کووڈ۔19 سے سست پڑ جانے والی کوکین کی سمگلنگ میں پھر تیزی

کوکین کی رسد میں اضافہ اس کی طلب میں اضافے سے مطابقت رکھتا ہے کیونکہ بہت سے علاقوں میں گزشتہ دہائی کے عرصہ میں کوکین استعمال کرنے والوں کی تعداد متواتر بڑھتی رہی ہے۔
UNODC
کوکین کی رسد میں اضافہ اس کی طلب میں اضافے سے مطابقت رکھتا ہے کیونکہ بہت سے علاقوں میں گزشتہ دہائی کے عرصہ میں کوکین استعمال کرنے والوں کی تعداد متواتر بڑھتی رہی ہے۔

کووڈ۔19 سے سست پڑ جانے والی کوکین کی سمگلنگ میں پھر تیزی

جرائم کی روک تھام اور قانون

منشیات اور جرائم کے انسداد سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے نے ایک نئی رپورٹ میں واضح طور پر کہا ہے کہ کووڈ۔19 کے باعث سست پڑ جانے والی کوکین کی سمگلنگ میں نئے مراکز اور جرائم کے وسیع نیٹ ورکس کے ذریعے دوبارہ غیرمعمولی اضافہ ہو گیا ہے۔

'یو این او ڈی' کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر غادہ والی نے کہا ہے کہ ''دنیا بھر میں کوکین کی ترسیل میں اضافے پر ہم سب کو محتاط ہو جانا چاہیے۔ افریقہ اور ایشیا میں کوکین کی منڈی میں وسعت کا امکان ایک خطرناک حقیقت ہے۔''

Tweet URL

طلب و رسد میں ریکارڈ اضافہ

'یو این او ڈی سی' نے 'کوکین پر عالمی رپورٹ 2023' میں کہا ہے کہ جرائم پیشہ نیٹ ورک اب تشویش ناک نتائج کے ساتھ متنوع صورت اختیار کر رہے ہیں اور کوکین کی پیداوار بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے جس کی غیرقانونی تجارت وبا اور اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں کاروبار زندگی بند ہو جانے کے باعث عارضی طور پر کم ہو گئی تھی۔

غادہ والی نے حکومتوں اور دیگر پر زور دیا کہ کوکین کی سمگلنگ کے خلاف بہترین اقدامات کے لیے اس رپورٹ کے نتائج کا بغور جائزہ لے کر یہ تعین کیا جانا چاہیے کہ اس بین الاقوامی خطرے کے خلاف آگاہی بڑھانے، روک تھام اور عالمی و علاقائی تعاون کی بنیاد پر بین الاقوامی اقدامات کیسے ممکن ہیں۔ 

افریقہ اور ایشیا پر 'یورش'

رپورٹ میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ کیسے 2020 سے 2021 تک کوکا کی کاشت 35 فیصد تک بڑھ گئی جو 2016 کے بعد ایک سال کے عرصہ میں ریکارڈ ترین اضافہ ہے۔

یہ اضافہ کوکا کی کے زیرکاشت رقبے میں وسعت اور کوکا کو کوکین ہائیڈروکلورائیڈ میں تبدیل کرنے کے عمل میں بہتری آنے کے نتیجے میں بھی ہوا ہے جو منشیات کے طور پر فروخت ہوتی ہے۔

کوکین کی رسد میں اضافہ اس کی طلب میں اضافے سے مطابقت رکھتا ہے کیونکہ بہت سے علاقوں میں گزشتہ دہائی کے عرصہ میں کوکین استعمال کرنے والوں کی تعداد متواتر بڑھتی رہی ہے۔ اگرچہ کوکین کی زیادہ تر مارکیٹ بدستور براعظم ہائے امریکہ اور یورپ کے بعض حصوں میں ہے تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس کے افریقہ اور ایشیا تک بڑی وسعت پانے کا بھرپور امکان موجود ہے۔

اس رپورٹ میں کوکین کی سمگلنگ کے نئے مراکز کا جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جنوب مشرقی یورپ اور افریقہ کے ممالک، خصوصاً مغربی اور وسطی افریقہ کے ملک اس نشے کی سمگلنگ کے اہم عبوری راستوں کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

اسی دوران شمالی بحراوقیانوس کے ساحلی علاقوں، جیسا کہ اینٹورپ، روٹرڈیم اور ہیمبرگ، نے مغربی یورپ میں کوکین کی آمد کے روایتی راستوں 'سپین اور پرتگال' کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

ریکارڈ مقدار میں منشیات برآمد

منشیات کے سمگلروں کی گرفتاری اور منشیات قبضے میں لیے جانے کے واقعات میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ 2021 میں دنیا بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کوکین کی سمگلنگ روکنے کے واقعات میں تقریباً 2,000 ٹن منشیات قبضے میں لی گئی جو ایک ریکارڈ ہے۔

یہ رپورٹ ایک ایسے مجرمانہ منظرنامے کو ظاہر کرتی ہے جو سمگلنگ کے بہت سے نیٹ ورکس میں منقسم ہے۔ ان گروہوں کے 'طریقہ ہائے کار' کا جائزہ لیتے ہوئے اس رپورٹ میں ایسے خلا کی نشاندہی کی گئی ہے جن سے سمگلر فائدہ اٹھاتے ہیں اور ''خدمات مہیا کرنے والے بہت سے عناصر ''معاوضہ'' لے کر اشیا کی ترسیل کی پیشکش کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر 'کولمبیا کی انقلابی مسلح افواج' (فارک) سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کا ملک میں کوکا کی کاشت والے بہت سے علاقوں پر تسلط تھا جن کے ہتھیار رکھ دینے سے بہت سے دیگر گروہوں کو ان کی جگہ لینے کا موقع مل گیا ہے۔ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں نئے مقامی کردار، فارک کے سابقہ جنگجو نیز میکسیکو اور یورپ سے تعلق رکھنے والے غیرملکی گروہ بھی شامل ہیں۔

رحجانات کیا کہتے ہیں؟

'یو این او ڈی سی' کے شعبہ تحقیق و تجزیے کی سربراہ اینجیلا مے نے کہا ہے کہ ''اس رپورٹ میں کوکین کی سمگلنگ کی صورتحال کے حوالے سے خاصی معلومات موجود ہیں۔

سمگلنگ کے رحجانات، راستوں، طریقہ ہائے کار اور جرائم پیشہ کرداروں کے لیے خدمات انجام دینے والے نیٹ ورکس کے بارے میں تازہ ترین معلومات کی موجودگی کے باعث مجھے امید ہے کہ اس رپورٹ کی بدولت ثبوتوں کی بنیاد پر ایسی حکمت عملی وضع تیار کرنے میں مدد ملے گی جس کی بدولت کوکین کی پیداوار، سمگلنگ اور اس کے استعمال کو روکنے کے لیے دور رس اقدامات کیے جا سکیں گے۔''

انجیلا مے نے اس رپورٹ کے اجرا سے قبل ایک انٹرویو میں یو این نیوز کو بتایا کہ کوکین کی بڑھتی ہوئی طلب سے نمٹنا ایک بڑا بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ اسی لیے ہمیں نئے طریقوں کی ضرورت ہے جن کےذریعے ممالک اس پر قابو پانے کے لیے اکٹھے کام کر سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ ''شہادتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوکین کا مسئلہ اوقیانوس کے آر پار بین البراعظمی اور بین الاقوامی مسئلہ ہے۔''