پائیدار ترقی کے اہداف کا نصف مدتی جائزہ لینے کا وقت
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے کے آغاز پر ہونے والی ایس ڈی جی کانفرنس پائیدار ترقی کے فیصلہ کن اہداف کی تکمیل کے لیے مقررہ مدت کے نصف عرصہ میں منعقد ہو رہی ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے کے آغاز پر ہونے والی ایس ڈی جی کانفرنس پائیدار ترقی کے فیصلہ کن اہداف کی تکمیل کے لیے مقررہ مدت کے نصف عرصہ میں منعقد ہو رہی ہے۔
پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے بارے میں 18 اور 19 ستمبر کو ہونے والی کانفرنس نیویارک میں اقوام متحدہ کی حالیہ جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے کا اہم ترین پروگرام ہو گا جس میں دنیا بھر کے رہنما شریک ہوں گے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ غربت اور عدم مساوات سے موسمیاتی ہنگامی حالت تک تیزی سے پیچیدہ ہوتے بحرانوں سے دوچار دنیا میں مسائل پر قابو پانے میں اقوام متحدہ مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔
بدھ کو دنیا بھر میں سودیشی لوگوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے جس کے موضوع "خود اختیاری کے لیے تبدیلی کے عاملین کی حیثیت سے سودیشی نوجوانوں کا کردار" کو اقوام متحدہ میں مرکزی اہمیت حاصل ہے۔
اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ جے محمد نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات میں اضافہ کرنے، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، پائیدار نظام ہائے خوراک کے فروغ، اچھے روزگار اور سماجی تحفظ کے لیے فوری کوششیں کرنے کو کہا ہے۔
عالم یوم آبادی پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آٹھ ارب افراد پر مشتمل انسانی خاندان پہلے سے کہیں بڑا ہو چکا ہے تاہم دنیا کے رہنماؤں کو تمام لوگوں کے لیے پُرامن اور خوشحال زندگی یقینی بنانے کی کوششوں میں ناکامی کا سامنا ہے۔
حکومتوں، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کے شراکت دار سوموار کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی معاشی و سماجی کونسل کے اجلاس میں اکٹھے ہوئے جس کا مقصد پائیدار ترقی کے 17 اہداف کے حصول کی کوششوں کو دوبارہ درست راہ پر ڈالنے کی فوری ضرورت سے نمٹنا ہے۔
پائیدار ترقی کے لیے 2030 کے پُرعزم ایجنڈے کے حصول کی جانب نصف وقت طے ہو نے پر اقوام متحدہ کے رکن ممالک، اختراع کار اور بااثر شخصیات سوموار ادارے کے ہیڈکوارٹر میں جمع ہیں جہاں معاشی و سماجی کونسل وبا کے بعد ہونے والی ترقیاتی کوششوں پر مبنی اپنی تازہ ترین رپورٹ پیش کرے گی۔
اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی (انکٹاڈ) نے خبردار کیا ہے کہ اگر دنیا نے ترقی پذیر ممالک کو قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی کے لیے سرمایہ کاری میں 2 ٹریلین ڈالر سالانہ کی کمی کو پورا کرنے میں مدد نہ دی تو ماحول دوست مستقبل ناقابل رسائی رہے گا۔
دنیا کی معاشی صورتحال اور امکانات کے بارے میں اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کووڈ۔19 وباء کے دیرپا اثرات کے باعث عالمی معیشت کی مضبوط انداز میں بحالی کے امکانات کمزور ہیں۔