دنیا سے بھوک ختم کرنے کے لیے غذائی نظام بدلنا ضروری، گوتیرش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ دنیا سے بھوک کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے غذائی نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لانا ہوں گی۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ دنیا سے بھوک کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے غذائی نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لانا ہوں گی۔
اقوام متحدہ کے دو اداروں نے بتایا ہے کہ دنیا بھر میں روزانہ قریباً 1.6 ملین لوگ آلودہ خوراک کھانے سے بیمار پڑ جاتے ہیں اور ان بیماریوں سے ہر سال 420,000 اموات ہوتی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی (یو این سی ٹی اے ڈی) کی جمعرات کو شائع ہونے والی ایک نئی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کے زیرقیادت بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے اقدام نے کس طرح ان لاکھوں لوگوں کو امید مہیا کی ہے جو خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور جنگ زدہ یوکرین سے عام استعمال ہونے والی غذائی اجناس کی ترسیل میں کمی سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
یوکرین پر روس کا حملہ شروع ہونے کے بعد یوکرین سے اناج اور روس سے خوراک اور کھادوں کی برآمدات نمایاں طور سے متاثر ہوئی ہیں۔ ان اشیاء کی ترسیلات میں خلل آنے سے بڑھتی ہوئی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے جس سے خوراک کے عالمگیر بحران نے جنم لیا ہے۔ یوکرین سے کھادوں اور خوراک کی ضروری برآمدات کی دنیا بھر میں دوبارہ ترسیل شروع کرنے کے لیے اقوام متحدہ اور ترکی کی ثالثی کے ذریعے بحیرۂ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کا اقدام شروع کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے چند اہم نقاط کی وضاحت اس ویڈیو میں۔