پاکستان میں گھر سے کام کرنے والوں کے حقوق کی جدوجہد
پاکستان میں غیررسمی شعبے کے محنت کشوں کی 74 فیصد تعداد خواتین پر مشتمل ہے جنہیں صاف، صحت مند اور پائیدار ماحول کے حق تک رسائی دینے کے لیے آگاہی، تربیت اور حکومتی سطح پر منصوبہ بندی درکار ہے۔
پاکستان میں غیررسمی شعبے کے محنت کشوں کی 74 فیصد تعداد خواتین پر مشتمل ہے جنہیں صاف، صحت مند اور پائیدار ماحول کے حق تک رسائی دینے کے لیے آگاہی، تربیت اور حکومتی سطح پر منصوبہ بندی درکار ہے۔
اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی پر کانفرنس 'کاپ 28' میں کہا جا رہا ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے موسمیاتی انصاف پر مبنی اقدامات ضروری ہیں اور انہیں نقصان و تباہی کے فنڈ سے مالی وسائل کی بروقت فراہمی یقینی بنانا ہو گی۔
پاکستان کے نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مجوزہ اصلاحات پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقل ارکان کی تعداد بڑھانے سے ادارے کی ساکھ اور حیثیت متاثر ہوگی اور تجویز دی کہ اس کی بجائے غیر مستقل ارکان کی تعداد اور مدت میں اضافہ کرنا مناسب رہے گا۔
’(بارش) بہت شدید تھی، اس میں ہمارے گھر تباہ ہو گئے، ہمارے پاس رہنے کی کوئی جگہ نہیں تھی، کھانے پینےکو کچھ بھی میسر نہیں تھا ۔۔۔ جب یونیسف نے یہ سکول کھولا تو ہم نے یہاں آنا شروع کر دیا‘ پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں قائم یونیسف کی ایک محفوظ جگہ سے مستفیذ ہونے والے چودہ سالہ منصور نے بتایا۔
شمالی پاکستان میں پانی کے ایک نئے نظام نے وہاں رہنے والے لوگوں کی زندگیاں بدل کر رکھ دی ہیں۔ درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافے کے باوجود علاقے میں اس نئے منصوبے کی بدولت گزشتہ برس چھوٹے کسانوں کی پیداوار میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔
سیلاب سے بری طرح متاثرہ پاکستان کی مدد کے لیے عالمی برادری کی حوصلہ افزائی کے لیے اقوام متحدہ کی کوششیں جنیوا میں جاری ہیں۔ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لیے عالمی مالیاتی نظام میں بنیادی اصلاحات پر زور دیا ہے۔