افغانستان اور ہمسایہ ممالک میں میتھ کی سمگلنگ میں اضافہ
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) کی شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق 2017 سے 2021 کے درمیان پکڑی جانے والی منشیات کی مقدار میں تقریباً 12 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) کی شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق 2017 سے 2021 کے درمیان پکڑی جانے والی منشیات کی مقدار میں تقریباً 12 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ 5.6 ارب لوگوں یا دنیا کی 71 فیصد آبادی کو مہلک تمباکو سے اپنی زندگیوں کی حفاظت کے لیے موثر طریقہ کار کے حوالے سے کم از کم ایک پالیسی کے ذریعے تحفظ حاصل ہے۔ یہ تعداد 2007 کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے۔
اگست 2021 میں جب طالبان دوبارہ برسراقتدار آئے تو افغانستان فی الواقع باقی دنیا سے الگ ہو گیا اور انسانی حقوق کو مزید محدود کرنے کے لیے حکام کی جانب سے لیے گئے فیصلوں نے ملک کی تنہائی مزید بڑھا دی۔
افغان دارالحکومت کابل کی مصروف سڑکوں گلیوں میں یوں تو بہت سے خطرات چھپے ہوئے ہیں لیکن وہاں منشیات کے استعمال کا بحران سب سے زیادہ خطرناک ہے جو شہر اور پورے ملک کو برباد کر رہا ہے۔
واچراپول مہاپروم کو پان کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جو بنکاک میں 'یو این او ڈی سی' کے تعاون سے کام کرنے والے غیرسرکاری ادارے 'اوزون' کے زیراہتمام چلائے جانے والے کلینک سے طبی خدمات حاصل کرتے ہیں۔
منشیات اور جرائم کی روک تھام سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی ادارے کے تعاون سے پورے جنوب مشرقی ایشیا میں غیرقانونی نشہ آور اشیاء کی تیاری میں استعمال ہونے والے کیمیکلز، لکڑی، جنگلی حیات اور غیرقانونی اشیا کی سمگلنگ پر قابو پایا جا رہا ہے۔
منشیات اور جرائم کے انسداد سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے نے ایک نئی رپورٹ میں واضح طور پر کہا ہے کہ کووڈ۔19 کے باعث سست پڑ جانے والی کوکین کی سمگلنگ میں نئے مراکز اور جرائم کے وسیع نیٹ ورکس کے ذریعے دوبارہ غیرمعمولی اضافہ ہو گیا ہے۔