میانمار میں سینکڑوں افراد کو ملی رہائی، لیکن ہزاروں اب بھی قید
اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے دفتر (او ایچ سی ایچ آر) نے کہا ہے کہ میانمار میں اس ہفتے ہزاروں سیاسی قیدیوں کو معافی دی گئی تاہم مزید ہزاروں لوگ اب بھی قید میں ہیں۔
اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے دفتر (او ایچ سی ایچ آر) نے کہا ہے کہ میانمار میں اس ہفتے ہزاروں سیاسی قیدیوں کو معافی دی گئی تاہم مزید ہزاروں لوگ اب بھی قید میں ہیں۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نے محفوظ پناہ کے لیے جان کا خطرہ مول لے کر خطرناک سمندری سفر اختیار کرنے والے ہزاروں بے آسرا روہنگیا باشندوں کو تحفظ دینے کے لیے علاقائی سطح پر مربوط طریق کار وضع کرنے کے لیے کہا ہے۔
بحیرہ انڈیمان اور خلیج بنگال کے درمیان 190 لوگ ایک کشتی پر بھٹک رہے ہیں جنہیں بچانے اور بحفاظت ساحل پر لانے کے لیے کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق اس کشتی پر 20 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔
میانمار کے لیے اقوام متحدہ کے مقرر کردہ انسانی حقوق کے ایک غیرجانبدار ماہر نے خبردار کیا ہے کہ اگر رکن ممالک نے ''مضبوط اور مربوط قدم'' نہ اٹھایا تو ملک میں خونریزی بدترین صورت اختیار کر جائے گی۔
پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے 'یو این ایچ سی آر' نے ایک مصیبت زدہ کشتی میں سوار روہنگیا پناہ گزینوں کو بچانے اور انہیں بحفاظت ساحل پر لانے کے لیے سری لنکا کے مقامی مچھیروں اور بحری فوج کے فوری اقدامات پر ان کی ستائش کی ہے۔
میانمار میں گزشتہ برس ہونے والی فوجی بغاوت سے اب تک فوجی عدالتیں پس پردہ 130 سے زیادہ لوگوں کو موت کی سزا دے چکی ہیں۔ یہ بات اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے شعبے کے سربراہ نے اس ہفتے وہاں سزاؤں کے تازہ ترین اعلان کے بعد کہی ہے۔
انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ایک غیرجانبدار ماہر نے جمہوریہ کوریا پر زور دیا ہے کہ وہ میانمار میں شہریوں کے خلاف تشدد کو ختم کرانے میں علاقائی سطح پر قائدانہ کردار ادا کر کے وہاں عالمی برادری کی ناکامی کا ازالہ کرنے میں مدد دے۔
میانمار کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ نوئلین ہائزر نے میانمار میں قیدیوں کی اجتماعی رہائی کے اعلان کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے صدر وِن مینٹ اور سٹیٹ کونسلر آنگ سان سو کی سمیت ان تمام قیدیوں کی فوری رہائی کے لیے سیکرٹری جنرل کے مطالبے کااعادہ کیا ہے جو بدستور ناجائز حراست میں ہیں۔
اقوام متحدہ میں پناہ گزینوں کے ادارے 'یو این ایچ سی آر' نے کہا ہے کہ ملائشیا میں پناہ کے خواہش مند میانمار سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی جبری واپسی کا مطلب یہ ہے کہ گزشتہ دو ماہ میں ایسے ہزاروں افراد کو ''ان کی مرضی کے خلاف شورش زدہ ملک میں واپس بھیجا جا چکا ہے''۔