خانگی ماحول میں صنفی بنیاد پر ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد ایشیا میں سامنے آئی جبکہ خواتین اور لڑکیوں کو اپنے ہی ساتھیوں یا خاندان کے دیگر ارکان کے ہاتھوں قتل کا سب سے زیادہ خطرہ افریقہ میں پایا گیا۔

گزشتہ برس افریقہ میں ہر ایک لاکھ خواتین میں سے تقریباً 2.5 کو ان کے قریبی لوگوں نے قتل کیا۔ براعظم ہائے امریکہ میں یہ شرح 1.4، اوشیانا میں 1.2، ایشیا میں 0.8 اور یورپ میں 0.6 رہی۔

رپورٹ کے نتائج سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ 2020 میں کووڈ۔19 وباء کے آغاز کے ساتھ شمالی امریکہ اور کسی حد تک مغربی اور جنوبی یورپ میں نجی ماحول میں صنفی بنیاد پر ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔

صنفی تشدد کے خاتمے کے لیے ترکیہ میں لڑکیوں نے فٹبال میچ کھیلا۔
UN Women
صنفی تشدد کے خاتمے کے لیے ترکیہ میں لڑکیوں نے فٹبال میچ کھیلا۔

روک تھام اور عملی اقدامات

تاہم رپورٹ میں خاص طور پر کہا گیا ہے کہ صنفی بنیاد پر ہلاکتیں اور خواتین و لڑکیوں کے خلاف دیگر طرح کا تشدد ناگزیر نہیں ہے۔

ایسے جرائم روکے جا سکتے ہیں اور انہیں تشدد سے متاثرہ خواتین کی بروقت نشاندہی اور متاثرہ فرد کے لیے خاص طور پر مدد اور تحفظ کی فراہمی تک رسائی جیسے اقدامات کے امتزاج سے روکا جانا چاہیے۔

رپورٹ کی دیگر سفارشات میں نقصان دہ مردانہ رویوں اور سماجی روایات کو تبدیل کرنے اور نظام میں شامل صںفی عدم مساوات کے خاتمے سمیت اس مسئلے کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے کے اقدامات شامل ہیں۔

خواتین کی اپنے قریبی لوگوں کے ہاتھوں ارادتاً ہلاکتوں کے بارے میں معلومات جمع کرنے کے عمل کو بہتر بنانا بھی ایک اہم قدم ہے جس کی بدولت متعلقہ پالیسیوں اور پروگراموں کی تشکیل کے لیے درکار آگاہی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

سیما بحوث نے کہا کہ ''خواتین کے حقوق کی تنظیمیں پہلے ہی اس حوالے سے معلومات کا جائزہ لے رہی ہیں اور پالیسی میں تبدیلیوں اور احتساب کی وکالت میں مصروف ہیں۔''

''اب ہمیں معاشرے کے تمام طبقات کی مشترکہ کاوشیں درکار ہیں تاکہ خواتین اور لڑکیوں کے اپنے گھر، سڑک پر اور ہر جگہ خود کو محفوظ سمجھنے کے حق کی تکمیل ہو سکے۔''

یہ رپورٹ صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف تحرک کے 16 ایام کی مہم میں اس مسئلے کی شدت اور اس پر قابو پانے سے متعلق آگاہی مہیا کرے گی۔

یہ سالانہ بین الاقوامی مہم 25 نومبر کو خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن پر شروع ہو کر 10 دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی دن پر ختم ہوتی ہے۔