صحت

2021 میں دنیا بھر میں 761 ملین لوگوں کی عمر 65 سال اور اس سے زیادہ تھی جو 2050 تک 1.6 بلین ہو جائے گی۔
© UNFPA China

بڑھاپے میں سماجی تحفظ کا ازسرِنو جائزہ لیں: یو این رپورٹ

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس صدی کے وسط تک 65 سال اور اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کی کی تعداد متوقع طور پر دو گنا بڑھ جائے گی اور اسی لیے پائیدار مستقبل کے حصول کی کوششوں میں معمر افراد کے حقوق اور بہبود کو ترجیح دینا ہو گی۔

کابل میں یو این ایف پی اے کے تحت کام کرنے والا خواتین کی صحت کا ایک مرکز۔
UNFPA Afghanistan

بحران زدہ خواتین و لڑکیوں کی صحت کے لیے 1.2 ارب ڈالر مدد کی اپیل

دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی امدادی ضروریات کے ہوتے ہوئے اقوام متحدہ میں جنسی و تولیدی صحت کے ادارے نے بحرانوں سے متاثرہ 65 ممالک میں چھ کروڑ 60 لاکھ خواتین، لڑکیوں اور نوجوانوں کے لیے 1.2 ارب ڈالر امداد کی اپیل کی ہے۔

یورپ اور شمالی امریکہ کے ممالک میں گزشتہ برس سب سے زیادہ حرارے استعمال کیے گئے جن کی مقدار 3,540 روزانہ تھی
Unsplash/Christopher William

حراروں کے روزانہ استعمال میں یورپ اور امریکہ ایک بار پھر آگے

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) نے اعدادوشمار پر مبنی اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا ہے کہ دنیا بھر میں لیے جانے والے حراروں (کیلریز) کی فی کس شرح پورے نو فیصد اضافے کے بعد گزشتہ برس اوسطاً 2,960 روزانہ رہی۔

نائیجریا میں سکول کی لڑکیاں ٹوائلٹ استعمال کرتے ہوئے۔
© UNICEF/Adzape

سب کے لیے حفظان صحت کا اقوام متحدہ کا منصوبہ

19 نومبر کے ورلڈ ٹوائلٹ ڈے سے پہلے اقوام متحدہ کا چلڈرن فنڈ (یونیسف) ایک نیا تدبیراتی منصوبہ شروع کر رہا ہے جس کا مقصد حکومتوں کو اپنے لوگوں کے لیے نکاسی آب کے محفوظ انتظام میں مدد دینا اور پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) میں نکاسی آب کے حوالے سے دیے گئے ہدف کو حاصل کرنا ہے۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق دنیا کی آبادی 2037 میں نو ارب ہو جائے گی۔
© UNICEF/Stuart Tibaweswa

دنیا کی آبادی ہوئی آٹھ ارب، اقوام متحدہ نے اسے قرار دیا ایک سنگِ میل

اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ نے کہا ہے کہ منگل کو منایا جانے والا '8 ارب کا دن' انسان کی درازی عمر کے حوالے سے ایک سنگ میل اور ''صحت عامہ کے شعبے میں ہونے والی نمایاں ترقی کی علامت'' ہے تاہم یہ بدترین صورت اختیار کرتی معاشی عدم مساوات اور ماحولیاتی نقصان کے حوالے سے ایک لمحہِ فکریہ بھی ہے۔

انڈونیشیا میں صحتِ عامہ کی ایک کارکن ایک خاتون کو مانع حمل طریقوں کے بارے میں بتا رہی ہیں۔
© UNICEF/Shehzad Noorani

نئی خاندانی منصوبہ بندی گائیڈ خودمختاری، صحت، اور فلاح کا سبب

خود استعمال کی جانے والی مانع حمل اشیاء تک وسیع رسائی اور انہیں مہیا کرنے والوں کی جانب سے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال خاندانی منصوبہ بندی پر عالمی ادارہ صحت کے تازہ ترین رہنماء کتابچے میں بیان کردہ بہت سے ٹھوس اقدامات میں سے ایک ہیں۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع شہید بے نظیرآباد کے ایک گاؤں میں بچے کھیل کود میں مشغول ہیں۔
© UNICEF/Shehzad Noorani

آٹھ ارب لوگ ایک انسانیت، طب اور سائنس کی بدولت ترقی کا ایک سنگِ میل

آئندہ ہفتے دنیا کی آبادی آٹھ ارب ہو جائے گی جسے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ''سائنسی کامیابیوں اور غذائیت، صحت عامہ اور نکاسی آب کے شعبوں میں آنے والی بہتری کا ثبوت'' قرار دیتے ہیں۔

ورزش مجموعی طور پر مفید ثابت ہوتی ہے۔
Unsplash/Jonathan Borba

ورزش شروع کریں، پچاس کروڑ افراد کے دائمی امراض میں مبتلا ہونے کے خطرے پر عالمی ادارہِ صحت کا انتباہ

عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر دنیا بھر میں حکومتوں نے ورزش کے فوائد کو فروغ دینے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے تو 2020 اور 2030 کے درمیان تقریباً 500 ملین لوگوں کو جسمانی غیرفعالیت کے سبب دل کی بیماریاں، موٹاپا، ذیابیطس اور دیگر غیرمتعدی امراض (این سی ڈی) لاحق ہو جائیں گے۔

جنوبی ہیٹی میں یو این ایف پی اے کے تحت چلنے والے ایک ہسپتال میں مائیں اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگنے کی منتظر ہیں۔
© UNFPA/Ralph Tedy Erol

ہیٹی کو پہلی مرتبہ تباہ کن نوعیت کے قحط کا سامنا ہے، اقوام متحدہ کا انتباہ

اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف ڈبلیو او) اور اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل آنے والے بحرانوں کے باعث ہیٹی کے کمزور اور غیرمحفوظ لوگوں کی مایوسی بڑھتی جا رہی ہے جنہیں خوراک، ایندھن، منڈیوں، نوکریوں اور خدمات عامہ تک رسائی نہیں رہی۔

یمن میں غذائی قلت کا شکار ایک بچہ علاج کی غرض سے تیارکردہ خوراک لیتے ہوئے۔
© UNICEF/Anwar Al-Haj

خوراک کا عالمی دن: غذائی و موسمیاتی بحران میں آئندہ برس بھی بدترین بھوک پھیلنے کا خدشہ

ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے خبردار کیا ہے کہ خوراک کا بحران مزید لوگوں کو شدید غذائی عدم تحفظ کے بدترین حالات کا شکار بنا رہا ہے اور ایسے میں خدشہ ہے کہ آئندہ برس دنیا کو پہلے سے کہیں زیادہ بھوک کا سامنا ہو سکتا ہے۔