دنیا کی آبادی ہوئی آٹھ ارب، اقوام متحدہ نے اسے قرار دیا ایک سنگِ میل

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق دنیا کی آبادی 2037 میں نو ارب ہو جائے گی۔
© UNICEF/Stuart Tibaweswa
اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق دنیا کی آبادی 2037 میں نو ارب ہو جائے گی۔

دنیا کی آبادی ہوئی آٹھ ارب، اقوام متحدہ نے اسے قرار دیا ایک سنگِ میل

پائیدار ترقی کے اہداف

اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ نے کہا ہے کہ منگل کو منایا جانے والا '8 ارب کا دن' انسان کی درازی عمر کے حوالے سے ایک سنگ میل اور ''صحت عامہ کے شعبے میں ہونے والی نمایاں ترقی کی علامت'' ہے تاہم یہ بدترین صورت اختیار کرتی معاشی عدم مساوات اور ماحولیاتی نقصان کے حوالے سے ایک لمحہِ فکریہ بھی ہے۔

اگرچہ انسانی صحت کو لاحق خطرات میں کمی اور زندگی کے دورانیے میں اضافہ قابل ستائش ہے لیکن یہ موقع ہم سے اعدادوشمار سے ہٹ کر دیکھنے اور حکومتوں سے لوگوں اور کرہ ارض کے تحفظ کی ذمہ داری لینے کا تقاضا بھی کرتا ہے اور اس حوالے سے اقدامات کا آغاز انتہائی غیرمحفوظ لوگوں کی مدد سے ہونا چاہیے۔

Tweet URL

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے خبردار کیا ہے کہ ''جب تک ہم عالمی سطح پر امیروں اور غریبوں کے مابین پایا جانے والا بہت بڑا فرق ختم نہیں کرتے اس وقت تک 8 ارب آبادی پر مشتمل ہماری دنیا کو تناؤ، بداعتمادی، بحرانوں اور جنگوں کا سامنا رہے گا۔''

متنوع لوگوں کی دنیا

اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ یو این ایف پی اے کے مطابق 2080 کی دہائی میں دنیا کی آبادی 10.4 ارب کے قریب ہو گی اور اس میں اضافہ ہو رہا ہو گا تاہم مجموعی شرح نمو سست ہوتی جا رہی ہے۔

ہماری زمین آبادی کے اعتبار سے ماضی کی نسبت کہیں زیادہ متنوع ہو گئی ہے اور ممالک اور خطے آبادی میں اضافے اور کمی کے حوالے سے ایک دوسرے سے یکسر مختلف رحجانات کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔

مثال کے طور پر آج دنیا کی دو تہائی آبادی ایسی جگہوں پر رہتی ہے جہاں خواتین میں بچے پیدا کرنے کی فی کس شرح 2.1 فیصد سے کم ہے جبکہ اسی دوران دنیا کے غریب ترین ممالک میں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے جن میں بیشتر ذیلی صحارا افریقہ میں واقع ہیں۔

یو این ایف پی اے کی سربراہ نتالیہ کانیم نے کہا ہے کہ ''دنیا کی آبادی 8 ارب کو پہنچنا انسانیت کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے اور یہ زندگی کے طویل دورانیوں، غربت میں کمی اور زچہ و بچہ کی اموات کی شرح محدود ہو جانے کا نتیجہ ہے۔ تاہم، اگر اس حوالے سے صرف اعدادوشمار کو ہی دیکھا جائے تو ہم اس حقیقی مسئلے کو نظرانداز کر بیٹھیں گے جو ہمیں درپیش ہے کہ ہمیں ایسی دنیا بنانی ہے جس میں تمام لوگ مساوی اور پائیدار طور سے ترقی کر سکیں۔''

ہر جگہ ایک ہی حل ممکن نہیں

دنیا میں کہیں آبادی بڑھ رہی ہو یا اس میں کمی آ رہی ہو، ہر ملک کے پاس اپنے شہریوں کا معیار زندگی بہتر بنانے اور انتہائی پسماندہ لوگوں کی حالت بدلنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔

ہم ایک ایسی دنیا میں سبھی کو درپیش مسائل ایک ہی طریقے سے حل نہیں کر سکتے جہاں یورپ میں وسطی عمر 41 اور ذیلی صحارا افریقہ میں 17 ہے۔''

''کامیابی کے لیے تولیدی حقوق کو آبادی کے حوالے سے تمام پالیسیوں کی بنیاد ہونا چاہیے، لوگوں اور کرہ ارض پر سرمایہ کاری کی جانی چاہیے اور یہ تمام کام ٹھوس معلومات کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔''

آبادی اور عالمی حدت میں اضافے کے مابین پیچیدہ ربط

اگرچہ یہ دن انسانیت کی کامیابی کی داستان سناتا ہے تاہم یہ آبادی میں اضافے، غربت، موسمیاتی تبدیلی اور پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے حصول کے حوالے سے خدشات بھی سامنے لاتا ہے۔

آبادی میں تیزرفتار اضافہ غربت کے خاتمے، بھوک اور غذائی قلت پر قابو پانے اور صحت و تعلیم کے نظام تک زیادہ سے زیادہ لوگوں کی رسائی کو مشکل بنا دیتا ہے۔

اس سے برعکس، خصوصاً صحت، تعلیم اور صنفی مساوات سے متعلق پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول دنیا بھر میں آبادی میں اضافے کی رفتار سست کرنے میں مدد دے گا۔

اگرچہ کئی دہائیوں تک آبادی میں سست رفتار اضافے سے ماحولیاتی انحطاط کو محدود رکھنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم آبادی میں اضافے کو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافے کے ساتھ یکجا کرنے سے یہ حقیقت نظرانداز ہو جاتی ہے کہ سب سے زیادہ معدنی ایندھن استعمال کرنے والے اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے اعتبار سے بڑے ممالک وہ ہیں جہاں آبادی میں اضافہ پہلے ہی سست رفتار ہے یا جہاں آبادی سرے سے ہی نہیں بڑھ رہی۔

اقوام متحدہ میں معاشی و سماجی امور کے شعبے کے سربراہ لی جونہوا نے کہا ہے کہ ''ہمیں پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرتے ہوئے پیرس معاہدے کے مقاصد کے حصول کے لیے اپنی کوششوں کو بھی تیز کرنا ہو گا۔''

دنیا کی آبادی میں سب سے زیادہ اضافہ غریب ترین ممالک میں ہو رہا ہے جہاں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی شرح نمایاں طور سے کم ہے لیکن وہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے غیرمتناسب طور سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

لی نے کہا کہ ''ہمیں اپنی معاشی سرگرمیوں کا معدنی ایندھن سے حاصل ہونے والی توانائی پر انحصار تیزی سے ختم کرنا ہو گا اور اس کے ساتھ ان ذرائع کے استعمال کو مزید بہتر بنانا ہو گا۔ ہمیں اس حوالے سے ایک منصفانہ اور جامع تبدیلی لانا ہے تاکہ ایسے ممالک کو مدد مل سکے جو پہلے ہی بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔''

حقوق پر مبنی مستقبل

اقوام متحدہ کے ادارے نے دنیا کی تمام آٹھ ارب آبادی کو ترقی پانے میں مدد دینے کے لیے انسانی حقوق کو ترجیح دیتے ہوئے عالمگیر مسائل میں کمی لانے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کی ضرورت پر زور دیا۔

اس مقصد کے لیے رکن ممالک اور عطیہ دہندہ حکومتوں کی جانب سے ایسی پالیسیوں اور پروگراموں پر سرمایہ کاری میں اضافے کی ضرورت ہے جن کی بدولت دنیا کو محفوظ، مزید مستحکم اور مشمولہ بنایا جا سکے۔

یو این ایف پی اے کا کہنا ہے کہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول، انسانی حقوق کی فراہمی اور سبھی کو ساتھ لے کر چلنے سے ہم ایک ایسی دنیا تخلیق کر سکتے ہیں جہاں تمام آٹھ ارب لوگ ترقی کریں۔