پلاسٹک آلودگی کے خاتمہ پر حتمی معاہدہ اگلے سال تک ملتوی
پلاسٹک کی آلودگی کے خلاف معاہدے طے کرنے کی غرض سے ہونے والا اجلاس بنیادی نوعیت کے متعدد معاملات پر اتفاق رائے کے ساتھ ختم ہو گیا ہے۔
پلاسٹک کی آلودگی کے خلاف معاہدے طے کرنے کی غرض سے ہونے والا اجلاس بنیادی نوعیت کے متعدد معاملات پر اتفاق رائے کے ساتھ ختم ہو گیا ہے۔
پلاسٹک کی آلودگی کو ختم کرنے کے معاملے پر اہم بات چیت جنوبی کوریا میں شروع ہو گئی ہے جس میں دنیا کو اس مسئلے سے نجات دلانے کے قانونی معاہدے پر اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ پلاسٹک کی آلودگی ماحول کو تباہ کر رہی ہے جس پر قابو پانے کے لیے دنیا کو جلد از جلد ایک پرعزم، پراعتماد اور منصفانہ معاہدہ کرنا ہو گا۔
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یونیپ) نے بتایا ہے کہ اس وقت گرین ہاؤس گیسوں کا سالانہ اخراج اب تک کی بلند ترین سطح پر ہے جس کے نتیجے میں بڑھتی عالمی حدت کو روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے۔
فضائی آلودگی انسانی صحت پر تیزی سے مضر اثرات مرتب کر رہی ہے اور اب یہ دنیا بھر میں قبل از وقت اموات کا دوسرا بڑا سبب بن چکی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ ہر سال 2 ارب ٹن ٹھوس فضلہ زمین کو زہرآلود کر رہا ہے۔ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے دنیا کو پیداوار و صرف سے متعلق اپنی ترجیحات تبدیل کرنا ہوں گی۔
الیکٹرانک کچرےکی سالانہ مقدار کم از کم 6 کروڑ 20 لاکھ ٹن ہے اور یہ اسے دوبارہ استعمال میں لانے کی استعداد (ری سائیکل) کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے 'ازالہ کاربن کی بین الاقوامی حکمت عملی' منظور کر لی ہے جس سے سڑکوں، ریل اور اندرون ملک آبی گزرگاہوں پر نقل و حمل میں کاربن کے اخراج پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
اگر دنیا معدنی ایندھن کا استعمال ترک کر دے تو ہمیں کمیاب معدنیات کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہو گی جو ونڈ ٹربائن اور سولر پلانٹ جیسے توانائی کے قابل تجدید ذرائع میں استعمال ہوتی ہیں۔
ہر دو برس کے بعد اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کرہ ارض کو درپیش اہم ماحولیاتی مسائل پر اکٹھے ہو کر بات چیت کرتے ہیں۔ اسے اقوام متحدہ کی ماحولیاتی اسمبلی (یو این ای اے) کہا جاتا ہے جس کا چھٹا اجلاس 26 فروری سے کینیا میں شروع ہو رہا ہے۔