انسانی کہانیاں عالمی تناظر

صنفی مساوات

خواتین اور لڑکیوں کا قتل دنیا میں ایک وباء کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
© Unsplash/Mika Baumeister

خواتین کے خلاف تشدد ایک سنگین عالمی بحران

خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد دنیا میں سب سے زیادہ پھیلنے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں سے ایک ہے جو روزانہ کی بنیاد پر دنیا کے ہر کونے میں جاری ہے۔ یہ تشدد نہ صرف متاثرین کی جسمانی، ذہنی اور معاشی صحت پر تباہ کن اثرات مرتب کرتا ہے بلکہ ان کی سماجی زندگی میں مکمل اور مساوی شرکت کی راہ میں بھی ایک بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔

ارجنٹائن میں نوجوانوں کے موسم و ماحولیاتی تحفظ سے متعلق گروپ کے ارکان۔
© UNICEF/Sebastian x Gil

امن کوششوں میں نوجوان خواتین کو مرکزی اہمیت دی جائے، ڈی کارلو

قیام امن اور سیاسی امور کے لیے اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو نے کہا ہے کہ دنیا میں امن کو خطرات لاحق ہیں اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے، تاہم نوجوان خواتین ثابت کر رہی ہیں کہ بہتر دنیا بھی ممکن ہے۔

تصادم اور عدم استحکام والے علاقوں میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف صنفی بنیادوں پر تشدد کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
© UNICEF/Josué Mulala

دنیا کی ہر تیسری خاتون یا لڑکی کو جسمانی یا جنسی تشدد کا سامنا، رپورٹ

ایک تازہ ترین تحقیق کے مطابق دنیا میں تقریباً 73 کروڑ خواتین اپنے شوہر یا کسی اور مرد کے ہاتھوں جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار بنائی جا چکی ہیں۔ یہ دنیا بھر میں 15 سال سے زیادہ عمر والی خواتین و لڑکیوں کا 30 فیصد حصہ ہے۔

زندگی کے ہر مرحلے پر غریب افراد میں خواتین کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔
© UNICEF/Magray

دنیا میں دو ارب خواتین کسی بھی طرح کے سماجی تحفظ سے محروم

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین (یو این ویمن) نے بتایا ہے کہ دنیا بھر میں خواتین کی بڑی تعداد کو مالی تعاون سے لے کر صحت اور پینشن تک سماجی تحفظ کی بہت سی خدمات تک رسائی نہیں ہے جس کے باعث وہ غربت کے خطرے سے دوچار ہیں۔

امن و سلامتی اور خواتین کے موضوع پر سلامتی کونسل کے اجلاس کا ایک منظر۔
UN Photo/Manuel Elías

یو این امن کاری سے دستبرداری صنفی مساوات کے لیے خطرہ

اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام نے ادارے کی امن کارروائیوں اور اس کے خصوصی سیاسی مشن بند یا محدود کرنے کے حالیہ فیصلوں سے جنگ زدہ علاقوں میں خواتین کے تحفظ اور صنفی مساوات کو لاحق خطرات کے بارے میں متنبہ کیا ہے۔

نوعمری یعنی 18 سال سے کم عمر کی شادی بھی تشدد کے امکانات میں اضافہ کرتی ہے خاص طور پر جب میاں بیوی کے درمیان عمروں کا فرق ہو۔
UN News/ Conor Lennon

نوعمر لڑکیوں کو اپنے ہی بوائے فرینڈ یا شوہروں سے تشدد کا سامنا

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ دنیا بھر میں ازدواجی یا غیرازدواجی جسمانی تعلق میں رہنے والی نوعمر لڑکیوں میں سے ایک کروڑ 90 لاکھ 20 سال کی عمر میں پہنچنے تک اپنے ساتھی کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بن چکی ہوں گی۔

ماہرین کے مطابق اگر موجودہ رجحانات جاری رہتے ہیں تو مصنوعی ذہانت سے چلنے والی ٹیکنالوجی اور خدمات میں متنوع صنفی اور نسلی نقطہ نظر کی کمی برقرا رہے گی۔
© ITU/D.Woldu

جانیے کہ کیا مصنوعی ذہانت بھی صنفی عدم مساوات کا شکار ہے؟

اگرچہ دنیا بھر میں خواتین کی انٹرنیٹ تک رسائی میں اضافہ ہوا ہے لیکن کم آمدنی والے ممالک میں صرف 20 فیصد خواتین کو ہی انٹرنیٹ میسر ہے۔ صنفی ڈیجیٹل تقسیم سے معلومات کا خلا پیدا ہوتا ہے جسے مصنوعی ذہانت میں صنفی تعصب کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔

نیو یارک کے واشنگٹن سکویئر پارک میں گزشتہ سال ہونے والی پرائڈ پریڈ کا ایک منظر۔
© Unsplash/Shavnya.com

انسانی وقار جنسی و صنفی رحجانات سے بالاتر ہونا چاہیے، گوتیرش

ہم جنس پرستوں، دو جنسی رحجانات کے حامل اور ٹرانس جینڈر افراد سے نفرت کے خلاف عالمی دن پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے تمام لوگوں کا احترام، وقار اور ان کے انسانی حقوق یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔