وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری ایرانی سکیورٹی فورسز کو جوابدہ کرے

بائیس سالہ مھاسا امینی کی ایرانی پولیس کی تحویل میں ہلاکت کے خلاف لوگ کیلیفورنیا کے علاقے سانتا مونیکا میں مظاہرہ کر رہے ہیں۔
© Unsplash/Craig Melville
بائیس سالہ مھاسا امینی کی ایرانی پولیس کی تحویل میں ہلاکت کے خلاف لوگ کیلیفورنیا کے علاقے سانتا مونیکا میں مظاہرہ کر رہے ہیں۔

وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری ایرانی سکیورٹی فورسز کو جوابدہ کرے

خواتین

اقوام متحدہ کے ایک غیرجانبدار ماہر نے کہا ہے کہ ایران میں مظاہرین کے خلاف جاری ظالمانہ کارروائی کی مذمت کرنا ہی کافی نہیں ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے ایک بین الاقوامی تفتیشی طریقہ کار وضع کرنے کے لیے کہا ہے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے جاوید رحمان نے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا کہ اقوام متحدہ میں انسانی حقوق سے متعلق متعدد شخصیات نے گزشتہ مہینے ایران میں نام نہاد 'اخلاقی پولیس' کی جانب سے مہاسا امینی نامی خاتون کی دوران حراست ہلاکت سے شروع ہونے والے مظاہروں کے شرکا پر تشدد کی 'آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تفتیش کے پُرزور مطالبوں' کے باوجود کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا اور الٹا مظاہرین کے خلاف پُرتشدد کارروائیوں میں مزید شدت آ گئی ہے۔

Tweet URL

'عملی اقدامات کی ذمہ داری'

انہوں ںے کہا کہ ''میں عالمی برادری پر زور دوں گا کہ اس حوالے سے عملی اقدامات کرنا اس کی ذمہ داری ہے تاکہ انسانی حقوق پامال کرنے والوں کو کھلی چھوٹ نہ ملے اور اس حوالے سے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی جانب سے ''ٹھوس اقدامات کرنا'' واقعتاً اہم ہے۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ''ایران افراتفری کا شکار ہے اور جمعرات کو ایک ویڈیو کی صورت میں سامنے آنے والی اطلاع کے مطابق امینی کی موت کو چالیس روز گزرنے کے بعد بدھ کو ملک بھر میں ہونے والے بڑے پیمانے پر مظاہروں کے بعد سکیورٹی فورسز کو ایک نوجوان لڑکی نیکا شاکرمانی کی قبر پر سوگواروں پر حملہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کی بریفنگ کاانعقاد نیا بین الاقوامی تفتیشی طریقہ کار وضع کرنے کے حوالے سے ان کے مطالبے کے بعد عمل میں آیا۔

ایران میں زیادہ تر نوجوان مردوخواتین نے اس احتجاجی تحریک کی قیادت کی ہے جو تبدیلی، انصاف اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

رحمان نے کہا کہ ناصرف ریاست نے مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کی غیرجانبدارانہ اور فوری تفتیش کےمطالبوں کو نظر انداز کیا بلکہ اس نے حکام کی بے گناہی کا دعویٰ کرتے ہوئے تشدد میں الٹا اضافہ کر دیا ہے۔ مظاہرین کے خلاف کارروائی میں27 بچوں سمیت کم از کم 250 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

'خواتین، زندگی اور آزادی'

انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں ایران کی اپنی تحقیقات ''غیرجانبداری اور آزدانہ تفتیش کے کم از کم معیارات کی پیروی میں ناکام رہیں'' جبکہ سڑکوں پر ''خواتین، زندگی اور آزادی'' کے نعروں کے ساتھ تبدیلی کے مطالبات بڑھ گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے غیرجانبدار ماہر کا کہنا تھا کہ مہاسا امینی ''اخلاقی پولیس کی جانب سے لباس کے حوالے سے کڑے ضابطوں کے نفاذ کے ظالمانہ نتائج کا سامنا کرنے والی نہ تو پہلی خاتون تھیں اور نہ ہی وہ آخری ہیں۔''

انہوں نے کہ مظاہرین میں بہت سی ''نوجوان، روشن دماغ اور ذہین خواتین بھی شامل ہیں۔ ایران کے حکام اپنے ظلم اور جبر کے باوجود نوجوانوں کو نہیں روک سکتے اور وہ اس تحریک کو دبانے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔''

ایک روز پہلے ہی انسانی حقوق کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ماہرین کے ایک بڑے گروہ نے ایک بیان پر دستخط کیے جس میں ایران میں ہونے والی ہلاکتوں اور مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کی مذمت کی گئی تھی۔ ایسی کارروائیوں میں مبینہ ناجائز گرفتاریاں اور حراستیں، صنفی و جنسی بنیاد پر تشدد، طاقت کا حد سے زیادہ استعمال، تشدد اور جبری گمشدگیاں شامل ہیں۔

انتہائی پریشان کن صورتحال

ماہرین نے کہا کہ ہمیں ایران کے حکام کی جانب سے پرامن اور غیرمسلح مظاہرین کے خلاف فائرنگ اور دھاتی چھروں اور سیسے کی گولیوں کے سوچے سمجھے اور غیرقانونی استعمال کی اطلاعات پر گہری تشویش ہے۔ ایسے اقدامات طاقت کے استعمال کے حوالے سے قانون، احتیاط، ضرورت، عدم امتیاز اور تناسب کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ ''مظاہرین کی بڑی تعداد کو پہلے ہی گرفتار اور ہلاک کیا جا چکا ہے جن میں بچے، خواتین اور معمر افراد بھی شامل ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پولیس کو حد سے زیادہ مہلک طاقت کا استعمال فوری ترک کرنے اور تحمل سے کام لینے کی ہدایت دے۔

انہوں نے کہا کہ مظاہروں کے دوران اور عوامی مقامات پر خواتین اور لڑکیوں پر جسمانی و جنسی تشدد اور زیر حراست یا عام حالات میں دیگر خواتین اور لڑکیوں کے حقوق سے انکار خوفناک ہے۔

جبر کا نمونہ

ماہرین کے مطابق '' ہم انسانی حقوق کی ایسی خلاف ورزیوں کو قانون سازی، پالیسیوں اور سماجی ڈھانچے میں پائے جانے والے دیرینہ، وسیع اور صنفی بنیاد پر امتیازی سلوک کے تسلسل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ صورتحال گزشتہ چار دہائیوں میں ایران کی خواتین اور لڑکیوں کے لیے تباہ کن رہی ہے۔

مظاہروں کے آغاز کے بعد آن لائن مواصلات میں خلل آیا ہے جس سے معلومات تک رسائی اور ان کے تبادلے میں رکاوٹ پیش آ رہی ہے۔

حکام کی جانب سے مظاہرین کے خاندانوں کو دھمکانے اور انہیں ہراساں کرنے کے اقدامات سے متعلق اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ان اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مظاہرین کے اہلخانہ سے غیرقانونی طور پر تفتیش کی گئی تاکہ غلط معلومات کے ذریعے ان کے عزیزوں کی ہلاکت کا ذمہ دار 'فسادیوں' یا 'اسلامی جمہوریہ ایران کے دشمنوں' کے لیے کام کرنے والے افراد کو ٹھہرایا جائے۔

دنیا کے مختلف حصوں میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے جنیوا میں ادارے کی انسانی حقوق کونسل کی جانب سے تعینات کیے جاتے ہیں جو انسانی حقوق کے حوالے سے کسی خاص مسئلے یا کسی ملک میں حقوق کی صورتحال کا جائزہ لے کر اس کی رپورٹ دیتےہیں۔ یہ عہدے اعزاز ہوتے ہیں اور ماہرین کو ان کے کام کے عوض کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا۔