سال 2022 میں صحافیوں کی ہلاکتوں میں 50 فیصد اضافہ: یونیسکو

یونیسکو صحافیوں اور صحافتی اداروں کے تحفظ کے لیے کام کرتا ہے۔
Unsplash/Engin Akyurt
یونیسکو صحافیوں اور صحافتی اداروں کے تحفظ کے لیے کام کرتا ہے۔

سال 2022 میں صحافیوں کی ہلاکتوں میں 50 فیصد اضافہ: یونیسکو

جرائم کی روک تھام اور قانون

اقوام کے ثقافتی ادارے یونیسکو کے مطابق 2022 کے دوران دنیا بھر میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا جبکہ اس سے پہلے تین سال میں یہ تعداد کم ہو گئی تھی۔

2021 اور 2022 میں آزادیء اظہار سے متعلق حال ہی میں جاری کردہ رپورٹ میں یونیسکو نے بتایا ہے کہ گزشتہ برس 86 صحافی قتل ہوئے اور اس طرح ہر چار روز میں ایک صحافی کی ہلاکت ہوئی جبکہ 2021 میں یہ تعداد 55 تھی۔

ادارے کا کہنا ہے کہ یہ نتائج صحافیوں کو ان کے کام کے دوران درپیش سنگین خطرات اور زد پذیری کو واضح کرتے ہیں۔

یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل آندرے آزولے نے ان نتائج کو ''تشویش ناک'' قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ''حکام ایسے جرائم کو روکنے کے لیے اپنی کوششوں میں اضافہ کریں اور یقینی بنائیں کہ ان جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو سزا ملے کیونکہ بے حسی تشدد کے اس ماحول کا ایک بڑا سبب ہے۔''

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں آزادیِ اظہار رائے اور صحافت کے حق میں ہونے والے ایک مظاہرے میں فلسطینی صحافی شیریں ابو عاقلہ کی تصویر والا ایک پلے کارڈ۔ شیریں 11 مئی 2022 کو مغربی کنارے میں رپورٹنگ کرتے ہوئے گولی لگنے سے ہلاک ہوگئی تھیں۔
© Unsplash/Ehimetalor Akhere Unuabona
برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں آزادیِ اظہار رائے اور صحافت کے حق میں ہونے والے ایک مظاہرے میں فلسطینی صحافی شیریں ابو عاقلہ کی تصویر والا ایک پلے کارڈ۔ شیریں 11 مئی 2022 کو مغربی کنارے میں رپورٹنگ کرتے ہوئے گولی لگنے سے ہلاک ہوگئی تھیں۔

کوئی محفوظ جگہ نہیں

یونیسکو نے کہا ہے کہ ہلاک کیے جانے والے تقریباً نصف صحافیوں کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنی ڈیوٹی پر نہیں تھے۔ ان میں بعض پر دوران سفر، پارکنگ کی جگہوں یا دیگر عوامی مقامات پر حملہ کیا گیا جہاں وہ اپنے صحافتی فرائض کی انجام دہی میں مصروف نہیں تھے جبکہ دیگر صحافی ہلاکت کے وقت اپنے گھروں میں موجود تھے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ''صحافیوں کے لیے کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں ہے حتیٰ کہ جب وہ اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی میں مصروف نہیں ہوتے اس وقت بھی ان کی جان کو خطرہ ہوتا ہے۔''

ادارے کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو تحفظ دینے کے لیے گزشتہ پانچ سال میں ہونے والی پیش رفت کے باوجود 86 فیصد واقعات میں قاتلوں کو سزائیں نہیں ہوئیں۔ صحافیوں کے خلاف جرائم کی کھلی چھوٹ پر قابو پانا ایک اہم عزم ہے جس پر بین الاقوامی تعاون کو مزید متحرک کیا جانا چاہیے۔''

2022 میں صحافی ہلاکتوں کے علاوہ دیگر طرح کے تشدد سے بھی متاثر ہوئے۔ اس میں ان کی جبری گمشدگی، اغوا، ناجائز حراست، قانونی ہراسانی اور ڈیجیٹل تشدد شامل ہے اور ایسے واقعات میں خواتین کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔

یونیسکو کے جائزے میں صحافیوں کو درپیش مشکلات کو واضح کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ہتک عزت، سائبر کرائم اور ''جھوٹی خبروں'' کے انسداد کے قوانین کا بطور ہتھیار استعمال آزادیء اظہار کو محدود کرنے اور صحافیوں کے کام کے ماحول کو مشکل بنانے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔

میکسیکو: صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملک

یونیسکو نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ 2022 میں لاطینی امریکہ اور غرب الہند اس حوالے سے مہلک ترین ملک رہے جہاں 44 صحافیوں کو قتل کیا گیا جو کہ دنیا بھر میں قتل ہونے والے صحافیوں کی نصف سے زیادہ تعداد ہے۔

اس حوالے سے دنیا بھر میں خطرناک ترین ملک میکسیکو رہا جہاں 19 صحافیوں کو ہلاک کیا گیا۔ یوکرین میں 10 اور ہیٹی میں نو صحافی قتل ہوئے۔ ایشیا اور الکاہل خطے میں 16 صحافیوں کی ہلاکت ہوئی جبکہ مشرقی یورپ میں 11 صحافیوں کو ہلاک کیا گیا۔

ہتک عزت، سائبر کرائم اور جھوٹی خبروں کے انسداد کے قوانین صحافیوں کے کام کو  مشکل بنانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

2022 میں جنگ زدہ ممالک میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کی تعداد بڑھ کر 23 ہو گئی جبکہ اس سے پچھلے برس یہ تعداد 20 تھی۔ دنیا بھر میں صحافیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ بنیادی طور ایسے علاقوں میں ہوا ہے جو جنگ سے متاثرہ نہیں ہیں۔ 2021 میں پُرامن ممالک میں 35 صحافیوں کو ہلاک کیا گیا جبکہ 2022 میں یہ تعداد بڑھ کر 61 ہو گئی جو گزشتہ برس صحافیوں کی تمام ہلاکتوں کا تین چوتھائی ہے۔

منظم جرائم کے بارے میں اطلاعات دینے پر انتقامی کارروائی، مسلح لڑائی یا انتہاپسندی میں اضافہ صحافیوں کی ہلاکتوں کی بعض بڑی وجوہات ہیں۔ دیگر کو بدعنوانی، ماحولیاتی جرائم، اختیارات کے ناجائز استعمال اور احتجاج جیسے موضوعات پر خبریں دینے کی پاداش میں قتل کیا گیا۔