انسانی کہانیاں عالمی تناظر

قرضے

چھوٹے جزائر پر مشتمل ترقی پذیر ممالک (ایس آئی ڈی ایس) کی چوتھی کانفرنس غرب الہند کے ملک اینٹیگوا اینڈ باربوڈا میں منعقد ہو رہی ہے۔
UN Photo/Eskinder Debebe

سڈز 4 کانفرنس: قرضوں میں جکڑے ممالک کو وسائل درکار، گوتیرش

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ چھوٹے جزائر پر مشتمل ترقی پذیر ممالک قرض کے بوجھ تلے دبے ہیں جنہیں پائیدار ترقی کے لیے درکار بین الاقوامی مالیاتی وسائل تک مساوی رسائی فراہم کرنا ہو گی۔

ایس آئی ڈی ایس کی چوتھی عالمی کانفرنس اینٹیگوا اینڈ باربوڈا میں پیر کو شروع ہو گئی ہے جس میں اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرش (بائیں سے چوتھے نمبر پر) بھی شریک ہیں۔
UN Photo

سڈز 4 کانفرنس: مستقبل کے لائحہ عمل پر غوروخوص شروع

چھوٹے جزائر پر مشتمل ترقی پذیر ممالک (ایس آئی ڈی ایس یا سڈز) کی چوتھی عالمی کانفرنس اینٹیگوا اینڈ باربوڈا میں شروع ہو گئی ہے جس میں ان ممالک کو بڑے عالمی مسائل کا مقابلہ کرنے اور پائیدار ترقی میں مدد دینے کے لیے ایک دلیرانہ اور انقلابی لائحہ عمل پیش کیا جائے گا۔

گھانا میں کھوکھے میں قائم ایک دوکان۔
© IMF/Andrew Caballero-Reynolds

قرضوں کا بوجھ اربوں لوگوں کی ترقی میں رکاوٹ: یو این چیف

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ دنیا کی نصف آبادی ایسے ممالک میں رہتی ہے جنہیں صحت و تعلیم کے بجائے اپنے قرض کی ادائیگی پر زیادہ مالی وسائل خرچ کرنا پڑتے ہیں اور یہ صورتحال ترقیاتی اعتبار سے تباہی کے مترادف ہے۔

اس سال مئی میں جب سری لنکا اپنے بین الاقوامی قرضوں کی قسط ادا نہ کر سکا تو عام لوگوں کے لیے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گیا۔
UN News/Daniel Johnson

ترقی پذیر ممالک کو قرضوں پر ’ناممکن سودے بازی‘ کا سامنا: سربراہ انکٹاڈ

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی کی سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ کم اور متوسط درجے کی آمدنی والے ممالک پر بڑھتے ہوئے قرض نے ان کے ہاں پائیدار ترقی کے مواقع کو نقصان پہنچایا ہے۔

''قرضوں میں چھوٹ دینا امیر ممالک پر کوئی خاص مالی بوجھ نہیں ڈالے گا لیکن اس حوالے سے کوئی قدم نہ اٹھانا دنیا کے غریب ترین ممالک کے لیے انتہائی خوفناک نتائج لائے گا۔
© UNDP

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کا اب 54 ممالک کو قرضوں میں چھوٹ دینے کا مطالبہ

کرہ ارض پر نصف سے زیادہ غریب ترین لوگ 54 ممالک میں رہتے ہیں جنہیں قرضوں میں چھوٹ کی فوری ضرورت ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یواین ڈی پی) نے سوموار کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہی ہے جس میں امیر ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ غریب ملکوں کی مدد کے لیے آگے بڑھیں۔