انسانی کہانیاں عالمی تناظر

خوراک

یوکرین کی فیکٹری میں مکئی اتاری جا رہی ہے۔
© FAO/Genya Savilov

اقوام متحدہ کی کوششوں سے ہونے والی یوکرین کے اناج کی رسد نے خوراک کا بحران کم کیا ہے

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی (یو این سی ٹی اے ڈی) کی جمعرات کو شائع ہونے والی ایک نئی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کے زیرقیادت بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے اقدام نے کس طرح ان لاکھوں لوگوں کو امید مہیا کی ہے جو خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور جنگ زدہ یوکرین سے عام استعمال ہونے والی غذائی اجناس کی ترسیل میں کمی سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش استنبول میں ترک صدر رجب طیب اردگان کے ساتھ بحیرۂ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے بیٹھے ہیں۔
UNIC Ankara/Levent Kulu

بحیرۂ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے اقدام کے پانچ حقائق جانیئے (ویڈیو)

یوکرین پر روس کا حملہ شروع ہونے کے بعد یوکرین سے اناج اور روس سے خوراک اور کھادوں کی برآمدات نمایاں طور سے متاثر ہوئی ہیں۔ ان اشیاء کی ترسیلات میں خلل آنے سے بڑھتی ہوئی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے جس سے خوراک کے عالمگیر بحران نے جنم لیا ہے۔ یوکرین سے کھادوں اور خوراک کی ضروری برآمدات کی دنیا بھر میں دوبارہ ترسیل شروع کرنے کے لیے اقوام متحدہ اور ترکی کی ثالثی کے ذریعے بحیرۂ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کا اقدام شروع کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے چند اہم نقاط کی وضاحت اس ویڈیو میں۔