انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ڈیجیٹل

فورم کے شرکاء مصنوعی ذہانت کی ضابطہ کاری اور غلط و گمراہ کن اطلاعات کے آن لائن پھیلاؤ جیسے مسائل پر بات چیت کرتے ہوئے ان کا حل تلاش کریں گے۔
© UNICEF/Karel Prinsloo

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے منفی اثرات سے نمٹنے پر زور

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے پیش کردہ امکانات سے تمام انسانوں کو مساوی فائدہ پہنچانے کے لیے اس میدان میں مشترکہ طور پر ضروری ضابطے تشکیل دینا ہوں گے۔

سروے میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ 59 فیصد ڈیجیٹل تخلیق کار اپنے حقوق اور بین الاقوامی قوانین سے لاعلم ہیں۔
Unsplash/Lilly Rum

دو تہائی لوگ بلا تصدیق آن لائن معلومات پھیلانے میں مصروف، سروے

اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارے یونیسکو کے ایک تازہ سروے کے مطابق دنیا بھر کے 62 فیصد ڈیجیٹل تخلیق کار انٹرنیٹ پر معلومات شیئر کرنے سے پہلے ان کی تصدیق نہیں کرتے۔

مصنوعی ذہانت کی مدد سے ڈیٹا پروسیسنگ کے عمل کے حوالے سے پرائیوسی پر تحفظات پائے جاتے ہیں۔
© Unsplash/Steve Johnson

کاپ 29: ماحول دوست ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے حصول کا اعلامیہ منظور

آذربائیجان میں جاری اقوام متحدہ کی عالمی موسمیاتی کانفرنس (کاپ 29) میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی تیاری میں کاربن اور آلودگی کے اخراج کو کم کرنے اور اسے موسمیاتی اقدامات کی رفتار تیز کرنے کے لیے استعمال میں لانے کے لیے اعلامیے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

مواصلاتی ضابطہ بندی سے متعلق بین الاقوامی اسمبلی ہر چار سال بعد منعقد ہوتی ہے۔
© ITU

مواصلاتی ضابطہ بندی پر بین الاقوامی اسمبلی کا انڈیا میں اجلاس

مواصلاتی ضابطہ بندی سے متعلق بین الاقوامی اسمبلی (ڈبلیو ٹی ایس اے) انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں شروع ہو گئی ہے جس میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی صنعت کو ترقی دینے کے لیے بین الاقوامی ضابطوں کی تیاری پر بات چیت ہو گی۔

نئی ٹیکنالوجی کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے سے بچوں کو لاحق کئی طرح کے جنسی استحصال اور بدسلوکی کے خطرات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
© UNICEF/Karel Prinsloo

ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کے جنسی استحصال میں اضافہ، رپورٹ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈیجیٹل ماحول میں بچوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی اور استحصال میں شدت آ گئی ہے اور ہر سال تیس کروڑ سے زیادہ بچے اس کا نشانہ بنتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نمائندہ خصوصی برائے ٹیکنالوجی امن دیپ سنگھ گِل یو این نیوز کی میتا حوصالی کو انٹرویو دے رہے ہیں۔
UN News

انٹرویو: یو این کی مصنوعی ذہانت کے محفوظ اور مشمولہ استعمال کی کوششیں

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نمائندہ خصوصی برائے ٹیکنالوجی امن دیپ سنگھ گِل نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو باضابطہ بنانے اور اس کی نگرانی حوالے سے عالمی سطح پر مکالمے کی ضرورت ہے تاکہ اس سے درپیش خطرات پر مشترکہ لائحہ عمل اپنایا جا سکے۔

گوئٹے مالا میں دو بچے موبائل پر دلچسپی کے ساتھ کچھ دیکھ رہے ہیں جبکہ ان کے والدین آن لائن سکیورٹی پر کورس میں شریک ہیں (فائل فوٹو)۔
© UNICEF/Patricia Willocq

بچوں کو آن لائن ہراسانی سے بچانے کے لیے یو این ادارے متحرک

زیادہ سے زیادہ وقت آن لائن رہنے والے بچوں کی تعداد سال بہ سال بڑھتی جا رہی ہے جس کے ساتھ انہیں نفرت پر مبنی اظہار اور پُرتشدد مواد سے واسطہ پڑنے کے خطرات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور وہ سائبر غنڈہ گردی اور ہراسانی کا نشانہ بن رہے ہیں۔

سائبر جرائم کئی ٹریلین ڈالر کا دھندہ ہے جس میں 'ڈارک ویب' پر منشیات اور ہتھیاروں کی خریدوفروخت بھی ہو رہی ہے۔
Unsplash/Jefferson Santos

سائبر کرائم کی روک تھام کے عالمی قوانین کے مسودے پر اتفاق

سائبر جرائم کے خلاف کنونشن پر اقوام متحدہ کی کمیٹی نے اس کنونشن کے نئے متن کی منظوری دے دی ہے جو آئندہ ماہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

کرپٹو کرنسی اور کرپٹو مائننگ جیسی ٹیکنالوجی کی وجہ سے توانائی کے خرچ میں بہت بڑے پیمانے پر اضافہ ہو گیا ہے۔
Unsplash/André François McKenz

اے آئی اور کرپٹو کرنسی مائننگ کے ماحول پر ’برے اثرات‘، یو این ادارہ

کیا آپ جانتے ہیں کہ دو کلوگرام وزنی کمپیوٹر تیار کرنے میں 800 کلوگرام خام مال استعمال ہوتا ہے؟ یا گزشتہ سال بٹ کوائن کی ڈیٹا مائننگ کے لیے درکار توانائی کی مقدار 121 ٹیرا واٹ تک پہنچ گئی تھی جو چھوٹے ممالک میں ہر سال استعمال والی توانائی سے بھی زیادہ ہے۔

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش اطلاعاتی دیانت کے لیے اقوام متحدہ کے عالمی اصولوں کے اجراء کے موقع پر نیو یارک میں صحافیوں سے خطاب کر رہے ہیں۔
UN Photo/Eskinder Debebe

آزادی اظہار رائے پر قدغن لگائے بغیر آن لائن جھوٹ روکنا ضروری، گوتیرش

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ دنیا کو انسانی حقوق مضبوطی سے برقرار رکھتے ہوئے آن لائن نفرت اور جھوٹ کے پھیلاؤ سے ہونے والے نقصان پر قابو پانا ہو گا۔