بحیرہِ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے معاہدے کی تجدید کا خیرمقدم
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے اقدام کی تجدید کا خیرمقدم کیا ہے جس کی مدت ہفتے کو ختم ہو رہی تھی۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے اقدام کی تجدید کا خیرمقدم کیا ہے جس کی مدت ہفتے کو ختم ہو رہی تھی۔
اِس سال دنیا بھر میں خوراک کی درآمد پر اٹھنے والے اخراجات تقریباً 2 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے یا سابقہ اندازوں سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف او اے) نے جمعے کو شائع ہونے والی اپنی ایک رپورٹ میں کہی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں روس کی جانب سے بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے اقدام میں دوبارہ شمولیت کے فیصلے کا گرم جوش خیرمقدم کیا ہے۔ اس اقدام کی بدولت یوکرین سے بنیادی ضرورت کی قریباً دس ملین میٹرک ٹن خوراک دنیا بھر میں پہنچائی جا چکی ہے۔
یوکرین سے اناج اور اس سے متعلقہ غذائی اشیا کی برآمد کے اہم معاہدے کو حالیہ جنگ اور دنیا بھر میں رہن سہن کے اخراجات کے بحران کے ہوتے ہوئے برقرار رکھا جانا چاہیے۔ یہ بات اقوام متحدہ کے دو اعلیٰ سطحی حکام نے سوموار کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہی۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے روس کی جانب سے بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے اقدام میں اپنی شمولیت معطل کرنے کے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ معاہدہ یوکرین سے بنیادی ضرورت کی خوراک اور کھادوں کی باقی دنیا کو ترسیل بحال کرنے کے لیے طے پایا تھا۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی (یو این سی ٹی اے ڈی) کی جمعرات کو شائع ہونے والی ایک نئی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کے زیرقیادت بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے اقدام نے کس طرح ان لاکھوں لوگوں کو امید مہیا کی ہے جو خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور جنگ زدہ یوکرین سے عام استعمال ہونے والی غذائی اجناس کی ترسیل میں کمی سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف ڈبلیو او) اور اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل آنے والے بحرانوں کے باعث ہیٹی کے کمزور اور غیرمحفوظ لوگوں کی مایوسی بڑھتی جا رہی ہے جنہیں خوراک، ایندھن، منڈیوں، نوکریوں اور خدمات عامہ تک رسائی نہیں رہی۔
ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے خبردار کیا ہے کہ خوراک کا بحران مزید لوگوں کو شدید غذائی عدم تحفظ کے بدترین حالات کا شکار بنا رہا ہے اور ایسے میں خدشہ ہے کہ آئندہ برس دنیا کو پہلے سے کہیں زیادہ بھوک کا سامنا ہو سکتا ہے۔
یوکرین پر روس کا حملہ شروع ہونے کے بعد یوکرین سے اناج اور روس سے خوراک اور کھادوں کی برآمدات نمایاں طور سے متاثر ہوئی ہیں۔ ان اشیاء کی ترسیلات میں خلل آنے سے بڑھتی ہوئی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے جس سے خوراک کے عالمگیر بحران نے جنم لیا ہے۔ یوکرین سے کھادوں اور خوراک کی ضروری برآمدات کی دنیا بھر میں دوبارہ ترسیل شروع کرنے کے لیے اقوام متحدہ اور ترکی کی ثالثی کے ذریعے بحیرۂ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کا اقدام شروع کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے چند اہم نقاط کی وضاحت اس ویڈیو میں۔