انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یمن

یمن کے شہر تیض کا  علاقہ الجمالیہ طویل خانہ جنگی میں بری طرح متاثر ہوا ہے۔
© WFP/Mohammed Awadh

یمن: یو این نمائندے کا ’جنگی قیدیوں‘ کی رہائی کا خیر مقدم

یمن کی طویل جنگ میں قیدیوں کا ایک بڑا تبادلہ جمعے کو شروع ہو گیا ہے۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ہینز گرنڈ برگ نے متحارب فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ زدہ ملک کے پُرامن مستقبل کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔

مارب میں پناہ گزینوں کے ایک کیمپ میں قائم سکول میں بچے تعلیم حاصل کرتے ہوئے۔
© UNICEF

یمن میں فریقین کے درمیان مذاکرات خوش آئند، اقوام متحدہ

اختتام ہفتہ پر یمن کے دارالحکومت صنعا میں سعودی اور اومانی وفود کی حوثی باغی تحریک کے حکام کے ساتھ بات چیت کو اقوام متحدہ کے ترجمان نے ''کشیدگی میں کمی لانے کی جانب ایک خوش آئند قدم'' قرار دیا ہے۔

یمن کے علاقے موکھا کی عارضی پناہ گاہوں میں مقیم بچے۔
© WFP/Annabel Symington

یمن: بچوں کو بھوک سے بچانے کے لیے یونیسف کی ہنگامی اپیل

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال نے خبردار کیا ہے کہ فوری اقدامات نہ کئے گئے تو یمن میں لاکھوں لوگوں کو بھوک اور غذائی قلت کے پہلے سے کہیں زیادہ شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

گزشتہ برس یمن میں بھوک کا شکار لوگوں کی تعداد میں تقریباً 20 لاکھ تک کمی ہوئی ہے۔
© UNICEF/Saleh Bin Hayan YPN

یمن: رمضان کی آمد پر فریقین کو جنگ میں وقفہ برقرار رکھنا چاہیے

اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ ماہ رمضان قریب آنے پر یمن میں فریقین کو ملک بھر میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات اور اشد امدادی ضروریات پوری کرنے کے لیے حالیہ امن اور اپریل 2022 سے جاری جنگ بندی کو تقویت دینی چاہیے۔

یمن کے 21 ملین سے زیادہ لوگوں یا دو تہائی آبادی کو تاحال مدد اور تحفظ درکار ہے۔
© UNHCR/Ahmed Al-Mayadeen

یمن میں امدادی سرگرمیوں کے لیے 4.3 ارب ڈالر کی اپیل

عطیہ دہندگان جنگ زدہ یمن میں 17.3 ملین لوگوں کو مدد اور تحفظ مہیا کرنے کے کی غرض سے 4.3 بلین ڈالر جمع کرنے کے لیے سوموار کو جینیوا میں اجلاس کر رہے ہیں۔ یمن کو اس وقت دنیا میں سب سے بڑے انسانی بحران کا سامنا ہے۔

ایتھوپیا سے ہجرت کرنے والے مہاجرین صحرائے جبوتی سے گزر رہے ہیں۔
© IOM/Alexander Bee

یمن کے پُرخطر راستے سے گزرنے والے مہاجرین کے لیے 84 ملین ڈالر امداد کی اپیل

عالمی ادارہ برائے مہاجرین (آئی او ایم) اور اس کے شراکت دار شاخِ افریقہ میں دس لاکھ سے زیادہ مہاجرین اور ان کی میزبان آبادیوں کو انسانی و ترقیاتی امداد مہیا کرنے کے لیے 84 ملین ڈالر کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں۔