دھمکیاں، قید اور بدسلوکی: صحافیوں کے لیے خطرات سب کا نقصان، اقوام متحدہ کے سربراہ کا انتباہ

آن لائن دنیا میں تشدد کی نئی اشکال سامنے آئی ہیں جن میں خاص طور پر خواتین کو ہدف بنایا جا رہا ہے: سربراہ یونیسکو
© Unsplash/Joppe Spaa
آن لائن دنیا میں تشدد کی نئی اشکال سامنے آئی ہیں جن میں خاص طور پر خواتین کو ہدف بنایا جا رہا ہے: سربراہ یونیسکو

دھمکیاں، قید اور بدسلوکی: صحافیوں کے لیے خطرات سب کا نقصان، اقوام متحدہ کے سربراہ کا انتباہ

جرائم کی روک تھام اور قانون

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ حکومتوں اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ صحافیوں کو تحفظ دینے کے اقدامات کریں۔ انہوں نے یہ بات صحافیوں کے خلاف بلاخوف و خطر  جرائم کے خاتمے سے متعلق عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہی جو بدھ کو منایا گیا۔

اِس سال صحافیوں کے تحفظ اور ان کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو سزا نہ ہونے کے معاملے پر اقوام متحدہ کے عملی منصوبے کے آغاز کو دس برس بھی مکمل ہو گئے ہیں۔

Tweet URL

سیکرٹری جنرل نے اپنے پیغام میں آزاد صحافت کی اہمیت کو واضح کیا جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ فعال جمہوریت، جرائم کو سامنے لانے، ہماری پیچیدہ دنیا میں درست راہ کے تعین نیز پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے لیے ضروری ہے جو کہ مزید منصفانہ، مساوی اور ماحول دوست مستقبل کا خاکہ ہے۔

انہوں ںے کہا کہ ''صحافیوں کے خلاف بلاخوف و خطر جرائم کے خاتمے کے اس عالمی دن پر آئیے شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے اپنے کارکنوں کو خراج تحسین پیش کریں اور سبھی کے لیے سچائی انصاف اور انسانی حقوق کی خاطر کھڑے ہوں۔''

اندھے قتل

اپنے اہم کردار کے باوجود صرف اِسی سال ہی 70 صحافی قتل ہو چکے ہیں۔

انتونیو گوتیرش نے کہا کہ ''ایسے بیشتر واقعات میں قاتلوں کا سراغ نہیں ملا۔ دریں اثناء آج صحافیوں کی جتنی بڑی تعداد پابندِ سلاسل  ہے اس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی جبکہ انہیں جیلوں میں ڈالنے، ان کے خلاف تشدد اور انہیں ہلاک کیے جانے کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔''

مزید برآں غلط اطلاعات کے پھیلاؤ، آن لائن غنڈہ گردی اور نفرت پر مبنی تقاریر خصوصاً خواتین صحافیوں کے خلاف ایسے واقعات دنیا بھر میں شعبہ صحافت سے منسلک کارکنوں کا کام مشکل بنا رہے ہیں۔

انہوں ںے مزید کہا کہ ''قانونی، مالیاتی اور دیگر ذرائع سے مسلط کیا جانے والا خوف اور دہشت طاقتور لوگوں کو جوابدہ بنانے کی کوششوں کو کمزور کر رہا ہے۔ ان رحجانات سے صحافیوں کو ہی نہیں بلکہ بحیثیت مجموعی پورے معاشرے کو خطرہ لاحق ہے۔''

 

میکسیکو: تشدد اور خاموشی

میکسیکو صحافیوں کے لیے خطرناک ترین مقامات میں سے ایک ہے۔

اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارے (یونیسکو) کے مطابق اس سال اب تک اٹھارہ صحافیوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ یہ ادارہ دنیا بھر میں صحافیوں کی ہلاکتوں کی عدالتی تحقیقات کے بارے میں آن لائن ڈیٹا بیس تیار کرتا ہے۔

پیٹریشیا مونریئل وازکیز 25 سال سے زیادہ عرصہ سے رپورٹنگ کر رہی ہیں اور انسانی حقوق، صنفی اور انتخابی و سیاسی امور کے بارے میں اطلاعات دیتی ہیں۔ ان کا تعلق میکسیکو کی مغربی ریاست میچوکان کے دارالحکومت موریلیا سے ہے۔

مونریئل کا کہنا ہے کہ 2006 کے بعد صحافیوں کے خلاف تشدد کی صورتحال بدترین ہو گئی ہے۔ یہ وہ سال ہے جب پہلی مرتبہ صحافیوں کی گمشدگی کے واقعات سامنے آئے تھے۔

''اس طرح صحافیوں کو روکنے، انہیں خاموش کرانے اور صحافت کو زیرنگیں کرنے کا سلسلہ شروع ہوا'' اور تب سے اب تک ان کے 14 ساتھی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ چھ لاپتہ ہیں۔

'موت بھی کافی نہیں'

انہوں ںے مزید کہا کہ اس صورتحال، صحافیوں کے حالات کار اور ترقی کے مواقع کے فقدان نے صحافت کے معیار کو متاثر کیا ہے۔

مونریئل کا کہنا تھا کہ ''خاص طور پر علاقائی سطح پر اس کے خلاف کوئی مزاحمتی اثر دکھائی نہیں دیتا اور خطرات کے باعث صحافتی ادارے بند ہو رہے ہیں۔''

انہوں ںے 2017 میں مقامی ٹی وی سٹیشن کے ڈائریکٹر سیلواڈور ایڈامے کے اغوا اور قتل کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ بہت پیچیدہ صورتحال ہے کیونکہ اس سے خاندان بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ایڈمے کو قتل کیا جا چکا ہے جبکہ اس واقعے سے اگلے سال ہی ان کے خاندان کو ان کے گھر سے نکال دیا گیا۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ ''موت بھی کافی نہیں ہے۔''

Tweet URL

حالاتِ کار بدلنے کا منصوبہ

ایک دہائی پہلے رکن ممالک نے اقوام متحدہ کے ایک عملی منصوبے کی منظوری دی جس کا مقصد صحافیوں کو تحفظ دینا، ان کے خلاف جرائم کی روک تھام اور ان جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کا پیچھا کرنا تھا۔

یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل آڈرے ایزولائی کا کہنا ہے کہ ''اس انقلابی دستاویز کی منظوری صحافیوں کے کام کی اہمیت کا اعتراف تھا جیسا کہ جب وہ جنگوں اور بحرانوں کے بارے میں اطلاعات دیتے ہیں یا جب وہ بااختیار لوگوں کے اعمال کی تحقیقات کرتے ہیں اور بدعنوانی سمیت دیگر طرز کی ناانصافی کی تفیش کرتے ہیں اور اس کام کو انجام دیتے ہوئے خطرات کا سامنا کرتے ہیں۔''

انہوں ںے بتایا کہ اس منصوبے کی مںظوری کے بعد اب تک بہت سی پیش رفت ہو چکی ہے اور قومی، علاقائی اور عالمی سطح پر ٹھوس اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

یونیسکو نے بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کیا ہے جس میں عدالت، نفاذ قانون اور سلامتی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے قریباً 36,000 حکام کی آزادیء اظہار اور صحافیوں کی سلامتی بشمول ان کے آن لائن تحفظ جیسے امور پر تربیت بھی شامل ہے۔

تاہم ایزولائی کا کہنا تھا کہ ''صحافیوں کو اب بھی تشویش ناک شرح سے قتل کیا جا رہا ہے۔'' یونیسکو کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ دہائی میں 955 صحافیوں کی جانیں گئیں اور اس اعتبار سے 2022 کا سال 2018 کے بعد مہلک ترین ہے۔

جنگ اور امن میں صحافیوں کا تحفظ

ایزولائی نے ہر جگہ اور ہر وقت صحافیوں کے تحفظ کے لیے نیا عزم پیدا کرنے کو کہا۔

ان کا کہنا تھا کہ ''یقیناً اس کا مطلب جنگ اور بحران کے موقع پر صحافیوں کا تحفظ ہےاور  اس کی مثال یہ ہے کہ یونیسکو یوکرین اور افغانستان میں صحافیوں کی معاونت کر رہا ہے۔ اس کا مطلب امن کے اوقات میں بھی صحافیوں کا تحفظ کرنا ہے کیونکہ حالیہ برسوں میں بیشتر صحافی زمانہ امن میں ہی مارے گئے ہیں۔''

یونیسکو کی سربراہ نے صحافیوں کے آن لائن تحفظ میں اضافے کی کوششوں پر بھی زور دیا کیونکہ آن لائن دنیا میں تشدد کی نئی اشکال سامنے آئی ہیں جن میں خاص طور پر خواتین کو ہدف بنایا جا رہا ہے اور ہر چار میں سے تین خواتین صحافیوں کو آن لائن ہراساں کیے جانے کا تجربہ ہو چکا ہے۔