سیلاب زدہ پاکستان لاکھوں بچوں کے لیے ایک مستقل ڈراونا خواب
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں آلودہ اور کھڑے سیلابی پانی کے قریب 40 لاکھ بچے زندہ رہنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں آلودہ اور کھڑے سیلابی پانی کے قریب 40 لاکھ بچے زندہ رہنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ماہرین برائے انسانی حقوق نے پاکستان میں مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی نوعمر لڑکیوں کی جبری شادیوں اور ان کے مذہب کی جبری تبدیلی کے بڑھتے ہوئے واقعات کو فوری روکنے اور متاثرین کے لیے انصاف یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
سیلاب سے بری طرح متاثرہ پاکستان کی مدد کے لیے عالمی برادری کی حوصلہ افزائی کے لیے اقوام متحدہ کی کوششیں جنیوا میں جاری ہیں۔ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لیے عالمی مالیاتی نظام میں بنیادی اصلاحات پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے یو این ڈی پی نے کہا ہے کہ گزشتہ موسم گرما میں پاکستان میں آنے والے سیلاب سے متاثرہ تین کروڑ 30 لاکھ افراد کے علاوہ مزید 90 لاکھ لوگوں کے غربت کا شکار ہونے کا خدشہ ہے۔
سلامتی کونسل کے ارکان نے جمعہ کو کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ حملے میں پاکستانی سفیر زد میں آئے اور ان کا سکیورٹی گارڈ شدید زخمی ہوا ہے۔
امدادی کارروائیوں کے ادارے او سی ایچ اے کے مطابق پاکستان میں تباہ کن سیلاب آنے کے تین ماہ بعد بھی تباہی ختم نہیں ہوئی۔ سیلاب سے ساڑھے تین کروڑ لوگ متاثر ہوئے ہیں اور اس نے معیشت، زراعت، صحت اور تعلیم کے شعبے میں تباہی مچائی ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ اگرچہ پاکستان بھر کے بہت سے سیلاب زدہ علاقوں میں حالیہ ہفتوں میں سیلابی پانی اتر رہا ہے تاہم قریباً اسی لاکھ لوگوں کو ضروری طبی امداد کی ضرورت ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور اس کی ذمہ داری کے حوالے سے پاکستان کے لوگ ’سخت ناانصافی کا شکار ہیں‘، سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو بتایا، اور بآور کرایا کہ دنیا بھر میں گرین ہاؤس گیسوں کے مجموعی اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن یہ ’انسان کے ہاتھوں رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کی بہت بھاری قیمت ادا کر رہا ہے‘۔