بگڑتے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے یو این کی 46 ارب ڈالر کی اپیل
اقوام متحدہ نے تباہ کن بھوک، بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور بیماریوں کا سامنا کرتے 181 ملین لوگوں کی مدد کے لیے 2024 میں 46.4 ارب ڈالر مہیا کرنے کی اپیل کی ہے۔
اقوام متحدہ نے تباہ کن بھوک، بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور بیماریوں کا سامنا کرتے 181 ملین لوگوں کی مدد کے لیے 2024 میں 46.4 ارب ڈالر مہیا کرنے کی اپیل کی ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو دور رکھنے میں زرعی غذائی نظام کا اہم کردار ہے اور اس شعبے میں نقصان و تباہی کے ازالے کے لیے مزید مالی وسائل مہیا کرنا ہوں گے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) نے بتایا ہے کہ صحت بخش خوراک کے حصول پر اٹھنے والے اخراجات 2020 کے مقابلے میں 4.3 فیصد بڑھ گئے ہیں۔
خوراک سے متعلق معیارات کے عالمی ادارے 'کوڈیکس ایلیمنٹیریئس کمیشن' کے قیام کو 60 برس مکمل ہو گئے ہیں۔ یہ ادارہ صارفین کی صحت کو تحفظ دینے کے لیے خوراک کے معیار کی نگرانی کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) نے بتایا ہے کہ اگرچہ زرعی خوراک کے موجودہ نظام غذائیت فراہم کرتے اور معیشت کو مستحکم رکھتے ہیں، تاہم ان سے صحت اور ماحول کو سالانہ 10 ٹریلین ڈالر کا نقصان بھی ہوتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ 2030 تک بھوک کے خاتمے کے ہدف کی جانب پیش رفت تنزلی کا شکار ہے جس پر قابو پانے کے لیے خوراک کے بنیادی انسانی حق کی یقینی فراہمی پر سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔
اقوام متحدہ میں امدادی شعبے کے سربراہ مارٹن گرفتھس نے ہنگامی امدادی اقدامات کے لیے ادارے کے مرکزی فنڈ (سی ای آر ایف) سے افریقہ، ایشیا، براعظم ہائے امریکہ اور مشرق وسطیٰ کے 14 ممالک کے لیے 125 ملین کا اجراء کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہء خوراک و زراعت نے بتایا ہے کہ جنگ زدہ یوکرین سے باقی دنیا کو بحری راستے سے اناج کی ترسیل کا اہم معاہدہ ختم ہونے کے بعد کئی مہینوں میں پہلی عالمی سطح پر خوراک کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔
اقوام متحدہ نے نظام ہائے خوراک میں تیزرفتار تبدیلی کے لیے ایک اقدام کا آغاز کیا ہے۔ اس موقع پر ادارے کی نائب سیکرٹری جنرل نے اس اقدام کے اہم مقاصد بتائے ہیں جن کا مقصد پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے حصول کا عمل دوبارہ درست سمت میں لانا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے عالمگیر بھوک پر قابو پانے، کاروباروں اور حکومتوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے اور غذائی پیداوار پر متواتر موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات میں کمی لانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔