اقوام متحدہ کی کوششوں سے ہونے والی یوکرین کے اناج کی رسد نے خوراک کا بحران کم کیا ہے

یوکرین کی فیکٹری میں مکئی اتاری جا رہی ہے۔
© FAO/Genya Savilov
یوکرین کی فیکٹری میں مکئی اتاری جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی کوششوں سے ہونے والی یوکرین کے اناج کی رسد نے خوراک کا بحران کم کیا ہے

معاشی ترقی

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی (یو این سی ٹی اے ڈی) کی جمعرات کو شائع ہونے والی ایک نئی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کے زیرقیادت بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے اقدام نے کس طرح ان لاکھوں لوگوں کو امید مہیا کی ہے جو خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور جنگ زدہ یوکرین سے عام استعمال ہونے والی غذائی اجناس کی ترسیل میں کمی سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

'یو این سی ٹی اے ڈی' نے کہا ہے کہ اس اقدام کی ابتدائی مقررہ مدت کے اختتام کی تاریخ قریب آ رہی ہے تو اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ آئندہ ماہ اس کی تجدید کرنا کیوں ضروری ہے۔

جولائی میں یوکرین، روس اور ترکی کے اتفاق اور اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرش کے زیرقیادت شروع ہونے والے اس اقدام کی بدولت یوکرین میں سمندری راستے سے تجارتی سرگرمی میں اضافہ ہو رہا ہے اور اناج کی بڑی کھیپیں دنیا کی منڈیوں میں پہنچ رہی ہیں۔ روس سے اہم ضرورت کی کھادوں کی ترسیل میں اضافہ کرنا بھی اس معاہدے کا حصہ ہے۔

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش عالمی ادارہِ خوراک کے مال بردار بحری جہاز کو یوکرین سے اناج اٹھانے کے لیے استنبول سے روانہ ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔
UN Photo/Mark Garten
سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش عالمی ادارہِ خوراک کے مال بردار بحری جہاز کو یوکرین سے اناج اٹھانے کے لیے استنبول سے روانہ ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔

ضرورت مندوں کو خوراک کی فراہمی

19 اکتوبر تک اس اقدام کے ذریعے مجموعی طور پر 8 ملین میٹرک ٹن اناج اور دیگر غذائی اشیا برآمد کی جا چکی تھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ''اقوام متحدہ کے زیرقیادت اس اقدام سے عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں کو مستحکم کرنے اور پھر ان میں کمی لانے اور دنیا میں غذائی اجناس پیدا کرنے والے ایک بڑے ملک سے گراں قدر اناج کو ضرورت مندوں تک پہنچانے میں مدد ملی ہے۔''

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کی جانب سے شائع کردہ خوراک کی قیمتوں کے اشاریے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ مہینوں میں عالمی سطح پر عام استعمال کی خوراک سستی ہو گئی ہے۔ جولائی میں قیمتوں میں یہ کمی 8.6 فیصد، اگست میں قریباً دو فیصد اور ستمبر میں 1.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ نومبر میں اس اقدام کی مدت ختم ہو رہی ہے اور اس میں توسیع غیریقینی ہے جس سے بعض غذائی اجناس جیسا کہ گندم اور مکئی کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہو رہا ہے۔

'یو این سی ٹی اے ڈی' نے کہا ہے کہ اس اقدام کے بغیر خاص طور پر ترقی پذیر اور بہت کم ترقی یافتہ ممالک کو غذائی تحفظ کی فراہمی کی امید بہت کم رہ جائے گی۔

یوکرین پر روس کے حملے کے بعد ضروری اناج کی ترسیل کے راستے بند ہو گئے تھے اور یوکرین کی بندرگاہوں سے ہر ہفتے روانہ ہونے والے تجارتی بحری جہازوں کی تعداد میں کمی آ گئی تھی۔

اناج کی ترسیل بحال

اس اقدام کی بدولت یوکرین سے دنیا بھر میں اور خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کو اناج کی ترسیل بحال ہو گئی۔

اس اقدام کے ذریعے اب تک یوکرین کی بندرگاہوں سے آنے والے قریباً 8 ملین میٹرک ٹن اناج کا 70 فیصد مکئی اور گندم پر مشتمل ہے۔

اس میں قریباً 20 فیصد گندم بہت کم ترقی یافتہ ممالک (ایل ڈی سی) کو برآمد کی گئی ہے جہاں بہت بڑی آبادی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔

اس اقدام کے تحت اگست اور ستمبر میں ایسے ممالک کو برآمد کی جانے والی گندم کی مقدار دگنی ہو کر تقریباً نصف ملین ٹن تک پہنچ گئی تھی۔

تاہم اس سال جنوری اور ستمبر کے درمیان ان ممالک کو گندم کی مجموعی برآمد ایک ملین ٹن سے بھی کم رہی۔ اس طرح 2021 کے مقابلے میں برآمدی فرق 1.2 ملین ٹن رہا۔ برآمدات کو سابقہ سطح پر لے جانے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

قیمتوں میں کمی لانے کے اقدامات

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اس اقدام کی بدولت اناج کی دستیابی بڑھانے اور خوراک کی قیمتوں پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملی ہے۔ نتیجتاً اس سے دنیا بھر میں اور خاص طور پر غریب ترین اور کمزور ترین لوگوں کی خوراک تک رسائی میں اضافہ ہوا ہے۔

اس اقدام کے امکانات اور بحیرہ اسود کی بندرگاہوں کو دوبارہ کھولے جانے سے منڈی میں قیمتوں کو کم کرنے میں مدد ملی ہے جو اب تک کی بلند ترین سطح پر تھیں۔

تاہم قیمتوں میں اب دوبارہ اضافہ ہو رہا ہے۔ 'یو این سی ٹی اے ڈی' کی سیکرٹری جنرل ریبیکا گرینسپین نے کہا ہے کہ ''جب تجارت نہایت غیریقینی ہو تو اشاریے بہت اہم ہو جاتے ہیں۔ جب صورتحال غیرواضح ہو تو کسی کو علم نہیں ہوتا کہ اب کیا ہو گا اور ایسے میں قیاس آرائی اور ذخیرہ اندوزہ زور پکڑ لیتی ہے۔''

قیمتیں بلند ترین سطح پر برقرار ہیں

گندم اور مکئی کی قیمتیں بدستور تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ اس سے بنیادی ضرورت کی خوراک کی دستیابی مشکل ہو گئی ہے اور دنیا بھر میں غذائی تحفظ خطرے سے دوچار ہے۔

اس وجہ سے بھی اقوام متحدہ کے زیرقیادت س اقدام کی تجدید ترقی پذیر ممالک کے لیے ضروری ہے۔

اس رپورٹ کی تیاری میں بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے اقدام کے مشترکہ رابطہ مرکز نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔ یہ مرکز یوکرین، روس، ترکی اور اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی نمائندوں پر مشتمل ہے جو بحیرہ اسود میں یوکرین کی تین اہم بندرگاہوں سے دنیا کے دیگر ممالک تک اناج اور دیگر غذائی اشیا کی سمندری راستے سے محفوظ نقل و حمل یقینی بناتا ہے۔