بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے معاہدے سے روس کی دستبرداری پر سلامتی کونسل میں بحث

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش استنبول میں ترک صدر رجب طیب اردگان کے ساتھ بحیرۂ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے بیٹھے ہیں۔
UNIC Ankara/Levent Kulu
سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش استنبول میں ترک صدر رجب طیب اردگان کے ساتھ بحیرۂ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے بیٹھے ہیں۔

بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے معاہدے سے روس کی دستبرداری پر سلامتی کونسل میں بحث

امن اور سلامتی

یوکرین سے اناج اور اس سے متعلقہ غذائی اشیا کی برآمد کے اہم معاہدے کو حالیہ جنگ اور دنیا بھر میں رہن سہن کے اخراجات کے بحران کے ہوتے ہوئے برقرار رکھا جانا چاہیے۔ یہ بات اقوام متحدہ کے دو اعلیٰ سطحی حکام نے سوموار کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہی۔

روس نے بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے لیے اقوام متحدہ کی ثالثی میں طے پانے والے اقدام میں اپنی شمولیت معطل کرنے کے فیصلے کے بعد یہ اجلاس بلانے کی درخواست کی تھی۔ روس نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر اپنے بحری جہازوں کے خلاف یوکرین کے مبینہ حملوں کے ردعمل میں اس معاہدے میں اپنی شمولیت ''غیرمعینہ مدت تک'' معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں ہنگامی امداد سے متعلق اقوام متحدہ کے رابطہ کار مارٹن گرفتھس اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی (یو این سی ٹی اے ڈی) کی سربراہ ریبیکا گرینسپین نے سفیروں کو اس حوالے سے ہونے والی پیش رفت اور اب تک اس کے نتائج سے آگاہ کیا۔

متعدد حکومتوں کے خدشات

اس موقع پر گرفتھس کا کہنا تھا کہ ''یوکرین سے اناج کی برآمدات غذائی امداد کی کارروائی نہیں ہے۔ یہ برآمدات خوراک کی قیمتوں پر گہرا اثر مرتب کرتی ہیں اور ان کے مثبت اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ سلامتی سے متعلق نئے الزامات سیکرٹری جنرل کے لیے کڑی تشویش کا باعث ہیں اور اور بہت سے رکن ممالک کو اب پریشانی لاحق ہے کہ یہ معاہدہ خطرے میں پڑ گیا ہے۔''

دنیا بھر میں برآمد ہونے والی تقریباً 30 فیصد گندم اور جو، بیس فیصد مکئی اور تقریباً نصف سن فلاور آئل روس اور یوکرین سے آتے ہیں۔

روس کھادیں برآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بھی ہے جس کا کھادوں کی عالمی برآمدات میں 15 فیصد حصہ ہے۔

جولائی میں استنبول میں ہونے والے ایک اجلاس میں اقوام متحدہ، یوکرین، روس اور ترکیہ نے بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے اقدام پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت یوکرین کی تین بندرگاہوں سے اناج لے کر آنے والے جہاز بحیرہ اسود میں ایک متفقہ راہداری کے اندر سفر کرتے ہوئے دنیا بھر کی منڈیوں تک پہنچتے ہیں۔

اقوم متحدہ اور روس نے اناج اور کھادوں کی برآمدات کے لیے ایک متوازی معاہدے پر دستخط بھی کیے۔

اقوام متحدہ تحقیقات کے لیے تیار

گرفتھس نے کہا کہ اگر بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے اقدام کو عسکری کارروائیوں میں فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کیا گیا تو یہ اس معاہدے کی ''سنگین خلاف ورزی'' ہو گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کو اس غیرمعمولی معاہدے پر عملدرآمد کے لیے فریقین کی مدد کرنے کا استحقاق ہے۔ سیکرٹریٹ کی حیثیت سے اقوام متحدہ اس معاہدے کے فریقین کے ساتھ مل کر اس حوالے سے تحقیقات کرنے اور درخواست کیے جانے پر تمام مطلوبہ شہادتیں مہیا کرنے کو تیار ہے۔

مزید برآں اس اقدام پر عملدرآمد کے طریقہ کار ''مشترکہ رابطہ مرکز'' (جے سی سی) نے، جو اس معاہدے پر دستخط کرنے والے چار ممالک کے نمائندوں پر مشتمل ہے، مخصوص واقعات اور کسی طرح کے حادثات سے نمٹنے کے لیے متفقہ طریقہ ہائے کار وضع کر رکھے ہیں۔

بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کی بحالی کے معاہدے کے بعد پہلا مال بردار بحری جہاز خوراک لے کر روانہ ہوا۔
© UNOCHA/Levent Kulu
بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کی بحالی کے معاہدے کے بعد پہلا مال بردار بحری جہاز خوراک لے کر روانہ ہوا۔

متعین طریقہ کار

انہوں ںے کہا کہ ''یقیناً اسی لیے روس کی معطلی باعث تشویش ہے۔ چھوٹے بڑے واقعات حتیٰ کہ دوران جنگ اتفاق رائے پر پہنچنے کے لیے بھی جے سی سی میں محتاط طریقہ کار موجود ہے۔ جے سی سی کو احتیاط کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیرجانبدار کردار ادا کرنا چاہیے اور وہ کرتا ہے۔''

گرفتھس نے روس کے الزامات کے حوالے سے کہا کہ ''کسی فریق کی جانب سے اس اقدام کی معاونت کے لیے کوئی فوجی بحری جہاز، ہوائی جہاز یا کسی طرح کے عسکری ذرائع کا کوئی کردار ہے اور نہ رہا ہے۔''

اس اقدام کے تحت جو بحری جہاز بحیرہ اسود میں مخصوص راہداری سے گزرتے ہیں وہ ''محض نقشے پر بنائے گئے خطوط'' ہیں اور اسے کسی طرح کی جارحانہ یا دفاعی عسکری کارروائی کے ذریعے کوئی آڑ یا تحفظ نہیں دیا جاتا۔

گرفتھس نے جنگی مقاصد کے لیے تجارتی بحری جہازوں کو استعمال کرنے کے الزامات کی تردید بھی کی۔ انہوں ںے کہا کہ جس رات یہ حملہ ہونے کی بات کی گئی ہے اس وقت راہداری میں کوئی بحری جہاز محو سفر نہیں تھا اور اختتام ہفتہ پر کسی بحری جہاز کی جانب سے ایسے کسی واقعے کی اطلاع نہیں دی گئی۔

خوراک کی نقل و حمل

دریں اثنا یوکرین کی بندرگاہوں سے کچھ سامان بھیجے جانے اور اندازاً 100 ایسے بحری جہازوں کے معائنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے گئے ہیں جو قطار میں کھڑے روانگی کے منتظر ہیں۔

امدادی اقدام کے سربراہ نے زور دے کر کہا کہ یوکرین اور روس سے اناج اور غذائی اشیا کی برآمدات ایسے ممالک کی بنیادی ضرورت ہیں جہاں لاکھوں لوگوں کو بھوک کا سامنا ہے اور ان کے لیے خوراک پر اٹھنے والے اخراجات برداشت کرنا مشکل ہے۔

انہوں نے کونسل کو بتایا کہ ''میں یہ بات بھی اچھی طرح واضح کر دوں کہ ہم تمام رکن ممالک سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ روس کے ساتھ باہمی مفاہمت کی یادداشت پر عملدرآمد میں مدد دینے کے لیے کام کریں، جس کی منظوری 22 جولائی کو دی گئی تھی، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ خوراک اور کھاد پر مشتمل اس کی اپنی برآمدات فوری طور پر عالمی منڈیوں تک پہنچ سکیں۔''

معاہدوں کے اثرات

 

گرینسپین نے اپنی بریفنگ میں اسی پیغام کو اجاگر کیا۔ جب سے دونوں معاہدوں پر دستخط ہوئے اس وقت سے یوکرین اور روس سے اناج کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور مسلسل چھ مہینوں تک خوراک کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔

تاہم اس اقدام کے جاری رہنے سے متعلق غیریقینی صورتحال کے باعث خورک کی قیمتیں ایک مرتبہ پھر بڑھنے لگی ہیں اور سوموار کو ہی گندم کی قیمت میں چھ فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے ''کھاد کی قلت'' کے بارے میں بھی خبردار  کیا جس کی بھاری قیمتیں کسانوں پر اثرانداز ہو رہی ہیں اور اس سے چاول جیسی بنیادی ضرورت کی دیگر خوراک کی دستیابی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

انہوں ںے بتایا کہ اس مسئلے کے حل ڈھونڈںے پرتوجہ مرکوز کی جا رہی ہے تاکہ اہم منڈیوں کو روس کی کھاد تک رسائی مل سکے۔

پابندیوں کا کردار

گرینسپین نے ویڈیو لنک کے ذریعے بات کرتے ہوئے کہا کہ ''پابندیوں کی حد سے زیادہ تعمیل، ساکھ سے متعلق خدشات اور منڈی کی جانب سے گریز کے رحجان کو ہم نے نجی شعبے پر پابندیوں کا ''خوفناک اثر'' قرار دیا ہے اور یہ تاحال اس مسئلے پر قابو پانے کی راہ میں حقیقی رکاوٹ ہیں۔''

ان کا کہنا تھا کہ ''روس سے خوراک اور کھادوں کی برآمدات کے لیے انشورنس پریمیئم پر لین دین کے اخراجات، مالیاتی ادائیگیوں، اشیا کی ترسیل اور نقل و حمل پر اٹھنے والے اخراجات بہت زیادہ ہیں جس کے باعث عالمی سطح پر خوراک اور کھاد کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔

'انتہائی کڑے مذاکرات'

اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ امریکہ، یورپی یونین، برطانیہ اور دیگر ممالک نیز نجی شعبے کے ساتھ اس حوالے سے ''نہایت کڑی بات چیت'' ہوتی رہی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ''ان چیزوں کو پابندیوں سے حاصل واضح استثنیٰ کے باوجود ابھی بہت سا کام کرنا باقی ہے۔''

''اس حوالے سے مختلف طرح کی پابندیوں میں خوراک اور کھادوں کو حاصل استثنیٰ کو مزید واضح کرنے، خوراک اور کھادوں کی تجارت پر براہ راست پابندیوں سے نمٹنے اور اس معاملے میں شمولیت کے لیے نجی شعبے کی رضامندی کو مزید بہتر بنانے کی خاص طور پر ضرورت ہے۔''

ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا: روس

اقوام متحدہ میں روس کے مستقل نمائندے ویسلے نیبنزیا نے بتایا کہ اگرچہ روس نے 29 اکتوبر کو اس اقدام میں اپنی شمولیت معطل کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن جے سی سی میں اس کی شرکت کے بغیر بھی کام ہوتا رہا ہے۔

انہوں ںے کونسل کو بتایا کہ ''ہمارے خیال میں ہمارے بغیر کسی اقدام پر عملدرآمد نہیں ہونا چاہیے تھا اور ہمارے بغیر لیے جانے والے فیصلے کی ہم پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔''

انہوں ںے مزید کہا کہ بحیرہ اسود ''بدستور جنگی علاقہ ہے'' اس لیے روس بحری جہازوں کا خود معائنہ کیے بغیر انہیں بلاروک ٹوک سفر کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا اور ہمیں خود ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن کی بدولت ہمیں اپنی رضامندی کے بغیر مشترکہ رابطہ مرکز کی جانب سے بھیجی جانے والی چیزوں کو روکنے اور ان کا جائزہ لینے کا موقع ملے۔''

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ماسکو پر دنیا میں بھوک کو بڑھانے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے تاہم ''واشنگٹن اور برسلز اس حقیقت پر خاموش ہیں کہ ان کی پابندیاں روس سے غذائی اشیا کی برآمد میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہیں۔''

نیبینزیا نے کہا کہ روس کے ماہرین کی جانب سے تفصیلی کوششوں کی بدولت بحیرہ اسود کے راستے خوراک کی ترسیل متاثر کن سطح پر پہنچ گئی تھی اور ہر ہفتے تقریباً دس لاکھ ٹن اناج برآمد ہونے لگا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ''اسی دوران ہمارے ملک سے غذائی اجناس اور کھادوں کی برآمد کو معمول پر لانے کے لیے روس اور اقوام متحدہ کی یادداشت پر پیش رفت کی رفتار تقریباً نہ ہونے کے برابر رہی۔''

ہمیں حیرت نہیں ہوئی: یوکرین

اقوام متحدہ میں یوکرین کے سفیر سرگئی کیلٹسیا نے کہا ہے کہ انہیں روس کے فیصلے پر ''افسوس ہے لیکن اس پر انہیں کوئی حیرت نہیں ہوئی۔''

ان کا کہنا تھا کہ ''یہ فیصلہ اچانک نہیں ہوا کیونکہ روس نے دنیا پر دباؤ ڈالنے اور اسے بلیک میل کرنے کے لیے خوراک کے بحران میں شدت لانے کے اقدامات کبھی ترک نہیں کیے۔''

سفیر نے کہا کہ قبل ازیں روس نے اس اقدام کو خیرباد کہنے کی دھمکی دی تھی اور ستمبر سے بحری جہازوں کا راستہ روکنا شروع کر دیا جو کہ جان بوجھ کر پیدا کی جانے والی رکاوٹ ہے جس سے سیکڑوں بحری جہاز متاثر ہوئے۔

انہوں ںے کہا کہ ''پیوٹن کے نمائندوں کی جانب سے بہائے جانے والے مگر مچھ کے آنسو ان کے آقاؤں کے گھٹیا طرزعمل اور دنیا کے مختلف حصوں میں لاکھوں لوگوں کی شدید غذائی ضروریات سے ان کی بے اعتنائی کو چھپا نہیں سکتے۔

انہوں نے اس خدشے کااظہار کیا کہ روس اپنے جھوٹے بیانیے کو فروغ دینےکے لیے کونسل سے ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے۔

یوکرین کے سفیر کا کہنا تھا کہ ''آج ہمیں ایک مرتبہ پھر روس کی جانب سے کونسل کو ناقابل اعتبار بنانے کی کوششوں کا سامنا ہے جو اسے مزید جھوٹ پھیلانے کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور یہ جھوٹ اس کے انہی مقاصد کی تکمیل کرتے ہیں کہ وہ یوکرین کے خلاف اپنی جارحیت، اپنے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم اور دنیا بھر میں خوراک کے بحران کو بڑھانے کے اقدامات پر پردہ ڈال سکے۔ یہ طرزعمل کونسل کی ساکھ کو منفی طور سے متاثر کر رہا ہے اور اسے روکا جانا چاہیے۔''