انسانی کہانیاں عالمی تناظر

میانمار

راخائن میں طوفان موچا سے متاثر ہونے والا ایک کنبہ اپنی جھونپڑی مرمت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
© UNOCHA/Pierre Lorioux

طوفان موچا: بھوک اور بیماریوں سے نمٹنے کے لیے فوری مدد کی ضرورت

میانمار اور بنگلہ دیش میں سمندری طوفان موچا سے ہونے والی تباہی کی واضح تفصیل سامنے آ رہی ہے۔ ان حالات میں امدادی ادارے تحفظ زندگی کے لئے مدد دینے میں مصروف ہیں جبکہ امدادی مالی وسائل میں فوری اضافے کی اشد ضرورت ہے۔

میانمار میں انسانی حقوق کی صورتحال پر نظر رکھنے والے اقوام متحدہ کے خصوصی اطلاع کار ٹام اینڈریوز صحافیوں کا بریفنگ دیتے ہوئے۔
UN Photo/Loey Felipe

میانمار: فوجی حکمران پابندیوں کے باوجود اسلحہ خریدنے میں کامیاب

میانمار میں انسانی حقوق کی صورتحال پر نظر رکھنے والے اقوام متحدہ کے غیرجانبدار ماہرین کے مطابق ملک کے فوجی حکمرانوں نے 2021 میں حکومت کے خلاف جرنیلوں کی بغاوت کے بعد کم از کم ایک بلین ڈالر کا اسلحہ اور ہتھیار بنانے کے لئے خام مال خریدا ہے۔

طوفان موچا سے متاثرہ بنگلہ دیش کا علاقہ کاکس بازار جہاں روہنگیا پناہ گزینوں کا کیمپ ہے۔
15-05-2023-UNICEF-Cyclone-Mocha.jpg

طوفان موچا نے میانمار میں تباہی مچا دی

اقوام متحدہ کے امدادی امور کے رابطہ دفتر (او سی ایچ اے) نے بتایا ہے کہ موچا میانمار میں آنے والا شدید ترین سمندری طوفان تھا جو خلیج بنگال سے ملک میں داخل ہونے کے بعد خاص طور پر راخائن ریاست کے دارالحکومت سٹوے میں تباہی چھوڑ گیا ہے۔

میانمار کے لئے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ نوئلین ہیزر انڈیا میں اقوام متحدہ کے ریذیڈینٹ کوآرڈینیٹر شوبی شارپ کے ساتھ۔
UNIC India/Rohit Karan

میانمار پر خصوصی نمائندہ کا دورہ انڈیا، علاقائی یکجہتی پر زور

میانمار کے لئے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ نوئلین ہیزر نے کہا ہے کہ میانمار کے لوگوں کے زیرقیادت اور ان کی خواہش اور ضروریات کے مطابق ایک متفقہ علاقائی طریقہ کار ملک کو موجودہ بحران سے نکال سکتا ہے۔

روہنگیا پناہ گزین میانمار سے بنگلہ دیش کے علاقے کاکس بازار پہنچ رہے ہیں (فائل فوٹو)۔
© UNICEF/Patrick Brown

جاپان کو میانمار کے فوجی حکمرانوں پر دباؤ بڑھانا چاہیے: یو این ماہرین

انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے مقرر کردہ غیرجانبدار ماہر نے جاپان پر زور دیا ہے کہ وہ میانمار میں بگڑتے بحران سے نمٹںے کے لئے قائدانہ کردار ادا کرے اور ملک کے حکمران فوجی ٹولے پر دباؤ بڑھائے۔

میا نمار کے منڈالے ریجن کا ایک شہر باگان۔
Unsplash/Ajay Karpur

میانمار: شہریوں پر فضائی حملوں کی اقوام متحدہ کی طرف سے مذمت

اقوام متحدہ نے میانمار کی مسلح افواج کی جانب سے کیے جانے والے جان لیوا فضائی حملوں کی مذمت کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق منگل کو ملک کے شمال مغربی علاقے میں اپوزیشن کے گڑھ پر ہونے والے ان حملوں میں کم از کم 100 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ماہرین نے ٹیلی گرام اور سوشل میڈیا کی دیگر کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم پر انسانی حقوق کی ہر خلاف ورزی کی نشاندہی، اس کی روک تھام اور اس میں کمی لانے کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔
Unsplash/Lilly Rum

میانمار: سوشل میڈیا اداروں کو فوجی آمروں کا مقابلہ کرنا چاہیے

میانمار میں انسانی حقوق کا جائزہ لینے کے لیے متعلق اقوام متحدہ کے متعین کردہ غیرجانبدار ماہرین نے سوشل میڈیا کی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں حکمران فوجی ٹولے کی ''دہشت پھیلانے کی آن لائن مہم'' کے خلاف مزاحمت کے لیے مزید اقدامات کریں۔

جمہوریت پسند نوجوان میانمار میں فوجی حکومت کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں۔
Unsplash/Pyae Sone Htun

میانمار: ٹاماڈو فوج کی ’سب جلا دو‘ پالیسی مرکز توجہ

میانمار میں فوجی بغاوت کے دو سال بعد اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے دفتر 'او ایچ سی ایچ آر' نے خبردار کیا ہے کہ جرنیلوں کی ہر شے کو تباہ کرنے کی پالیسی کے نتیجے میں ہزاروں شہری ہلاک ہو گئے ہیں اور لڑائی سے 80 فیصد آبادیاں متاثر ہوئی ہیں۔

بنگلہ دیش کے کاکس بازار میں روہنگیا پناہ گزینوں کی خیمہ بستی۔
UN in Bangladesh / Shabbir Rahman

روہنگیا پناہ گزینوں کی خوراک کی راشن بندی پر تشویش

میانمار میں روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے خوراک کی راشن بندی شروع ہونے پر حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ سطحی ماہر نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ آگے بڑھے اور اس پالیسی کو تبدیل کرے جو ان لوگوں کے لیے ''زندگی اور موت'' کا معاملہ ہے۔