میانمار کے فوجی حکمرانوں کو تسلیم نہ کریں، ماہر انسانی حقوق
میانمار میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اقوام متحدہ کے متعین کردہ غیرجانبدار ماہر نے کہا ہےکہ عالمی برادری ملک کی فوجی حکومت کو قانونی تسلیم کرنے سے انکار کرے۔
میانمار میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اقوام متحدہ کے متعین کردہ غیرجانبدار ماہر نے کہا ہےکہ عالمی برادری ملک کی فوجی حکومت کو قانونی تسلیم کرنے سے انکار کرے۔
عالمی ادارہ برائے مہاجرین (آئی او ایم) نے بتایا ہے کہ روہنگیا پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سمندر اور خشکی کے راستے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں آ رہی ہے۔ ادارے نے خطے میں روہنگیا پناہ گزینوں کی مدد کے لیے اپنی کوششوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے دفتر نے کہا ہے کہ میانمار میں منتخب جمہوری حکومت کے خلاف ظالمانہ فوجی بغاوت سے قریباً دو سال بعد ملک مزید بحران کا شکار ہو گیا ہے اور بڑے پیمانے پر انسانی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔
اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے دفتر (او ایچ سی ایچ آر) نے کہا ہے کہ میانمار میں اس ہفتے ہزاروں سیاسی قیدیوں کو معافی دی گئی تاہم مزید ہزاروں لوگ اب بھی قید میں ہیں۔