انسانی کہانیاں عالمی تناظر

خوراک

سوڈان میں نقل مکانی پر مجبور لوگ ڈبلیو ایف پی کی طرف سے خوراک تقسیم ہونے کے منتظر ہیں۔
WFP

بھوک کے عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے 16.9 بلین ڈالر درکار

عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے بھوک کے بڑھتے ہوئے بحران پر قابو پانے کے لیے 16.9 ارب ڈالر کے وسائل مہیا کرنے کی اپیل کی ہے۔ دنیا اتنی رقم صرف دو ہفتے میں کافی پینے پر خرچ کر دیتی ہے۔

کولمبیا میں کافی کے اچھے بیجوں کی چھانٹی کی جا رہی ہے۔
UN Multi-Partner Trust Fund for Sustaining Peace in Colombia

چائے کافی کی بڑھتی قیمتوں سے خوراک کے اخراجات میں اضافہ

عالمی ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) نے بتایا ہے کہ چائے اور کافی جیسے گرم مشروبات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث رواں سال دنیا بھر میں خوراک پر اٹھنے والے مجموعی اخراجات 2 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔

صحت پر خوراک کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے 13 ایسے رجحانات کی نشاندہی ہوئی جن کے باعث پیدا ہونے والے طبی مسائل کے باعث خوراک سے وابستہ اخراجات غیرمعمولی طور پر بڑھ جاتے ہیں۔
Public Domain

غیر صحتمند خوراک کی سالانہ مخفی لاگت 12 ٹریلین ڈالر، ایف اے او

عالمی ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) نے بتایا ہے کہ دنیا بھر میں زرعی غذائی نظام کی زیادہ تر پوشیدہ لاگت کا تعلق امراض قلب، فالج اور زیابیطس جیسی غیر متعدی بیماریوں (این سی ڈی) کے باعث انسانی صحت پر پڑنے والے اثرات سے ہوتا ہے۔

غزہ میں جانے والی امداد میں کمی سے لوگوں کو اشیائے خوردونوش کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
© UNRWA

کئی ممالک کو شدید نوعیت کی بھوک کا سامنا، یو این ادارے

تشدد اور مسلح تنازعات کے باعث پیدا ہونے والی تباہ کن درجے کی شدید غذائی قلت آئندہ مہینوں میں لاکھوں لوگوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ ہیٹی، مالی، سوڈان، مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور جنوبی سوڈان میں یہ خطرہ سب سے زیادہ ہو گا۔

ایف اے او کے ڈائریکٹر جنرل کو ڈونگ روم میں اپنے ادارے کے ہیڈکوارٹر میں خوراک کے عالمی دن کے موقع پر ہونے والی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں۔
©FAO/Giuseppe Carotenuto

عالمی غذائی تحفظ پائیدار اور ہمہ گیر زراعت سے مشروط، ایف اے او چیف

اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) کے ڈائریکٹر جنرل کو ڈونگ یو نے کہا ہے کہ دنیا کو خوراک کی فراہمی کے لیے مزید موثر، مشمولہ، مضبوط اور پائیدار زرعی غذائی نظام درکار ہیں۔

مالی کے علاقے باوا کے ایک مرکز صحت پر بچوں کو غذائیت سے بھرپور کھانے کی اشیاء دی جا رہی ہیں۔
© UNICEF/Tiécoura N’Daou

جنگوں، وباء اور مہنگائی سے بھوک کے خلاف جدوجہد 15 سال پیچھے رہ گئی

عالمگیر بھوک پر قابو پانے کی جدوجہد میں ہونے والی پیش رفت کئی عوامل کے باعث 15 برس پیچھے چلی گئی ہے۔ گزشتہ سال دنیا بھر میں 73 کروڑ 30 لاکھ لوگوں کو خوراک کی قلت کا سامنا تھا۔ 

غزہ میں جانے والی امداد میں پچاس فیصد کمی سے لوگوں کو اشیائے خوردونوش کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
© UNRWA

جی سیون ممالک خود ساختہ قحط کو روک سکتے ہیں، مارٹن گرفتھس

اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے امدادی امور اور ہنگامی امداد کے چیف رابطہ کار مارٹن گرفتھس کا کہنا ہے کہ دنیا میں اس وقت چالیس سے زیادہ مقامات پر لوگوں کو قحط کا سامنا ہے لیکن اگر امیر ممالک اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں تو اس بحران سے نمٹا جا سکتا ہے۔

خوراک کی عدم دستیابی کا شکار فلسطینیوں میں کھانا تقسیم کیا جا رہا ہے۔
© UNRWA

غزہ، سوڈان، اور کئی دوسرے علاقوں میں قحط کا خطرہ، یو این ادارے

اقوام متحدہ کے اداروں نے بتایا ہے کہ گزشتہ برس 28 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو شدید درجے کی بھوک کا سامنا رہا اور غزہ سے سوڈان تک بہت سے خطوں میں قحط اور بڑے پیمانے پر اموات کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔