انسانی کہانیاں عالمی تناظر

منشیات

یو این او ڈی سی کا عملہ افغانستان کے علاقے سرخرود میں پوست کی فصل کی تصدیق کر رہا ہے۔
UNODC

افغانستان: پوست کی کاشت میں کمی لیکن مصنوعی منشیات کے استعمال میں اضافہ

اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ افغانستان میں افیون کی پیداوار میں کمی کا رحجان برقرار ہے تاہم کاشت کاروں کو متبادل زرعی مواقع مہیا نہ کیے گئے تو یہ کامیابی خطرے میں پڑ جائے گی۔

سال 2012 سے 2022 کے عرصہ میں غیرقانونی منشیات استعمال کرنے والے لوگوں کی تعداد 29 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔
IRIN/Sean Kimmons

منشیات کے عادی افراد میں 20 فیصد اضافہ، ورلڈ ڈرگ رپورٹ

اقوام متحدہ کے ادارہ انسداد جرائم و منشیات (یو این او ڈی سی) نے خبردار کیا ہے کہ دنیا میں منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد 30 کروڑ تک پہنچ گئی ہے جبکہ اس کی سمگلنگ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

جنوبی افریقہ کا ایک شخص جسے لڑکپن سے ہی نشے کی لت پڑ گئی تھی علاج کے لیے طبی مرکز پہنچا ہوا ہے۔
© UNODC

انسداد منشیات کی حکمت عملی میں انسانی وقار کا خیال رکھا جائے، گوتیرش

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے منشیات کے پھیلاؤ کی روک تھام اور ان کا استعمال کرنے والوں کے لیے علاج کے اقدامات کو وسعت دینے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے لوگوں سے وابستہ بدنامی اور امتیازی سلوک کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

جمیکا کی بندرگاہ پورٹ کنگسٹن پر 2023 میں پکڑی جانے والی کوکین۔
© UNODC

منشیات کی آن لائن فروخت کی روک تھام کا لائحہ عمل تیار

منشیات کی خریدوفروخت کے لیے جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور گمراہ کن اطلاعات کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے جس سے دنیا بھر میں نشہ آور اشیا کے استعمال میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

کمیمیائی طریقے سے تیارکردہ منشیات گولڈن ٹرائی اینگل (تھائی لینڈ، میانما، اور لاؤس کا مشترکہ سرحدی علاقہ) سے جاپان کی گلیوں اور جنوب مشرقی ایشیا کے دوسرے علاقوں میں پہنچ جاتی ہیں۔
© ADB/Richard Atrero de Guzman

کیمیائی منشیات کی روک تھام کرنے والے عملے کے لیے حفاظتی تدابیر

بندرگاہیں اور ہوائی اڈے سنتھیٹک منشیات اور اس کی تیاری میں استعمال ہونے والے کیمیائی مادوں کی سمگلنگ کا عام راستہ ہیں۔ احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے سے ان جگہوں پر منشیات کی ضبطی پر مامور حکام کی صحت و زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

© Unsplash/Markus Spiske

انٹرویو: ٹیکنالوجی سے جنوب مشرقی ایشیا میں غیر قانونی تجارت کو بڑھاوا

جنوب مشرقی ایشیا میں غیرقانونی معیشت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ منظم جرائم میں ملوث گروہوں نے خطے میں ایسے علاقوں کو اپنی کارروائیوں کا مرکز بنا رکھا ہے جہاں قانون کی عملداری کمزور ہے۔