چین میں بڑی عمر کے بالغوں کو کووڈ۔19 کی ویکسین لگانے میں بے پناہ پیش رفت

چین کے علاقے شینزین میں لوگ دوبارہ ماسک پہنے ہوئے ہیں۔
© Unsplash/Joshua Fernandez
چین کے علاقے شینزین میں لوگ دوبارہ ماسک پہنے ہوئے ہیں۔

چین میں بڑی عمر کے بالغوں کو کووڈ۔19 کی ویکسین لگانے میں بے پناہ پیش رفت

صحت

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ چین اپنے ہر معمر شہری کو کووڈ۔19 کے خلاف ویکسین لگانے کے لیے ''غیرمعمولی پیش رفت اور کوشش کر رہا ہے'' تاہم ادارے نے خبردار کیا ہے کہ تمام لوگوں کو اس بیماری سے تحفظ دینے میں وقت لگے گا۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی اعلیٰ سطحی عہدیدار ڈاکٹر کیٹ او برائن نے بتایا ہے کہ معمر لوگوں کے لیے چین کی ابتدائی ''زیرو ڈوز'' پالیسی میں تبدیلی کے باعث اب بعض لوگ کورونا وائرس کی ویکسین لگوانے کے حوالے سے غیریقینی کا شکار ہیں۔

Tweet URL

انہوں نے کہا کہ ''معمر افراد کو بیماری کے خلاف تحفظ کی ضرورت ہے جبکہ ان کے لیے ویکسین کے حوالے سے ہدایات کے بارے میں اپنے فہم میں تبدیلی لانا اور بالغوں کو بیماری سے لاحق خطرے کے بارے میں ابتدائی ہدایات سے برعکس قدم اٹھانا مشکل ہو گیا ہے۔ چین ہر معمر فرد کو ویکسین کی ناصرف ابتدائی بلکہ فاضل خوراک دینے میں غیرمعمولی پیش رفت اور کوشش کر رہا ہے۔''

ڈاکٹر اوبرائن اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت میں حفاظتی ٹیکوں، ویکسین اور جرثوموں سے بنائی جانے والی ادویات کے شعبے کی ڈائریکٹر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈبلیو ایچ او چین سے 2022 میں معمول کے حفاظتی ٹیکے لگانے کے حوالے سے معلومات کی فراہمی کا ''بڑی امیدوں کے ساتھ منتظر ہے۔''

ڈاکٹر او برائن نے کہا کہ وبا کے عروج پر بہت سے ممالک نے ڈبلیو ایچ او کو ماہانہ بنیادوں پر ویکسین سے متعلق معلومات مہیا کیں، تاہم حالیہ عرصہ کے دوران اس میں قابل ذکر کمی آئی ہے جکبہ ''ہم نہیں چاہتے کہ ایسا ہو۔''

'ویکسین لگواتے رہیں'

انہوں نے کہا کہ اس امر کا ثبوت ہمارے سامنے ہے کہ کووڈ۔19 ویکسین لگوانے سے حاصل ہونے والے فوائد اس کے ممکنہ ذیلی منفی اثرات سے کہیں زیادہ ہیں اور ویکسین کے موثر ہونے کا دارومدار اس بات پر ہے کہ لوگ اس کی وہ تمام خوراکیں لیں جو ڈاکٹروں نے انہیں تجویز کی ہوں۔ جنوری 2023 تک دنیا کی 83 فیصد آبادی نے ویکسین لگوا لی تھی۔

انہوں نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ ''کووڈ۔19 سے حفاظت کے لیے لگائی جانے والی ویکسین اس بیماری کی شدید صورت کو دور رکھنے اور موت سے بچانے میں انتہائی موثر ہے تاہم یہ ویکسین لوگوں کو کووڈ۔19 لاحق ہونے یا ایک سے دوسرے فرد میں وائرس کی منتقلی کے خلاف زیادہ تحفظ نہیں دیتیں۔''

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ''ہسپتال میں داخلے، شدید بیماری اور موت کے خلاف ویکسین کی تاثیر بڑھانے کا دارومدار لوگوں کے اس کی تمام تجویز کردہ خوراکیں لینے پر ہے اور یہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے اہم ہے جنہں اس بیماری سے سب سے زیادہ خطرہ ہے۔''

'ویکسین اور فالج میں کوئی تعلق نہیں'

ڈاکٹر او برائن نے کہا کہ امریکہ میں ویکسین کے تحفظ سے متعلق موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر حالیہ ہفتوں میں موڈرنا اور فائزر جیسی میسنجر آر این اے ویکسین کے بارے میں یہ خدشات سامنے آئے تھے کہ ان سے معمر لوگوں میں فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ڈاکٹر او برائن کے مطابق ''معلومات کے تجزیے سے ایسی کوئی شہادت نہیں ملی جس کی بنیاد پر ان ویکسین اور فالج کے مابین کوئی تعلق ثابت ہو سکے۔

تاہم میں اس بات پر زور دینا چاہتی ہوں کہ ہم پہلے ہی یہ جانتے ہیں کہ ویکسین کے استعمال سے مائیوکارڈائیٹس یا دل کے عضلات میں سوزش کا خدشہ پایا جاتا ہے جس نے حال ہی میں لوگوں کی توجہ حاصل کی ہے۔''

ڈبلیو ایچ او کے مطابق اس کا تعلق کووڈ۔19 ویکسین سے ہے لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ جب ایسا ہو تو عام طور پر یہ کیفیت بہت دھیمی ہوتی ہے اور اس کا علاج ممکن ہے اور یہ کووڈ۔19 بیماری کے نتیجے میں ہونے والی قلبی سوزش یا کسی اور وجہ سے جنم لینے والی اس کیفیت سے بہت کم خطرناک ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ''میں جس بات پر واقعتاً زور دینا چاہتی ہوں وہ یہ ہے کہ ہم اب تک ویکسین نہ لگوانے والے لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ کووڈ۔19 ویکسین لگوانے کے فوائد اس سے منسلک ممکنہ خطرات کے مقابلے میں بہت بڑے ہیں۔ اس بات کی بنیاد عملی ثبوت پر ہے۔''

معمول کے حفاظتی ٹیکے

انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ ڈبلیو ایچ او سال کے آئندہ عرصہ میں قابل علاج بیماریوں سے بچاؤ کے لیے معمول کے حفاظتی ٹیکے لگانے کے کام کی رفتار تیز کرے گا۔

2021 میں ہی 25 ملین بچے معمول کی ویکسین سے محروم رہے تھے۔

او برائن نے کہا کہ ''اس وقت مجموعی طور پر 50 ملین بچے خسرے، روبیلا، خںاق اور زندگی کے لیے خطرہ بننے والی دیگر ایسی بیماریوں کی ضروری ویکسین سے محروم ہیں جن کے خلاف ہم ویکسین لگاتے ہیں۔''