زمین کے بڑھتے بنجر پن سے دنیا کے تین ارب لوگ متاثر
زمین کی زرخیزی میں کمی آنے اور بنجر پن کا مسئلہ دنیا میں تین ارب لوگوں کو متاثر کر رہا ہے جس کے باعث مہاجرت، عدم استحکام اور عدم تحفظ میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا ہے۔
زمین کی زرخیزی میں کمی آنے اور بنجر پن کا مسئلہ دنیا میں تین ارب لوگوں کو متاثر کر رہا ہے جس کے باعث مہاجرت، عدم استحکام اور عدم تحفظ میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا ہے۔
عالمی ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) نے بتایا ہے کہ چائے اور کافی جیسے گرم مشروبات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث رواں سال دنیا بھر میں خوراک پر اٹھنے والے مجموعی اخراجات 2 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔
پاکستان میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے سمارٹ فارمنگ کا ایسا نمونہ تیار کیا گیا ہے جس سے پانی اور کھادوں کی بچت کرتے ہوئے کم رقبے پر بڑی فصل اگا کر بہت سے زرعی و ماحولیاتی مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو دور رکھنے میں زرعی غذائی نظام کا اہم کردار ہے اور اس شعبے میں نقصان و تباہی کے ازالے کے لیے مزید مالی وسائل مہیا کرنا ہوں گے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) نے بتایا ہے کہ اگرچہ زرعی خوراک کے موجودہ نظام غذائیت فراہم کرتے اور معیشت کو مستحکم رکھتے ہیں، تاہم ان سے صحت اور ماحول کو سالانہ 10 ٹریلین ڈالر کا نقصان بھی ہوتا ہے۔
اقوام متحدہ نے نظام ہائے خوراک میں تیزرفتار تبدیلی کے لیے ایک اقدام کا آغاز کیا ہے۔ اس موقع پر ادارے کی نائب سیکرٹری جنرل نے اس اقدام کے اہم مقاصد بتائے ہیں جن کا مقصد پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے حصول کا عمل دوبارہ درست سمت میں لانا ہے۔
خوراک اور ایٹمی توانائی سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے اختراعی 'خلائی نباتاتی'' تحقیق کے ثمرات حاصل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جنہوں نے اعلان کیا ہے کہ 2022 میں خلا میں بھیجے جانے والے بیج اب زمین پر واپس آنے کو ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت نے یوکرین میں کسانوں اور چھوٹے زمینداروں کے لیے 15.5 ملین ڈالر کے امدادی اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں غذائی بحران سے بچنے کے لیے کسانوں کو فوری طور پر مزید مدد کی ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے تازہ ترین جائزے کے مطابق یوکرین پر روس کے حملے سے نو ماہ بعد دیہی گھرانے بڑی حد تک زرعی سرگرمیوں کو محدود یا ترک کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) نے اعدادوشمار پر مبنی اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا ہے کہ دنیا بھر میں لیے جانے والے حراروں (کیلریز) کی فی کس شرح پورے نو فیصد اضافے کے بعد گزشتہ برس اوسطاً 2,960 روزانہ رہی۔