آٹھ ارب لوگ ایک انسانیت، طب اور سائنس کی بدولت ترقی کا ایک سنگِ میل

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع شہید بے نظیرآباد کے ایک گاؤں میں بچے کھیل کود میں مشغول ہیں۔
© UNICEF/Shehzad Noorani
پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع شہید بے نظیرآباد کے ایک گاؤں میں بچے کھیل کود میں مشغول ہیں۔

آٹھ ارب لوگ ایک انسانیت، طب اور سائنس کی بدولت ترقی کا ایک سنگِ میل

پائیدار ترقی کے اہداف

آئندہ ہفتے دنیا کی آبادی آٹھ ارب ہو جائے گی جسے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ''سائنسی کامیابیوں اور غذائیت، صحت عامہ اور نکاسی آب کے شعبوں میں آنے والی بہتری کا ثبوت'' قرار دیتے ہیں۔

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اس سنگ میل کی آمد سے قبل اپنے ایک اخباری مضمون میں خبردار کیا ہے کہ ''انسانی خاندان بڑھنے کے ساتھ مزید تقسیم بھی ہو رہا ہے۔'' انہوں نے حوالہ دیا کہ اربوں لوگ زندگی کرنے کے لیے کڑی جدوجہد کر رہے ہیں، کروڑوں کو بھوک کا سامنا ہے اور ماضی سے کہیں بڑی تعداد میں لوگ قرض، مشکلات، جنگوں اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے چھٹکارا پانے کے لیے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔

Tweet URL

انہوں نے کہا کہ ''جب تک ہم عالمی سطح پر امیروں اور غریبوں کے مابین پایا جانے والا بہت بڑا فاصلہ نہیں مٹاتے اس وقت تک 8 ارب آبادی پر مشتمل ہماری دنیا کو تناؤ، بداعتمادی، بحرانوں اور جنگوں کا سامنا رہے گا۔''

عدم مساوات میں تیز رفتار اضافہ

سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ چند ارب پتی لوگوں کے پاس پوری دنیا کے نصف غریب ترین لوگوں کے برابر دولت ہے جبکہ دنیا کی بیس فیصد آمدنی امیر ترین ایک فیصد لوگوں کی جیب میں جاتی ہے۔

امیر ترین ممالک کے لوگوں کو غریب ترین ممالک میں رہنے والے لوگوں کے مقابلے میں 30 برس زیادہ جینے کی توقع ہوتی ہے۔

گوتیرش نے تیزی سے بڑھتے موسمیاتی بحران اور کووڈ کے بعد غیرمساوی بحالی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ''حالیہ دہائیوں میں جہاں دنیا پہلے سے زیادہ امیر اور صحت مند ہو گئی ہے وہیں عدم مساوات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔''

''گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج اور عالمی حدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ہم سیدھے موسمیاتی تباہی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ سیلاب، طوفان اور قحط ایسے ممالک کو تباہ کر رہے ہیں جن کا عالمی حدت بڑھانے میں تقریباً کوئی کردار نہیں ہے۔''

گوتیرش نے مزید کہا کہ جوہری اسلحے کے خاتمے سے دہشت گردی اور عالمگیر صحت تک بہت سے مسائل کے حل میں تاخیر اور تعطل کے نتیجے میں ''ترقی یافتہ ممالک کے خلاف غصہ اور آزردگی'' خطرناک حدود کی جانب بڑھ رہی ہے۔

''ہمیں ان نقصان دہ رحجانات کا خاتمہ کرنا، تعلقات کو دوبارہ بہتر بنانا اور اپنے مشترکہ مسائل کے مشترکہ حل تلاش کرنا ہوں گے۔''

'بے قابو عدم مساوات' کی روک تھام

اقوام متحدہ کے سربراہ نے یاد دلایا کہ ''بے قابو عدم مساوات ہمارا اپنا انتخاب ہے'' اور ترقی یافتہ ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ مصر میں جاری اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس کاپ 27 اور آئندہ منگل کو بالی میں ہونے والی جی20 کانفرنس کے موقع پر اس صورتحال میں تبدیلی لانے کے لیے کام کریں۔

انہوں ںے کہا کہ ''مجھے امید ہے کہ کاپ 27 میں موسمیاتی معاملے پر یکجہتی کا ایک تاریخی معاہدہ طے پائے گا جس کے تحت ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی معیشتیں ایک مشترکہ حکمت عملی کے گرد متحد ہوں گی اور اپنی مشترکہ صلاحیتوں اور وسائل کو انسانیت کی بھلائی کے لیے بروئے کار لائیں گی۔''

گوتیرش کا کہنا تھا کہ ''ہماری واحد امید'' امیر ممالک کی جانب سے ابھرتی ہوئی اہم معیشتوں کو معدنی ایندھن سے ماحول دوست توانائی کی جانب منتقلی کے لیے مالیاتی اور تکنیکی مدد کی فراہمی پر منحصر ہے۔

انہوں ںے دنیا کے رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ کرہ ارض کے جنوب میں واقع ممالک کو موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے ایک لائحہ عمل اور ادارہ جاتی فریم ورک پر اتفاق کریں۔ یہ نقصانات پہلے ہی بہت بڑے پیمانے پر مصائب کا باعث بن رہے ہیں۔

انہوں ںے قرار دیا کہ ایسی حکومتوں کو قرض سے چھٹکارا پانے اور اس کی ترتیب نو میں مدد دینے کے لیے جی20 اجلاس میں ایک ترغیبی پیکیج اپنایا جا سکتا ہے۔

دنیا کی آبادی کو 7 سے 8 ارب تک پہنچنے میں 12 سال سے کچھ زیادہ عرصہ لگا لیکن اسے 2037 میں 9 ارب تک پہنچنے میں 15 برس لگیں گے۔
World Bank/Hendri Lombard
دنیا کی آبادی کو 7 سے 8 ارب تک پہنچنے میں 12 سال سے کچھ زیادہ عرصہ لگا لیکن اسے 2037 میں 9 ارب تک پہنچنے میں 15 برس لگیں گے۔

غذائی عدم تحفظ

یوکرین میں جنگ کے نتیجے میں خوراک، توانائی اور مالیات کے حالیہ بحران میں شدت آ رہی ہے جس سے ترقی پذیر معیشتیں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں اور کرہ ارض کے جنوبی حصے کو بھاری قرضوں، بڑھتی ہوئی غربت اور بھوک اور موسمیاتی بحران کے شدت اختیار کرتے اثرات کا سامنا ہے۔

انہوں ںے کہا کہ اقوام متحدہ کی ثالثی میں طے پانے والا بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کا اقدام عالمگیر غذائی بحران میں کمی لانے، بھوک پر قابو پانے اور زندگیاں بچانے کا ایک بنیادی ذریعہ ہے۔

مواقع میسر ہیں

انہوں نے کہا کہ ''ان مسائل کے ہوتے ہوئے ''8 ارب آبادی پر مشتمل ہماری مضبوط دنیا بعض ایسے غریب ترین ممالک کے لیے بے پایاں مواقع پیدا کر سکتی ہے جہاں آبادی میں اضافہ بلند ترین سطح پر ہے۔''

انہوں ںے کہا کہ صحت، تعلیم، صںفی مساوات اور پائیدار معاشی ترقی کے شعبوں میں قدرے محدود سرمایہ کے ذریعے ہی آج کے غریب ترین ممالک اپنے ہاں پائیدار اور ماحول دوست ترقی و خوشحالی لا سکتے ہیں۔

سیکرٹری جنرل کے مطابق ''اس مہینے عالمی رہنماؤں کی بڑے پیمانے پر ملاقاتوں سے فاصلے مٹانے اور اعتماد بحال کرنے کا کام لیا جانا چاہیے جس کی بنیاد انسانیت کے آٹھ ارب افراد پر مشتمل خاندان کے ہر فرد کے لیے مساوی حقوق اور آزادیوں پر ہو۔''  

آٹھ ارب افراد پر مشتمل مضبوطی

اسی دوران اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (یو این ایف پی اے) کی #8BillionStrong مہم نے آٹھ ارب افراد پر مشتمل دنیا کے آٹھ رحجانات کے حوالے سے آگاہی پر مبنی مواد کی فراہمی کے ذریعے ایک نیا سنگ میل عبور کیا ہے۔

ان رحجانات میں سست رو ترقی، کم بچے، طویل زندگیاں، لوگوں کی نقل مکانی، معمر آبادی، اوسط عمر میں خواتین کی مردوں پر برتری، دو وبائیں اور آبادی کے تبدیل ہوتے مراکز شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے نے کہا ہے کہ دنیا کے مختلف حصے مختلف شرح سے ترقی کر رہے ہیں تو ایسے میں عالمی آبادی کی جغرافیائی تقسیم میں بھی تبدیلی آ رہی ہے۔

اس سال تک دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی ایشیا میں تھی جہاں مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا کے بیشتر لوگ انڈیا اور چین میں آباد ہیں جن کی تعداد 2.3 ارب ہے۔

آبادی میں اضافے سے متعلق حقائق

  • دنیا کی آبادی کو 7 سے 8 ارب تک پہنچنے میں 12 سال سے کچھ زیادہ عرصہ لگا لیکن اسے 2037 میں 9 ارب تک پہنچنے میں 15 برس لگیں گے۔
  • چونکہ بلند شرح پیدائش والے ممالک میں فی کس آمدنی کی شرح کم ترین ہے اس لیے عالمی سطح پر آبادی میں اضافہ دنیا کے غریب ترین ممالک میں ہو رہا ہے۔
  • آبادی میں اضافے سے معاشی ترقی پر ماحولیاتی اثرات میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے اور بڑھتی ہوئی فی کس آمدنی غیرمستحکم پیداوار اور کپھت کو بڑھا دیتی ہے۔
  • کئی دہائیوں تک آبادی میں سست رو اضافے سے موجودہ صدی کے دوسرے نصف میں ماحولیاتی نقصان کو محدود رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔