میانمار میں غلط معلومات اور نفرت انگیزی پر یو این کو تشویش
میانمار میں کام کرنے والی اقوام متحدہ کی ٹیم نے ملک کی تشدد زدہ ریاست راخائن میں گمراہ اطلاعات کے پھیلاؤ اور اظہار نفرت میں اضافے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
میانمار میں کام کرنے والی اقوام متحدہ کی ٹیم نے ملک کی تشدد زدہ ریاست راخائن میں گمراہ اطلاعات کے پھیلاؤ اور اظہار نفرت میں اضافے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے سمندر میں روہنگیا مہاجرین کی اموات کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کے لیے کہا ہے جن میں حالیہ دنوں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔
اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے بنگلہ دیش میں قیام پذیر لاکھوں روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے غذائی امداد میں دوبارہ اضافہ کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ نے انڈونیشیا میں روہنگیا پناہ گزینوں کے خلاف حملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کا تحفظ یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔
میانمار میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے خصوصی اطلاع کار ٹام اینڈریوز نے بنگلہ دیش سے روہنگیا پناہ گزینوں کی انڈونیشیا آمد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی ہنگامی مدد پر زور دیا ہے۔
پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے 'یو این ایچ سی آر' نے عالمی برادری سے کہا ہے کہ وہ بنگلہ دیش میں تقریباً ایک ملین روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کے عہد کی تجدید کرے تاکہ ان کے لیے امدادی اقدامات اور سیاسی مدد کو برقرار رکھا جا سکے۔
عالمی ادارہ برائے خوراک کے مطابق بنگلہ دیش کے جنوب میں واقع کیمپوں میں رہنے والے روہنگیا پناہ گزینوں کی ضروری امداد کے لیے اِس وقت فراہم کردہ مالی وسائل ناکافی ہیں جس کی وجہ سے گزشتہ تین ماہ میں غذائی امداد میں دوسری مرتبہ کٹوتی کرنا پڑی ہے۔
انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے مقرر کردہ غیرجانبدار ماہر نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش روہنگیا پناہ گزینوں کو میانمار واپس بھیجنے کے لئے شروع کئے جانے والے تجرباتی منصوبے کو فوری معطل کرے کیونکہ میانمار میں ان کی زندگی اور آزادی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
بنگلہ دیش میں اقوام متحدہ نے روہنگیا پناہ گزینوں کو دی جانے والی امدادی خوراک میں دوسری مرتبہ کٹوتی کی مذمت کی ہے۔ عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کو مالی امداد میں 56 ملین ڈالر کمی کے باعث یہ کٹوتی کرنا پڑی ہے۔
اقوام متحدہ کے اداروں نے جمعے کا دن بنگلہ دیش اور میانمار میں لوگوں کے ساتھ مل کر سمندری طوفان موچا سے بچاؤ کی تیاری میں گزارا جو متوقع طور پر ہفتے کے آخر تک اس خطے سے ٹکرائے گا۔