انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ڈبلیو ایم او

گزشتہ نو برس (2014 تا 2023) کرہ ارض پر گرم ترین عرصہ تھے، اس دوران عالمی حدت میں اضافہ قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں 1.20 ڈگری زیادہ رہا۔
© ADB/Rakesh Sahai

سال 2023 میں گرمی کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے، ڈبلیو ایم او

اقوام متحدہ کے عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے کہا ہے کہ 2023 اب تک کا گرم ترین سال تھا اور عالمی حدت میں اضافے کی شرح قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں 1.5 ڈگری کی حد تک پہنچنے کو ہے۔

سپین میں بارسلونا کے ساحل پرطوفان آیا چاہتا ہے (فائل فوٹو)۔
© WMO/Carlos Castillejo Balsera

قابل تجدید توانائی کے لیے موسمیاتی خدمات پر سرمایہ کاری ضروری

عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کی جانب عالمگیر منتقلی کے لیے موسم اور موسمیاتی خدمات کے حوالے سے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہو گی۔

موزمبیق میں بچے طوفان فریڈی سے تباہ ہو جانے والے اپنے سکول کے پاس کھڑے ہیں۔
© UNICEF

فریڈی ریکارڈ توڑ طوفان بننے کی راہ پر: ڈبلیو ایم او

عالمی موسمیاتی دفتر (ڈبلیو ایم او) نے کہا ہے کہ منطقہ حارہ کا طوفان فریڈی اب تک اپنی نوعیت کا طویل ترین طوفان بن سکتا ہے جس نے حالیہ کئی ہفتوں کے دوران مڈغاسکر اور موزمبیق میں دوسری مرتبہ لوگوں کے لیے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔

موسمیاتی مظہر لانینا کے سرد اثرات اب تیسرے سال میں داخل ہو گئے ہیں جنہوں نے 2022 کو اب تک کا گرم ترین سال بننے سے روکے رکھا۔
© Unsplash/Karen Ridings

سال 2022 تاریخ کے گرم ترین سالوں میں سے ایک تھا: عالمی ادارہ موسمیات

اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے 'ڈبلیو ایم او' نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عالمی حدت میں اضافے کے حوالے سے پیرس معاہدے میں طے کی گئی 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد قائم نہ رہنے کا امکان ''وقت کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔''

حالیہ سالوں میں بوسنیا میں موسمی شدت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
© WMO/Bosko Hrgic

ڈبلیو ایم او نے دنیا بھر میں موسمی شدت بارے تفصیلات جاری کردیں

عالمی موسمیاتی ادارے نے بدترین موسمیاتی تبدیلی کی علامات اور اثرات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا ہےکہ اس سال شدید سیلاب، گرمی اور خشک سالی جیسی موسمیاتی آفات نے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا اور ان سے اربوں کا نقصان ہوا ہے۔

ڈبلیو ایم او کے مطابق 3.6 ارب لوگوں کو سال کے کم از کم ایک مہینے میں پانی تک خاطرخواہ رسائی حاصل نہیں ہوتی اور 2050 تک ایسے لوگوں کی تعداد پانچ ارب تک پہنچنے کا امکان ہے۔
© WFP/Tsiory Andriantsoarana

دنیا کے وسیع علاقے 2021 میں غیر معمولی خشک سالی کا شکار رہے: ڈبلیو ایم او

اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے نے کہا ہے کہ 2021 میں دنیا کے بیشتر حصے معمول سے زیادہ خشک رہے جس کے ''معیشتوں، ماحول اور روزمرہ زندگیوں پر مسلسل منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں''۔