انسانی کہانیاں عالمی تناظر

خوراک

یورپ اور شمالی امریکہ کے ممالک میں گزشتہ برس سب سے زیادہ حرارے استعمال کیے گئے جن کی مقدار 3,540 روزانہ تھی
Unsplash/Christopher William

حراروں کے روزانہ استعمال میں یورپ اور امریکہ ایک بار پھر آگے

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) نے اعدادوشمار پر مبنی اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا ہے کہ دنیا بھر میں لیے جانے والے حراروں (کیلریز) کی فی کس شرح پورے نو فیصد اضافے کے بعد گزشتہ برس اوسطاً 2,960 روزانہ رہی۔

سری لنکا میں کھادوں اور تیل کی کمیابی کی وجہ سے کھیت بیکار پڑے ہیں۔
© WFP/Josh Estey

ضرورتمندوں تک خوراک اور کھادوں کی فراہمی کے لیے ’بھرپور سفارتی کوششیں‘

روسی کمپنیوں کی عطیہ کردہ کھاد کی پہلی کھیپ ہالینڈ سے ملاوی روانہ ہو گئی ہے۔ یہ کھاد ایسے ممالک کو مہیا کی جا رہی ہے جو بڑھتے ہوئے عالمگیر غذائی عدم تحفظ سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ یہ بات اقوام متحدہ کے ترجمان نے منگل کو ایک بیان میں بتائی۔

یوکرین سے گندم سے ترکی میں بنے آٹے سے لدا مال بردار بحری جہاز بریو کمانڈر یمن کی بندرگاہ حدیدہ پر کھڑا ہے۔
© WFP/Mohammed Awadh

غذائی تحفظ کو خطرات کے پس منظر میں کھاد کی فراہمی میں کامیابی

اقوام متحدہ کی ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا ہے کہ یورپ کی بندرگاہوں میں پھنسی روس کی لاکھوں ٹن کھاد کی ممکنہ تقسیم کے معاملے میں ''کامیابی'' حاصل ہوئی ہے۔ آئندہ سال غذائی عدم تحفظ کے عالمگیر بحران سے بچنے کے لیے اس کھاد کی ترسیل ضروری ہے۔

جنگ اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی نے خوراک کی درآمد پر انحصار بڑھا دیا ہے اور اس سے دنیا کے کئی ممالک غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو رہے ہیں۔
FAO/Ami Vitale

خوراک کی عالمی درآمدات ریکارڈ سطح پر جانے کا امکان: ایف اے او

اِس سال دنیا بھر میں خوراک کی درآمد پر اٹھنے والے اخراجات تقریباً 2 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے یا سابقہ اندازوں سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف او اے) نے جمعے کو شائع ہونے والی اپنی ایک رپورٹ میں کہی ہے۔

انتونیو گوتیرش نے اپنے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ خیرمقدمی بیان میں کہا کہ وہ ترکیہ کی ''سفارتی کوششوں'' کے مشکور ہیں۔ (فائل فوٹو)
UN Photo/Eskinder Debebe

سیکرٹری جنرل گوتیرش کا یوکرین سے اناج کی برآمد کے معاہدے میں روس کی واپسی کا خیرمقدم

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں روس کی جانب سے بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے اقدام میں دوبارہ شمولیت کے فیصلے کا گرم جوش خیرمقدم کیا ہے۔ اس اقدام کی بدولت یوکرین سے بنیادی ضرورت کی قریباً دس ملین میٹرک ٹن خوراک دنیا بھر میں پہنچائی جا چکی ہے۔

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش استنبول میں ترک صدر رجب طیب اردگان کے ساتھ بحیرۂ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے بیٹھے ہیں۔
UNIC Ankara/Levent Kulu

بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے معاہدے سے روس کی دستبرداری پر سلامتی کونسل میں بحث

یوکرین سے اناج اور اس سے متعلقہ غذائی اشیا کی برآمد کے اہم معاہدے کو حالیہ جنگ اور دنیا بھر میں رہن سہن کے اخراجات کے بحران کے ہوتے ہوئے برقرار رکھا جانا چاہیے۔ یہ بات اقوام متحدہ کے دو اعلیٰ سطحی حکام نے سوموار کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہی۔

روس، یوکرین، ترکی، اور اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی ایک مشترکہ ٹیم نے اس سال اگست میں مال برادر جہاز روزنی کے ذریعے اناج کی ترسیل کا جائزہ لیا تھا۔
© UNOCHA/Levent Kulu

بحیرہِ اسود کے راستے اناج کی ترسیل میں ’تعطل‘ پر اقوام متحدہ کے سربراہ کو گہری تشویش

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے روس کی جانب سے بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے اقدام میں اپنی شمولیت معطل کرنے کے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ معاہدہ یوکرین سے بنیادی ضرورت کی خوراک اور کھادوں کی باقی دنیا کو ترسیل بحال کرنے کے لیے طے پایا تھا۔

یوکرین کی فیکٹری میں مکئی اتاری جا رہی ہے۔
© FAO/Genya Savilov

اقوام متحدہ کی کوششوں سے ہونے والی یوکرین کے اناج کی رسد نے خوراک کا بحران کم کیا ہے

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی (یو این سی ٹی اے ڈی) کی جمعرات کو شائع ہونے والی ایک نئی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کے زیرقیادت بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے اقدام نے کس طرح ان لاکھوں لوگوں کو امید مہیا کی ہے جو خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور جنگ زدہ یوکرین سے عام استعمال ہونے والی غذائی اجناس کی ترسیل میں کمی سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔