Skip to main content

طالبان

وسطی افغانستان کے علاقے شارستان میں لڑکیاں اور لڑکے یونیسف کی مدد سے کام کرنے والے ایک پرائمری سکول میں پڑھنے جا رہے ہیں۔
© UNICEF/Mark Naftalin

طالبان سے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی ختم کا مطالبہ

افغانستان میں طالبان کی جانب سے لڑکیوں کو ثانوی درجے کی تعلیم سے روکنے کے حکم کو دو سال مکمل ہونے پر ہنگامی حالات میں تعلیم سے متعلق اقوام متحدہ کے فنڈ کی سربراہ نے عالمی برادری سے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں ہر لڑکی کے لیے تعلیمی مواقع یقینی بنائے۔

جلال آباد کے گورنر کی رہائش گاہ کے باہر افغانستان کے موجودہ حکمران طالبان کے جھنڈے لہرا رہے ہیں۔
UN News / Ezzat El-Ferri

طالبان پر سابقہ حکومت کے اہلکاروں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا الزام

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یونیما) میں انسانی حقوق کی خدمات کے شعبے نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں طالبان حکام پر سابق حکومت کے عہدیداروں اور مسلح افواج کے ارکان کے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

یو این ویمن کی سربراہ سیما باحوس کا کہنا ہے کہ طالبان ملک بھر میں خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کو منظم انداز اور وسیع پیمانے پر نشانہ بنا رہے ہیں جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی (فائل فوٹو)۔
UN Photo/Eskinder Debebe

طالبان کو خواتین کے ساتھ اپنے سلوک پر نظرثانی کرنی چاہیے: سیما باحوس

صنفی مساوات کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے 'یو این ویمن' کی سربراہ سیما باحوس نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان میں تبدیلی کے لیے وہاں کے حکمرانوں پر دباؤ جاری رکھے۔

صوبہ بلخ کے شہر مزار شریف میں لڑکیوں کا ایک سکول۔
© UNICEF/Mark Naftalin

طالبان کے دو سال: افغان لڑکیوں کی تعلیم کے لیے اقوام متحدہ کی مہم

اقوام متحدہ کے فنڈ 'تعلیم انتظار نہیں کر سکتی' (ای سی ڈبلیو) نے تعلیم کے بنیادی حق سے محروم رکھی جانے والی افغان لڑکیوں کی آواز دنیا تک پہنچانے کے لیے ایک مہم شروع کی ہے۔

خواتین افغانستان کے واحد زچہ ہسپتال میں معائنے کے لیے اپنی باری کی منتظر کھڑی ہیں۔
© UNICEF/Shehzad Noorani

افغانستان: ’اصلاح پسند طالبان‘ کا وجود ایک غلط فہمی ہے، ماہرین

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ماہرین نے کہا ہے کہ افغانستان میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے دو سال بعد بھی طالبان بدستور بہت سے انسانی حقوق کو پامال کر رہے ہیں جن میں لڑکیوں اور خواتین کا استحصال سرفہرست ہے۔

UN News / David Mottershead

انٹرویو: افغانستان کو تنہائی سے نکالنے اور دنیا سے جوڑنے کی ضرورت

اگست 2021 میں جب طالبان دوبارہ برسراقتدار آئے تو افغانستان فی الواقع باقی دنیا سے الگ ہو گیا اور انسانی حقوق کو مزید محدود کرنے کے لیے حکام کی جانب سے لیے گئے فیصلوں نے ملک کی تنہائی مزید بڑھا دی۔

وسطی افغانستان کا دور دراز علاقہ دائیکنڈی۔
© UNICEF/Mark Naftalin

’خواتین پر پابندیاں طالبان حکومت کے قانونی جواز میں رکاوٹ‘

افغانستان میں اقوام متحدہ کی اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ ملک کے موجودہ حکمرانوں کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں پر عائد کردہ بہت سی پابندیاں طالبان کی اندرون و بیرون ملک ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور ملک بھر میں بھی ان پابندیوں کی مخالفت پائی جاتی ہے۔

قندھار کے ایک گاؤں میں موبائل ہیلتھ یونٹ کی نرسیں خواتین کو گھر گھر جا کر طبی خدمات مہیا کرتی ہیں۔
© UNOCHA/Charlotte Cans

افغانستان: طالبان ’صنفی عصبیت‘ کے ممکنہ قصوروار، انسانی حقوق ماہرین

سوموار کو انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں افغان خواتین اور لڑکیوں کی حالت زار موضوع بحث رہی جہاں انسانی حقوق کے لئے اقوام متحدہ کے متعین کردہ غیر جانبدار ماہرین نے منظم "صنفی عصبیت" اور "صنفی بنیاد پر مظالم" کے بارے میں خبردار کیا۔