انٹرویو: انسانی حقوق کے لیے انتھک اور مسلسل جدوجہد پر مشیل بیچلے کی کھلی باتیں

مشیل بیچلے دورہِ نائجیر کے دوران

میں کوئی بات کہنے یا نہ کہنے میں ہمیشہ آزاد رہی اور میں نے وہی کیا جو ضروری تھا

© OHCHR/Anthony Headley
مشیل بیچلے دورہِ نائجیر کے دوران

انٹرویو: انسانی حقوق کے لیے انتھک اور مسلسل جدوجہد پر مشیل بیچلے کی کھلی باتیں

سبکدوش ہونے والی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل بیچلے نے اپنے عہدے کی مدت کے اختتام پر یو این نیوز کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے ہمیشہ کھل کر بات کی ہے اور آزادانہ طور سے اپنا کام کیا ہے جبکہ وہ یہ اعتراف بھی کرتی ہیں کہ حکومتوں کو بنیادی آزادیوں کو محدود کرنے سے روکنے کا کام ''ایک انتھک اور مسلسل جدوجہد'' ہے۔

دو مرتبہ چلی کی صدر اور اقوام متحدہ میں خواتین کے ادارے کی سربراہ رہنے والی بیچلے نے اپنے عہدے سے باقاعدہ سبکدوشی سے قبل بدھ کو یو این نیوز کے ساتھ تفصیلی بات چیت کرتے ہوئے 'او ایچ سی ایچ آر' کی سربراہی کے اپنے چار سالہ دور کا تذکرہ کیا اور کہا کہ اگرچہ بعض معاملات میں انسانی حقوق کی صورت حال خراب ہوئی لیکن بہت سی جگہیں ایسی بھی تھیں جہاں اس حوالے سے ''اہم اقدامات'' دیکھنے کو ملے۔

ان کا کہنا تھا ''جیسا کہ زندگی میں ہمیشہ ہوتا ہے آپ اچھا وقت بھی دیکھتے ہیں اور مشکل لمحات کا سامنا بھی کرتے ہیں اور آپ کو دونوں طرح کے حالات میں کام کرنا پڑتا ہے''۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بنیادی حقوق سے متعلق اپنے کام کے دوران کبھی کسی دباؤ کے تحت خاموش نہیں رہیں۔

بیچلے کا کہنا تھا کہ ''میں کوئی بات کہنے یا نہ کہنے میں ہمیشہ آزاد رہی اور میں نے وہی کیا جو ضروری تھا۔''

چین میں ان کے حالیہ دورے سے متعلق طویل وقت سے اشاعت کی منتظر رپورٹ کے معاملے پر بیچلے نے کہا کہ انہوں  نے چین کے حکام پر اپنا مؤقف واضح کر دیا تھا اور اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے دفتر کے کسی سربراہ کی حیثیت سے گزشتہ 17 سال میں اس پہلے دورے کے موقع پر وہ جو کچھ کہنے آئی تھیں وہ بلا کم و کاست کہا۔

مشیل بیچلے نے چین کے علاقے گوانگجو کے اپنے دورے کے دوران چین کے صدر ژی پنگ سے ورچوئل ملاقات کی
© OHCHR
مشیل بیچلے نے چین کے علاقے گوانگجو کے اپنے دورے کے دوران چین کے صدر ژی پنگ سے ورچوئل ملاقات کی

انہوں ںے کہا کہ 'او ایچ سی ایچ آر' کی سربراہی بسا اوقات آپ پر متضاد نوعیت کی ذمہ داریاں عائد کرتی ہے جہاں آپ بیک وقت ''بے آوازوں کی آواز'' بھی بنتے ہیں اور بعض اوقات رہنمائی و مہارت کی فراہمی اور نگرانی و اطلاع کاری کو بہتر بنانے کے لیے اعلیٰ ترین سفارتی سطح پر ایسے رکن ممالک کے ساتھ بھی بات کر رہے ہوتے ہیں جو انسانی حقوق کے حوالے سے اپنے غیرہمدردانہ طرزعمل کے لیے جانے جاتے ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ جب ان کے جانشین کا انتخاب ہو جائے گا تو وہ ان کی رہنمائی کے لیے بہت سے مشورے دیں گی۔

یو این نیوز: چار سال پہلے جب آپ نے یہ عہدہ سنبھالا تو آپ نے یو این نیوز کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انسانی حقوق کا دفاع ایک ایسا کام ہے جو آپ کے جانے کے بعد ختم نہیں ہو جاتا۔ اپنے دور میں آپ نے کون سے اہم کام کیے اور کون سے ایسے مسائل تھے جو آپ حل نہ کر سکیں؟

مشیل بیچلے: میں آپ کو وہی جواب دوں گی جو میں نے چار سال پہلے دیا تھا۔ یہ ایک ایسا کام ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا اس لیے غالباً ایسے بہت سے کام تھے جو ہم نہ کر سکے یا ایسے کئی اہداف تھے جو ہم حاصل نہ کر پائے۔ ہم نے سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر بعض اہم اقدامات کیے۔ مثال کے طور پر ان میں جنرل اسمبلی کا یہ فیصلہ قابل ذکر ہے کہ صحت مند ماحول انسان کا حق ہے۔ اسی طرح آلودگی کے خلاف جدوجہد بھی ہمارے اہم اقدامات میں شامل ہے۔

یہ سول سوسائٹی کی ایک طویل جدوجہد تھی لیکن اس کے بعد ہمارے اور ڈبلیو ایچ او کے درمیان ایک مضبوط شراکت اس کام کو آگے بڑھا رہی ہے۔ انسانی حقوق کونسل کی قرارداد بھی قابل ذکر ہے جو اس وقت جنرل اسمبلی میں پیش ہوئی اور اسے بھی بھاری اکثریت سے منظور کیا گیا۔ اس لیے میں سمجھتی ہوں کہ یہ واقعی اہم کام تھے۔

میرے خیال میں انسانیت کو لاحق بدترین خطرہ وہ ہے جسے ہم زمین کا تہرا بحران کہتے ہیں اور موسمیاتی تبدیلی، آلودگی اور حیاتی تنوع کا نقصان اس کے اہم حصے ہیں۔ اس لیے اگر رکن ممالک اس معاملے میں عملی کوشش کریں تو میری رائے میں یہ واقعتاً ایک اہم قدم ہو گا۔

میرے خیال میں انسانیت کو لاحق بدترین خطرہ وہ ہے جسے ہم زمین کا تہرا بحران کہتے ہیں اور موسمیاتی تبدیلی، آلودگی اور حیاتی تنوع کا نقصان اس کے اہم حصے ہیں۔ اس لیے اگر رکن ممالک اس معاملے میں عملی کوشش کریں تو میری رائے میں یہ واقعتاً ایک اہم قدم ہو گا۔

اس دور میں کئی اور اہم کام بھی ہوئے۔ اس حوالے سے میں یہ کہوں گی کہ ہم نے سزائے موت کے خاتمے کی جانب پیشرفت دیکھی۔ 170 سے زیادہ ممالک یا تو سزائے موت کو پہلے ہی ختم کر چکے ہیں یا انہوں ںے اسے کسی نہ کسی صورت معطل کر رکھا ہے اور مزید ممالک نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھی ایسا ہی کریں گے۔ میں اسے بھی بہت اچھی خبر سمجھتی ہوں۔

بعض جگہوں پر ہم لوگوں کی مدد کرنے کے قابل رہے اور اسی وجہ سے ان کی آوازیں سنی جا رہی ہیں اور اگر میں کہوں تو انسانی حقوق، خواتین کے حقوق یا بچوں کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے حوالے سے قوانین میں مثبت تبدیلی آ رہی ہے۔

میں یہ بھی کہوں گی کہ ہم انسانی حقوق کے محافظوں کے تحفظ کے لیے بھی کام کرتے رہے ہیں۔

یہ ہمیشہ سے ایک ایسا کام رہا ہے جس کے بڑے، درمیانے اور چھوٹے اہداف ہوتے ہیں کیونکہ آپ کو ایک دوسرے سے مختلف نوعیت کے بہت سے اقدامات کرنا ہوتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں اپنا کام جاری رکھنا ہو گا۔ اگر کوئی ہائی کمشنر یہ کہے کہ سب کچھ ہو گیا ہے تو میں اسے کہوں گی، سنیے، یہ سچ نہیں ہے۔

سپین کے شہر میڈرڈ میں سال دوہزار انیس کو ہونے والی COP25 کانفرنس کے دوران مشیل بیچلے نے ماحول کے تحفظ کے لیے سرگرم سوئیڈن کی گریٹا تھرنبرگ سے ملاقات کی تھی۔
© OHCHR/Anthony Headley
سپین کے شہر میڈرڈ میں سال دوہزار انیس کو ہونے والی COP25 کانفرنس کے دوران مشیل بیچلے نے ماحول کے تحفظ کے لیے سرگرم سوئیڈن کی گریٹا تھرنبرگ سے ملاقات کی تھی۔

یو این نیوز: یہ چار برس انسانی حقوق کے اصولوں کا کڑا امتحان رہے ہیں جب ہمیں بے مثل وبا سے لے کر نئی اور غیرمتوقع جنگوں اور خواتین کے حقوق پر حملوں سے لے کر فوجی بغاوتوں اور نئی آمریتوں تک بہت کچھ دیکھنا پڑا۔ کیا آپ سمجھتی ہیں کہ عالمگیر انسانی حقوق کے ارتقاء کا عمل پسپائی اختیار کر رہا ہے؟ کیا یہ عمل واپسی کی جانب گامزن ہے؟

مشیل بیچلے: دیکھیے، آپ درست کہتے ہیں، میں کہوں گی کہ گزشتہ چار سال کے دوران دنیا میں ڈرامائی تبدیلیاں آئی ہیں۔ آپ وباء اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے کڑے اثرات کا پہلے ہی ذکر کر چکے ہیں۔ اب ہم یوکرین میں جنگ کے نتیجے میں خوراک، ایندھن اور مالیات کے بحرانوں کے تیز جھٹکے محسوس کر رہے ہیں۔

ہم نے عالمی سطح پر بہت بڑے پیمانے پر تقسیم دیکھی ہے اور ہم میانمار، برکینا فاسو، گنی اور مالی میں احتجاجی تحریکیں، فوجی بغاوتیں اور افغانستان میں حکومت پر طالبان کا قبضہ بھی دیکھ چکے ہیں۔

لہٰذا میں کہوں گی کہ سب کچھ صرف ایک ہی سمت میں نہیں ہو رہا کیونکہ ایک جانب آپ بہت سی چیزوں کو غلط سمت میں جاتا بھی دیکھ رہے ہیں جن سے انسانی حقوق کے فروغ میں مدد نہیں مل رہی۔

ہم اسے نظرانداز نہیں کر سکتے کیونکہ کسی نے نہیں سوچا تھا کہ یورپ میں ایک نئی جنگ شروع ہو سکتی ہے اور اب ہم یہی دیکھ رہے ہیں۔ ہم نے سوچا تھا کہ انسانی حقوق یقینی بنا دیے گئے ہیں جبکہ ایسا نہیں تھا۔ ہم نے دیکھا ہے کہ جو ممالک ہمیشہ انسانی حقوق کی بات کرتے تھے وہ ہمیشہ لازمی طور پر ان کا احترام نہیں کرتے۔

میں کہوں گی کہ یہ ایک متواتر اور مسلسل جدوجہد ہے کہ ہم نے ناصرف آگاہ رہنا ہے بلکہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے بھی کہنا ہے کہ وہ انسانی حقوق کا تحفظ کریں اور انہیں فروغ دیں اور ہمیں سول سوسائٹی کی مدد بھی کرنا ہے تاکہ وہ بھی اپنا کردار ادا کر سکے۔ گزشتہ عرصہ میں ہم نے بہت سی اہم تحریکیں بھی دیکھی ہیں جن میں نوجوانوں کا کرہ ارض کے تحفظ کے لیے احتجاج، خواتین کی 'می ٹو' مہم یا 'بلیک لائیوز میٹر' تحریک اور باقاعدہ نسل پرستی کو روکنے کے لیے ہونے والے مظاہرے قابل ذکر ہیں۔ میں کہوں گی کہ بعض جگہوں پر ہمیں پسپائی ہوئی ہے لیکن دوسری جانب بہت سے معاملات میں اہم اقدامات بھی اٹھائے گئے ہیں۔ اس لیے جیسا کہ زندگی میں ہمیشہ ہوتا ہے، آپ اچھے برے ہر طرح کے حالات کا سامنا کرتے ہیں اور آپ کو ہر حال میں اچھے کے لیے کام کرنا ہوتا ہے۔

یو این نیوز: مشکل اوقات کی بات کی جائے تو انسانی حقوق کے دفتر کی سربراہی کے دوران ذاتی طور پر کون سے لمحات آپ کے لیے مشکل ترین رہے ہیں؟

مشیل بیچلے: میں سمجھتی ہوں کہ مجھے کئی طرح کی مشکل صورتحال کا سامنا رہا۔ بعض اوقات آپ کو ایسے خوفناک انفرادی معاملات سے نمٹنا پڑتا ہے جو آپ پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ لیکن دوسری جانب جب آپ کسی جگہ جاتے ہیں اور وہاں لوگوں کی تکالیف کا مشاہدہ کرتے ہیں تو آپ یہ درد ذاتی طور پر محسوس کرتے ہیں، جیسا کہ کچھ عرصہ قبل مجھے کاکس بازار میں روہنگیا لوگوں سے بات کرنے کا موقع ملا جو ہمیں یعنی اقوام متحدہ سے کہہ رہے تھے کہ وہ ان کی میانمار میں واپسی یقینی بنائے۔ ہم اِس وقت یہ یقینی نہیں بنا سکتے کیونکہ ان کی محفوظ واپسی کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں۔

لیکن دوسری جانب آپ جوش و جذبے سے معمور لوگوں کو دیکھتے ہیں جو اپنے ملک واپس جانا چاہتے ہیں۔ کووڈ۔19 وباء ایک ایسا معاملہ تھا جو ناصرف دنیا میں بلکہ ہمارے دفتر میں بھی بہت سی مشکلات لایا کیونکہ اس سے سب کچھ تبدیل ہو گیا۔

ہمیں خود کو نئی صورتحال کے مطابق ڈھالنا اور پہلے سے مختلف حالات میں جینا سیکھنا پڑا۔ کاروبار زندگی بند ہونا اور دوسروں سے الگ تھلگ رہنا بہت سے لوگوں کے لیے واقعی بہت سی پیچیدگیاں لایا جس سے خاص طور پر ہمارے اُن ساتھیوں کو بھی بہت مشکل پیش آئی جن کے ساتھ چھوٹے بچے ہیں۔ دوسری جانب ہمیں ویکسین اور علاج معالجے تک رسائی کے حوالے سے غیرمساوی صورتحال سے بھی نمٹنا پڑا۔

کووڈ۔19 کے نتیجے میں دنیا بھر میں عیاں ہو جانے والی عدم مساوات کو دیکھ کر مجھ پر یہ واضح ہو گیا کہ وبا کے بعد جب ہم بحالی کے قابل ہو جائیں گے تو ہمارا مقصد پرانے معمول کی جانب واپسی نہیں ہو گا کیونکہ یہ معمول بہت برا تھا۔ یہ معمول ہی ہمیں اس مقام تک لایا لیکن اس نے ہمیں یہ بات کرنے کا امکان بھی مہیا کیا کہ ٹھیک ہے، اب ہم اپنا مستقبل کیسا دیکھنا چاہتے ہیں؟ اسی لیے ہم نے ''پہلے سے بہتر بحالی'' کی بات کرنا شروع کی لیکن اب ہم اسے ''پہلے سے بہتر ترقی'' سے تبدیل کر رہے ہیں۔  لہٰذا ہمیشہ ہر مسئلہ اپنے ساتھ مواقع بھی لاتا ہے۔

مشیل بیچلے نے برکینا فاسو کا دورہ بھی کیا
© OHCHR/Anthony Headley
مشیل بیچلے نے برکینا فاسو کا دورہ بھی کیا

یو این نیوز: آپ کے پیشرو زید رعد الحسین نے اس ادارے میں اپنی سربراہی کے اختتام پر کہا تھا کہ ناانصافی کے سامنے خاموش رہنے سے بہتر ہے کہ آپ کھل کر بولیں چاہے آپ کی بات کچھ غلط ہی کیوں نہ ہو۔ کیا آپ بھی کبھی کسی ایسی صورتحال میں خاموش رہنے پر مجبور ہوئیں جہاں آپ کو بولنا چاہیے تھا یا آپ نے ہر وقت آزادانہ طور سے بات کی۔ کیا آپ کو کبھی کوئی سمجھوتے بھی کرنا پڑے؟

مشیل بیچلے: پہلی بات تو یہ کہ میں اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل ہوں۔ اس لیے جب میں بات کرتی ہوں تو اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی حیثیت سے بولتی ہوں اور میں جو درست سمجھتی ہوں وہی کہتی ہوں۔ لیکن میں عام فرد کی حیثیت سے بات نہیں کرتی بلکہ میں اقوام متحدہ کی جانب سے بات کرتی ہوں۔

جہاں تک اپنے ضمیر کی آواز پر دھیان دینے کی بات ہے تو میں ںے ہمیشہ آزادانہ طور سے اپنی بات کہی ہے یا وہی کہا جو میرے خیال میں کہنا ضروری تھا۔

میں ہمیشہ یہ دیکھنے کی کوشش کرتی ہوں کہ ہر صورتحال میں سب سے بہتر راستہ کون سا ہے کیونکہ تمام حالات ایک جیسے نہیں ہوتے۔ بعض اوقات آپ کوئی ایک بات ہی کر سکتے ہیں۔ بعض حالات میں آپ کو یہ بھی محسوس ہو سکتا ہے کہ آپ کسی اور حکمت عملی سے کام لے سکتے ہیں لیکن میں نے ایسا کبھی محسوس نہیں کیا کہ کسی نے مجھے خاموش رہنے پر مجبور کر دیا ہو۔ میں نے جیسا ضروری سمجھا، کوئی بات کہنے یا نہ کہنے میں ہمیشہ آزاد رہی۔

یو این نیوز: آپ کا ایک آخری دورہ چین کا تھا۔ آپ کے خیال میں اس دورے میں آپ کو کون سی کامیابی ملی؟

مشیل بیچلے: سب سے پہلے تو مجھے یہ کہنا ہے کہ یہ پچھلے 17 برس میں کسی ہائی کمشنر کا چین کا پہلا دورہ تھا جس میں مجھے وہاں قومی، علاقائی اور مقامی و صوبائی سطح کے حکام سے ملاقات کا موقع ملا۔ اس دوران میں نے انہیں وہی پیغامات دیے جو میرے خیال میں انہیں انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کی زبانی سننا چاہئیے تھے۔ اس موقع پر میں نے آزادانہ طور سے مشاہدہ کیا کہ کون سی چیزوں کو تبدیل ہونا چاہیے اور قانون اور پالیسی کو انسانی حقوق کے عالمگیر قانون کے مطابق بنایا جانا چاہیے۔ میرے خیال میں مجھے ان کے ساتھ جو بات کرنا چاہیے تھی وہ میں ںے آزادانہ طور سے کی۔

یہ سب کے لیے اہم ہے کہ ہمیں تمام رکن ممالک اور تمام فریقین کے سات بات چیت کرنے اور تعلق رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور میں ہمیشہ یہ سمجھتی ہوں کہ بعض اوقات بات چیت سے اچھے نتائج نکلتے ہیں اور کبھی نہیں نکلتے۔

ہم چین یا برطانیہ یا امریکہ یا کسی ترقی پذیر ملک کے لیے اس پالیسی کو تبدیل نہیں کر سکتے، ہم نے ان کے ساتھ طے کر رکھا ہے کہ مستقبل میں 'او ایچ سی ایچ آر' نے ان کے ایسے مخصوص قوانین کا تجزیہ کیسے کرنا ہے جن کے بارے میں ہم محسوس کرتے ہیں کہ وہ انسانی حقوق کے قوانین سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اس کے ساتھ ہم ان سے اقلیتوں اور انسانی حقوق، نسلی گروہوں اور انسانی حقوق، مذہبی آزادی اور انسانی حقوق اور کاروبار اور انسانی حقوق سے متعلق امور پر بھی بات کرتے ہیں۔

مشیل بیچلے کانگو کے دورہ کے دوران
© OHCHR/Anthony Headley
مشیل بیچلے کانگو کے دورہ کے دوران

یو این نیوز: یوکرین جیسی جنگوں میں انسانی حقوق کی پامالی واضح دکھائی دیتی ہے اور دوسری جانب یمن یا ٹیگرے جیسے تنازعات میں حقوق کی ایسی ہی خلاف ورزیاں نگاہوں سے اوجھل رہتی ہیں۔ ان دونوں حالات میں آپ کیا قدم اٹھانا چاہیں گی؟

مشیل بیچلے: ہم ان تمام مسائل پر کام کرتے رہتے ہیں، لیکن میں چاہوں گی کہ عالمی برادری ان حالات کو مت بھولے اور بعض اوقات اس لیے بھی کہ بہت سی چیزیں ایجنڈے پر ہوتی ہیں اور بعض چیزیں سیاسی حوالے سے میڈیا میں زیادہ اہمیت اختیار کر لیتی ہیں۔ ان میں کسی طویل جنگ سے متعلق چیزیں خاص طور پر اہم ہیں جن کے بارے میں میرا خیال ہے کہ انہیں بھلا دیا جاتا ہے اور وہاں کے لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ عالمی برادری نے انہیں اکیلا چھوڑ دیا ہے۔ مثال کے طور پر ہم نے دیکھا کہ یمن میں جنگ بندی کے باوجود انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔

لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ جنگ بندی ایک اچھی چیز ہے لیکن اب ہمیں سیاسی بات چیت کی اور سیاسی عمل کی ضرورت ہے اور ہمیں عام شہریوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ اس لیے میرے خیال میں جنگ میں کمی کے نتیجے میں وہاں امدادی اداروں کے کام کی صلاحیت میں بہتری آئی ہے۔

مثال کے طور پر میں نے ساحل خطے میں برکینا فاسو، نائیجر اور مالی کے دورے میں بہت سے باہم تقاطع بحرانوں کا مشاہدہ کیا۔ میرے خیال میں یہ ضروری ہے کہ عالمی برادری ان ممالک کے لیے اپنی مدد میں اضافہ کرے۔

یو این نیوز: آخری سوال یہ ہے کہ کیا آپ اپنے جانشین کو کوئی مشورہ یا سفارشات پیش کرنا چاہیں گی۔

مشیل بیچلے: میں امید کرتی ہوں کہ اس عہدے پر جس شخصیت کا بھی انتخاب ہو اس کے ساتھ مجھے ذاتی طور پر بات چیت کا موقع ملے گا۔ جی ہاں، ان کے لیے میرے مشورے حاضر ہوں گے۔ سب سے پہلے تو میں انہیں اپنے تجربات سے آگاہ کرنا چاہوں گی کیونکہ اس عہدے پر براجمان ہونے سے پہلے آپ کو بہت سی چیزوں کا اندازہ نہیں ہوتا۔ اس لیے میں نے یہاں رہتے ہوئے جو کچھ سیکھا اس سے اپنے جانشین کو بھی آگاہ کر سکتی ہوں۔

میرا ان کے لیے مشورہ یہ ہو گا کہ وہ تمام رکن ممالک اور فریقین کے ساتھ کھل کر بات کریں اور ان سے رابطہ رکھیں اور میں ان پر واضح کروں گی کہ اس عہدے پر کام کرنا اس لیے مشکل ہے کہ یہاں رہتے ہوئے آپ نے بے آوازوں کی آواز بننا ہوتا ہے۔ لیکن دوسری جانب یہ آپ کو رکن ممالک کے ساتھ چلنے، انہیں تکنیکی معاونت فراہم کرنے، ان کی صلاحیت کو بہتر بنانے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی نگرانی اور ان کے بارے میں اطلاع کاری کے لیے بھی کہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات یہ عہدہ آپ پر متضاد نوعیت کی ذمہ داریاں عائد کرتا ہے اور اسی لیے یہاں کام کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ لیکن ان حالات سے نمٹنے اور اپنا راستہ بنانے کے طریقے بھی موجود ہیں۔ اس لیے میں ان نکات کے حوالے سے انہیں مخصوص مشورہ دینا چاہوں گی۔

یو این نیوز: ہائی کمشنر مشیل بیچلے، آپ کا بہت شکریہ۔

Michelle Bachelet’s mandate as UN Human Rights Chief Comes to an End