ایران میں حجاب کے جبری استعمال کے خلاف مظاہرین پر تشدد کی مذمت

ایران کی نام نہاد اخلاقی پولیس کی تحویل میں بائیس سالہ مھاسا امینی کی ہلاکت کے خلاف سوئیڈن کے شہر سٹاک ہوم میں ایک احتجاجی مظاہرہ
Unsplash/Artin Bakhan
ایران کی نام نہاد اخلاقی پولیس کی تحویل میں بائیس سالہ مھاسا امینی کی ہلاکت کے خلاف سوئیڈن کے شہر سٹاک ہوم میں ایک احتجاجی مظاہرہ

ایران میں حجاب کے جبری استعمال کے خلاف مظاہرین پر تشدد کی مذمت

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے کہا ہے کہ ایران کے حکام مھاسا امینی کے لیے انصاف کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کے حقوق کا مکمل احترام کریں۔ مھاسا امینی ایک نوجوان خاتون تھیں جو لباس کے حوالے سے کڑی پابندی کی مبینہ خلاف ورزی پر حراست میں لیے جانے کے بعد ہلاک ہو گئیں۔ جمعے کو 'او ایچ سی ایچ آر' کی جانب سے جاری کردہ اس بیان کے بعد اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ ایران میں ''خواتین اور بچوں سمیت'' مظاہرین کی ہلاکتوں میں اضافے کی اطلاعات پر ان کی تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔

'او ایچ سی ایچ آر' کی ترجمان روینہ شمداسانی نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ مظاہرین کے خلاف مسلسل پُرتشدد اقدامات اور فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کو متاثر کرنے والی مواصلاتی پابندیاں نہایت تشویش ناک ہیں۔

Tweet URL

22 سالہ امینی کو دارالحکومت تہران میں ایران کی ''اخلاقی پولیس'' نے 13 ستمبر کو مبینہ طور پر پوری طرح حجاب نہ اوڑھنے پر گرفتار کر لیا تھا۔

حکام کے مطابق وہ حراستی مرکز میں گرنے کے بعد بے ہوش ہو گئی تھیں جس سے تین دن کے بعد دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہو گیا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اپنے ترجمان کے ذریعے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ وہ اس واقعے کے بعد پیش آنے والی صورتحال کا بغور جائزہ لیتے رہے ہیں اور انہوں نے ایران کی سکیورٹی فورسز سے کہا ہے کہ وہ ''طاقت کا غیرضروری یا غیرمتناسب'' استعمال کرنے سے باز رہیں۔

انہوں ںے کسی طرح کے تناؤ سے پرہیز کرنے اور پرسکون رہنےکی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم غیرجانبدار اہل حکام کے ذریعے مھاسا امینی کی موت کی فوری، غیرجانبدارانہ اور موثر تحقیقات کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔''

شمداسانی نے بتایا کہ ایران کی حکومت امینی کی موت کے حالات کی ''مناسب تحقیقات'' شروع کرنے میں اب تک ناکام رہی ہے۔

احتجاج کی لہر

ان کی موت کے بعد اب تک ملک بھر میں ہزاروں افراد حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت کر چکے ہیں۔

کئی مرتبہ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر سیدھی فائرنگ کی اور مظاہروں میں بہت سے لوگ ہلاک، زخمی یا گرفتار بھی ہو چکے ہیں۔

مظاہرین کے خلاف پُرتشدد ردعمل

شمداسانی نے کہا کہ ہفتے کو سرکاری خبررساں اداروں نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 41 بتائی۔ تاہم صورتحال کا جائزہ لینے والے غیرسرکاری اداروں نے اس سے کہیں زیادہ اموات کی اطلاع دی ہے جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں جبکہ 11 صوبوں میں سینکڑوں افراد زخمی بھی ہو چکے ہیں۔

شمداسانی کا کہنا تھا کہ ''ہمیں بعض رہنماؤں کی جانب سے مظاہرین کی تذلیل پر مبنی تبصروں اور ان کے خلاف طاقت کے بظاہر غیرضروری اور غیرمتناسب استعمال پر بے حد تشویش ہے۔''

''کسی اجتماع کو منتشر کرنے کے لیے آتشیں اسلحے کا استعمال کبھی نہیں ہونا چاہیے۔ اجتماعات کے تناظر میں اسے صرف زندگی کو لاحق فوری خطرے یا کسی کے سنگین طور سے زخمی ہو جانے کی صورت میں ہی استعمال کرنا چاہیے۔''

گرفتاریوں کی تعداد نامعلوم

اسی کے ساتھ، انسانی حقوق کے محافظوں، وکلا، سول سوسائٹی کےکارکنوں اور کم از کم 18 صحافیوں سمیت ہزاروں افراد کو گرفتار کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ حکومت نے گرفتار کیے جانے والوں کی مجموعی تعداد نہیں بتائی۔

شمداسانی نے بتایا کہ گیلان نامی ایک صوبے میں ہی پولیس کے سربراہ نے 739 افراد کو گرفتار کیے جانے کے بارے میں بتایا ہے جن میں 60 خواتین بھی شامل ہیں جنہیں تین روزہ احتجاجی مظاہروں کے دوران حراست میں لیا گیا۔

'او ایچ سی ایچ آر' نے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ انصاف کے حوالے سے جائز طریقہ کار سے متعلق حقوق کا نفاذ یقینی بنائیں اور ناجائز طور پر گرفتار کیے جانے والے تمام افراد کو رہا کریں۔

حقوق کی خلاف ورزیوں کی''کھُلی چھوٹ''

شمداسانی ںے مزید کہا کہ ''ہمیں خدشہ ہے کہ مواصلاتی خدمات میں خلل آنے سے لوگوں کی معلومات کے تبادلے، معاشی سرگرمیوں کی انجام دہی اور سرکاری خدمات تک رسائی پر گہرا اثر پڑے گا۔'

ان کا کہنا تھا کہ ''اس سے بہت سے انسانی حقوق کمزور پڑ جاتے ہیں جن میں آزادیء اظہار کا قانون خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ ہم حکام پر زور دیتے ہیں کہ وہ انٹرنیٹ تک رسائی کو پوری طرح بحال کریں۔''

'او ایچ سی ایچ آر' نے ''ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مسلسل کھلی چھوٹ'' پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان میں نومبر 2019، جولائی 2021 اور اس سال مئی میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے مہلک طاقت کے مبینہ استعمال کے دوران مظاہرین کی مسلسل اموات بھی شامل ہیں۔

شمداسانی نے کہا کہ ''ہمارا دفتر ایک مرتبہ پھر ایرانی حکام سے کہتا ہے کہ وہ رائے، اظہار، پُرامن اجتماع اور میل جول کی آزادی کے حقوق کا پورا احترام کریں کیونکہ ایران شہری اور سیاسی حقوق سےمتعلق بین الاقوامی معاہدے کا فریق ہے۔