آئی او ایم کا یزیدی نسل کُشی کی یادگار بنانے کا خیر مقدم
عراق میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے صوبہ سنجار میں دہشت گرد تنظیم داعش کے ہاتھوں قتل کی جانے والی یزیدی خواتین کی یادگار قائم کیے جانے کا خیرمقدم کیا ہے۔
عراق میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے صوبہ سنجار میں دہشت گرد تنظیم داعش کے ہاتھوں قتل کی جانے والی یزیدی خواتین کی یادگار قائم کیے جانے کا خیرمقدم کیا ہے۔
انیس اگست دو ہزار تین کی سہ پہر بغداد کے کینال ہوٹل میں واقع اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر کو ایک تباہ کن بم حملے سے بری طرح نقصان پہنچا تھا۔ اس دھماکے کے نتیجے میں اس وقت کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق سرگیو وییرا ڈی میلو سمیت 22 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اقوام متحدہ میں سیاسی امور کی ایک اعلیٰ افسر نے بتایا ہے کہ کیسے 2003 میں عراقی دارالحکومت بغداد کے کینال ہوٹل میں ادارے کے دفاتر پر حملے کے بعد ملک میں اقوام متحدہ کی موجودگی برقرار رکھ کر اس حملے کے متاثرین کی قربانیوں کا اعتراف کیا گیا۔
عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کے عملے کے ایک سابق رکن ان بےپایاں نفسیاتی زخموں کے بارے میں بتاتے ہیں جو انہیں 2003 میں بغداد کے کینال ہوٹل میں اقوام متحدہ کے دفاتر پر دہشت گردی کے خوفناک حملے کے بعد سہنا پڑے۔
عراق کے دارالحکومت بغداد میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملے میں ہلاک ہونے والے عملے کے ایک رکن کی بیوہ اس سانحے کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ اس المناک روز گویا ان کے وجود کا ایک حصہ بھی ختم ہو گیا تھا۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے عراق کا اپنا پہلا دورہ مکمل کر لیا ہے جہاں انہوں نے انسانی حقوق کے حوالے سے اہم خدشات، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور اصلاحات کی ضرورت کو واضح کیا۔
سلامتی کونسل کو بتایا گیا ہے کہ داعش کے شدت پسند جنگجوؤں کے خلاف عراق میں ان کے دہشت کے دور میں ڈھائے گئے مظالم پر قانونی کارروائی یقینی بنانے کے لئے موزوں عدالتیں، قابل قبول اور قابل اعتماد ثبوت اور موزوں قانونی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔
عراق میں اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ سکڑتی شہری آزادیوں، انتخابات کے التوا اور موسمیاتی ہنگامی صورتحال کے ہوتے ہوئے ملک کے استحکام اور کڑی محنت سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لئے مؤثر تعاون درکار ہے۔
انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے غیرجانبدار ماہرین نے کہا ہے کہ عراق میں پانچ دہائیوں میں تقریباً دس لاکھ افراد لاپتہ ہو چکے ہیں اور یہ بحران اب بھی جاری ہے۔ انہوں نے 'اس وحشیانہ جرم' کی تحقیقات اور اس کےخاتمے کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے عراق کی جانب سے اپنے شہریوں کو شمال مغربی شام کے کیمپوں سے واپس بلانے کی ستائش کرتے ہوئے دیگر حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ بھی 'ذمہ داری لیں اور عملی قدم اٹھائیں'۔ ان کیمپوں میں رکھے گئے لوگوں پر داعش سے تعلق کا شبہ ہے۔