انسانی کہانیاں عالمی تناظر

جنسی استحصال

خواتین اور لڑکیوں کا قتل دنیا میں ایک وباء کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
© Unsplash/Mika Baumeister

خواتین کے خلاف تشدد ایک سنگین عالمی بحران

خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد دنیا میں سب سے زیادہ پھیلنے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں سے ایک ہے جو روزانہ کی بنیاد پر دنیا کے ہر کونے میں جاری ہے۔ یہ تشدد نہ صرف متاثرین کی جسمانی، ذہنی اور معاشی صحت پر تباہ کن اثرات مرتب کرتا ہے بلکہ ان کی سماجی زندگی میں مکمل اور مساوی شرکت کی راہ میں بھی ایک بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔

تصادم اور عدم استحکام والے علاقوں میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف صنفی بنیادوں پر تشدد کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
© UNICEF/Josué Mulala

دنیا کی ہر تیسری خاتون یا لڑکی کو جسمانی یا جنسی تشدد کا سامنا، رپورٹ

ایک تازہ ترین تحقیق کے مطابق دنیا میں تقریباً 73 کروڑ خواتین اپنے شوہر یا کسی اور مرد کے ہاتھوں جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار بنائی جا چکی ہیں۔ یہ دنیا بھر میں 15 سال سے زیادہ عمر والی خواتین و لڑکیوں کا 30 فیصد حصہ ہے۔

گزشتہ برس جنگوں کے دوران جنسی تشدد کے واقعات میں 50 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
© UNFPA Zambia/Jadwiga Figula

جنگوں کے دوران جنسی تشدد میں 50 فیصد اضافہ، یو این ایچ سی آر

دنیا بھر میں 6 کروڑ سے زیادہ خواتین اور لڑکیاں صنفی بنیاد پر تشدد (جی بی وی) کے باعث بے ریاستی حیثیت میں زندگی گزار رہی ہیں یا انہیں نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے جبکہ انہیں ضروری خدمات کی فراہمی کے لیے مالی وسائل کا شدید فقدان ہے۔

جنگوں میں جنسی تشدد کی تاریخ خود جنگوں جتنی ہی قدیم ہے اور خواتین اور لڑکیاں اس جرم سے غیرمتناسب طور پر متاثر ہوتی ہیں۔
© UNICEF/Vincent Tremeau

جنسی تشدد بطور جنگی ہتھیار ایک وحشیانہ جرم جس کی روک تھام ضروری

اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ محمد نے مسلح تنازعات کے دوران جنسی تشدد کو وحشیانہ جرم قرار دیتے ہوئے اس کی بیخ کنی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کے لیے کہا ہے۔

نوعمری یعنی 18 سال سے کم عمر کی شادی بھی تشدد کے امکانات میں اضافہ کرتی ہے خاص طور پر جب میاں بیوی کے درمیان عمروں کا فرق ہو۔
UN News/ Conor Lennon

نوعمر لڑکیوں کو اپنے ہی بوائے فرینڈ یا شوہروں سے تشدد کا سامنا

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ دنیا بھر میں ازدواجی یا غیرازدواجی جسمانی تعلق میں رہنے والی نوعمر لڑکیوں میں سے ایک کروڑ 90 لاکھ 20 سال کی عمر میں پہنچنے تک اپنے ساتھی کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بن چکی ہوں گی۔

فلپائن کے دارالحکومت منیلا کے ’ریڈ لائٹ‘ ایریا میں رات کے وقت ایک چھابڑی فروش بچہ سڑک کنارے گزر رہا ہے۔
© UNICEF/Joshua Estey

فلپائن: بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کے خلاف متحرک ’سائبر سپاہی‘

فلپائن میں قانون نافذ کرنے والے افسر اقوام متحدہ کے غیررسمی تعاون سے اس جذباتی تناؤ پر قابو پا رہے ہیں جو انہیں بچوں کا آن لائن استحصال کرنے والوں کا پیچھا کرنے سے لاحق ہوتا ہے۔

ریم السالم کے مطابق جسم فروشی غربت کو جنسی و نسلی رنگ دیتی ہے اور خاص طور پر پسماندہ خواتین اس کا ہدف بنتی ہیں۔
© UNICEF/Shehzad Noorani

پدر شاہی، عدم مساوات اور عالمگیریت جسم فروشی کے پھیلاؤ کا سبب، رپورٹ

خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے مسئلے پر اقوام متحدہ کی خصوصی اطلاع کار ریم السالم نے کہا ہے کہ جسم فروشی کو تشدد، استحصال اور بدسلوکی کا نظام سمجھا جانا چاہیے جس سے خواتین اور لڑکیاں غربت کا شکار اور ترقی سے محروم ہو جاتی ہیں۔

سوڈان کے ہسپتال کا ایک وارڈ۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت طبی سہولیات کو جنگوں کے دوران بھی تحفظ حاصل ہے۔
© WHO/Lindsay Mackenzie

جنسی مظالم کے شکار افراد کے لیے مناسب طبی دیکھ بھال اہم

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے واضح کیا ہے کہ طبی مراکز کا تحفظ بین الاقوامی انسانی قانون کا بنیادی اصول ہے اور دوران جنگ اس کی پاسداری تمام متحارب فریقین پر لازم ہے۔

وائنسٹین کو 100 سے زیادہ خواتین کی جانب سے جنسی ہراسانی اور بدسلوکی کے الزامات میں 23 سال قید کی سزا دی گئی تھی۔
© Unsplash/Mihai Surdu

وائنسٹین کی سزاؤں کا خاتمہ زیادتی کا شکار خواتین کے لیے پریشان کن

انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے ماہرین نے امریکی عدالت کی جانب سے ہالی وڈ کے فلم پروڈیوسر ہاروے وائنسٹین کو جنسی زیادتی کے الزامات میں دی گئی سزائیں ختم کرنے پر کہا ہےکہ یہ فیصلہ جنسی تشدد کی متاثرہ خواتین کے لیے پریشان کن ہے۔