Skip to main content

دنیا کی نصف آبادی صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم: ڈبلیو ایچ او

میسڈونیا میں ایک بچے کو بیماریوں کے خلاف حفاظتی ٹیکے لگائے جا رہے ہیں۔
© UNICEF/Tomislav Georgiev
میسڈونیا میں ایک بچے کو بیماریوں کے خلاف حفاظتی ٹیکے لگائے جا رہے ہیں۔

دنیا کی نصف آبادی صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم: ڈبلیو ایچ او

صحت

اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے طبی شعبے میں مضبوط سیاسی عزم اور حکومتی سطح پر سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت کو واضح کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دنیا بھر میں 4.5 ارب لوگوں کو ضروری طبی خدمات میسر نہیں ہیں۔

ڈبلیو ایچ او اور عالمی بینک کی ایک مشترکہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں دو ارب لوگوں کے لیے ضروری علاج معالجے پر اخراجات کے معاملے میں کڑی مشکلات درپیش ہیں۔

Tweet URL

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا ہے کہ بہت سے لوگ سستی، معیاری اور ضروری طبی خدمات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے جس سے نہ صرف ان کی اپنی صحت کو خطرات لاحق ہوتے ہیں بلکہ اس سے سماجی استحکام اور معیشتوں کو بھی خطرہ رہتا ہے۔ 

انہوں نے مضبوط سیاسی ارادے، صحت کے شعبے میں مزید بھرپور سرمایہ کاری اور نظام ہائے صحت میں فیصلہ کن تبدیلی کی فوری ضرورت پر زور دیا جس کی بنیادی طبی نگہداشت پر ہو۔

عالمگیر طبی اہداف پر تشویش 

اس بحران نے صحت سے متعلق پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے لیے بہت بڑا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ ایسے اہداف کا مقصد 2030 تک دنیا کے تمام لوگوں کو طبی خدمات کی فراہمی ممکن بنانا ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں دنیا بھر کے ایک تہائی سے بھی کم ممالک نے اپنے ہاں تمام لوگوں کی طبی خدمات تک رسائی کی صورتحال کو بہتر بنایا اور صحت پر اٹھنے والے تباہ کن حد تک بھاری اخراجات میں کمی لائے ہیں جو اکثر گھریلو آمدنی کے 25 فیصد سے بھی متجاوز ہوتے ہیں۔ 

درست راہ پر واپسی 

پُرعزم اہداف کی جانب درست سمت میں واپسی کے لیے یہ رپورٹ حکومتوں اور ترقیاتی شراکت داروں کی جانب سے صحت عامہ کے شعبے میں خاطرخواہ سرمایہ کاری کے لیے کہتی ہے۔ 

رپورٹ میں نظام ہائے صحت میں بنیادی سمت بندی، بنیادی طبی نگہداشت کو ترجیح دینے اور مساوات و مالیاتی تحفظ بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

طبی نظام اور دنیا بھر میں صحت کے شعبے پر کووڈ۔19 کے تباہ کن اثرات سے پوری طرح نمٹنے کے لیے اصلاحات بہت ضروری ہیں جبکہ وبا سے پیدا ہونے والی معاشی گراوٹ سے لاحق مسائل سے بھی نمٹنا ہو گا۔ 

دیگر مسائل میں موسمیاتی تبدیلی کے نتائج اور سیاسی ترجیحات میں تبدیلی خاص طور پر اہم ہیں۔ 

غربت سے نکلنے میں معاونت 

عالمی بینک میں انسانی ترقی کے شعبے کی نائب صدر ممتا مورتھی نے کہا ہے کہ دنیا میں ہر فرد کو طبی خدمات تک رسائی دینا لوگوں کو غربت سے پائیدار طور پر نکالنے کی جانب ایک اہم قدم ہو گا لیکن اس معاملے میں خاص طور پر غریب ترین اور انتہائی بدحال لوگوں کے لیے تاحال بڑے پیمانے پر مالی مشکلات موجود ہیں۔

یہ رپورٹ ایک سنگین صورتحال کی عکاسی کرتی ہے تاہم اس میں حکومتوں کے بجٹ میں صحت کو ترجیح دینے اور معیاری طبی خدمات و مالیاتی تحفظ کی فراہمی میں بڑے پیمانے پر مساوات لانے کے لیے نظام ہائے صحت کو مضبوط کرنے کے طریقے بھی دیے گئے ہیں۔ 

یہ رپورٹ جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے قبل جاری کی گئی ہے جہاں متوقع طور پر عالمی رہنما تمام لوگوں کے لیے طبی خدمات تک رسائی کے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے عملی اقدامات کے حوالے سے اپنے عہد کی تجدید کریں گے۔