انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ایچ آئی وی

اس وقت بھی دنیا کے 63 ممالک میں ہم جنس تعلقات کو جرم سمجھا جاتا ہے جس سے متاثرہ افراد ایچ آئی وی کی روک تھام، تشخیص یا علاج سے محروم ہو جاتے ہیں۔
UNAIDS

ایڈز کے خاتمہ میں انسانی حقوق کی اہمیت مرکزی، یو این ادارہ

یکم دسمبر کو ایڈز کے عالمی دن کی مناسبت سے اقوام متحدہ کے مشترکہ پروگرام برائے ایچ آئی وی و ایڈز ( یو این ایڈز) کی ایک تازہ رپورٹ بعنوان "ایڈز کے خاتمے کے لئے انسانی حقوق کا راستہ اختیار کریں" میں انسانی حقوق کی ایڈز کے خاتمے کی جدوجہد میں مرکزی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔

یوکرین میں ایک ڈاکٹر بچوں کا ایچ آئی وی کے لیے معائنہ کر رہی ہیں۔
© World Bank/Yuri Mechitov

مقامی قیادت کی مدد سے ایڈز کو شکست دینا ممکن، گوتیرش

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ 2030 تک ایڈز کا صحت عامہ کے لیے خطرے کی حیثیت سے  خاتمہ ممکن ہے۔ تاہم اس مقصد کے لیے ایڈز کے خلاف اقدامات میں مقامی سطح پر قائدانہ کردار کو فروغ دینا ہو گا۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا کہ بیماریوں سے اموات کی تعداد میں اگرچہ کمی آ رہی ہے لیکن یہ رفتار خاطرخواہ حد تک تیز نہیں ہے (فائل فوٹو)
UN Photo/Evan Schneider

صحت عیاشی نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی حق ہے: ٹیڈروز

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی، کووڈ۔19 اور ایم پاکس نے دنیا کو بآور کرایا ہے کہ صحت عیاشی نہیں جس تک رسائی صرف خواص کو حاصل ہو بلکہ یہ بلاامتیاز تمام انسانوں کا بنیادی حق ہے۔

آرمینیا میں ان لوگوں کی یاد میں چراغ روشن کیے جا رہے ہیں جنہوں نے ایڈز کے ہاتھوں جان کی بازی ہار دی۔
Photo IOM Armenia 2018

ایڈز کے 2030 تک خاتمے کے لیے کارگر حل موجود ہونا ضروری: گوتیرش

جمعرات یکم دسمبرکو ایڈز کے خلاف عالمی دن پر اقوام متحدہ کے سربراہ عدم مساوات کو ختم کرنے کے اقدامات اٹھانے کے لیے کہیں گے جو اس وباء کو روکنے اور اس کے وائرس کا خاتمہ کرنے کے لیے ہونے والی پیش رفت میں رکاوٹ ہے۔

یوگنڈا میں ایک ہیلتھ سنٹر جہاں ماؤں کو ایچ آئی وی سے فری بچوں کی پیدائش کی تربیت دی جاتی ہے۔
© UNICEF

ایچ آئی وی پر قابو پانے میں حالیہ جمود سے ستائیس لاکھ نوجوان متاثر: یونیسف

بچوں میں ایچ آئی وی اور ایڈز سے متعلق یونیسف کے تازہ ترین مختصر عالمگیر جائزے کے مطابق 2021 میں تقریباً 110,000 بچے اور 19 سال تک عمر کے نوجوان ایڈز سے متعلق وجوہات کی بنا پر موت کا شکار ہوئے۔