خوراک

اٹلی کے شہر روم میں تازہ سبزیوں کی ایک دوکان۔
© FAO/Victor Sokolowicz

کھانے کی عادات میں تبدیلی ترقیاتی اہداف کے حصول میں تیزی لا سکتی ہے: امینہ محمد

اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ محمد اور اٹلی کے نائب وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ اس سال جولائی میں اٹلی کے دارالحکومت روم میں ہونے والے ایک سہ روزہ اجلاس میں دنیا بھر کے نظام ہائے خوراک میں تبدیلی سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔

کانگو میں خوراک پیدا کرنے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔
© OCHA/Alioune NDIAYE

افریقہ میں خوراک کے بڑے بحران کے دوران پوپ فرانسس کا دورہ کانگو

اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ جمہوریہ کانگو کو افریقہ کے سب سے بڑے غذائی بحران کا سامنا ہے جہاں خوراک کی طلب بڑھتی جا رہی ہے اور اسے پورا کرنے کے لیے دستیاب مالی وسائل سکڑ رہے ہیں۔

مصنوعی چربی عام طور پر بیکری مصنوعات، خوردنی تیل، اور ڈبہ بند خوراک میں پائی جاتی ہے۔
© Unsplash/Viktor Forgacs

عالمی ادارہِ صحت کا مصنوعی چربی سے مکمل اجتناب کا مشورہ

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ غذا سے ٹرانس چکنائی کے خاتمے کے لیے حالیہ پیش رفت کے باوجود تقریباً پانچ ارب لوگ اب بھی اس کے نقصان دہ اثرات کے سامنے غیرمحفوظ ہیں جس سے ان میں دل کی بیماری اور موت کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

ایتھوپیا میں بچوں کو عالمی ادارہِ خوارک کے تحت سکولوں میں کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔
WFP/Michael Tewelde

خوراک کے عالمی بحران سے لاکھوں بچوں کی زندگیاں خطرے میں

اقوام متحدہ کے پانچ اداروں نے 15 ممالک میں غذائی قلت کا سامنا کرنے والے بچوں کو تحفظ دینے کے لیے فوری اقدامات کے لیے کہا ہے۔ یہ ممالک خوراک اور غذائیت کے شدید بحران سے متاثرہ ہیں جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔

یورپ اور شمالی امریکہ کے ممالک میں گزشتہ برس سب سے زیادہ حرارے استعمال کیے گئے جن کی مقدار 3,540 روزانہ تھی
Unsplash/Christopher William

حراروں کے روزانہ استعمال میں یورپ اور امریکہ ایک بار پھر آگے

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) نے اعدادوشمار پر مبنی اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا ہے کہ دنیا بھر میں لیے جانے والے حراروں (کیلریز) کی فی کس شرح پورے نو فیصد اضافے کے بعد گزشتہ برس اوسطاً 2,960 روزانہ رہی۔

سری لنکا میں کھادوں اور تیل کی کمیابی کی وجہ سے کھیت بیکار پڑے ہیں۔
© WFP/Josh Estey

ضرورتمندوں تک خوراک اور کھادوں کی فراہمی کے لیے ’بھرپور سفارتی کوششیں‘

روسی کمپنیوں کی عطیہ کردہ کھاد کی پہلی کھیپ ہالینڈ سے ملاوی روانہ ہو گئی ہے۔ یہ کھاد ایسے ممالک کو مہیا کی جا رہی ہے جو بڑھتے ہوئے عالمگیر غذائی عدم تحفظ سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ یہ بات اقوام متحدہ کے ترجمان نے منگل کو ایک بیان میں بتائی۔

یوکرین سے گندم سے ترکی میں بنے آٹے سے لدا مال بردار بحری جہاز بریو کمانڈر یمن کی بندرگاہ حدیدہ پر کھڑا ہے۔
© WFP/Mohammed Awadh

غذائی تحفظ کو خطرات کے پس منظر میں کھاد کی فراہمی میں کامیابی

اقوام متحدہ کی ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا ہے کہ یورپ کی بندرگاہوں میں پھنسی روس کی لاکھوں ٹن کھاد کی ممکنہ تقسیم کے معاملے میں ''کامیابی'' حاصل ہوئی ہے۔ آئندہ سال غذائی عدم تحفظ کے عالمگیر بحران سے بچنے کے لیے اس کھاد کی ترسیل ضروری ہے۔