پاکستان میں گھر سے کام کرنے والوں کے حقوق کی جدوجہد
پاکستان میں غیررسمی شعبے کے محنت کشوں کی 74 فیصد تعداد خواتین پر مشتمل ہے جنہیں صاف، صحت مند اور پائیدار ماحول کے حق تک رسائی دینے کے لیے آگاہی، تربیت اور حکومتی سطح پر منصوبہ بندی درکار ہے۔
پاکستان میں غیررسمی شعبے کے محنت کشوں کی 74 فیصد تعداد خواتین پر مشتمل ہے جنہیں صاف، صحت مند اور پائیدار ماحول کے حق تک رسائی دینے کے لیے آگاہی، تربیت اور حکومتی سطح پر منصوبہ بندی درکار ہے۔
عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) کے ماہرین نے اس ہفتے شائع ہونے والی ایک نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نوکریوں کے لیے خطرہ نہیں ہے، اس کے بجائے یہ انہیں مزید بہتر بھی بنا سکتی ہے۔
دنیا بھر میں تقریباً 160 ملین بچے سکول جانے کے بجائے روزی کمانے کے لئے کام کرتے ہیں۔ یہ بچوں کی مجموعی تعداد کا 10 فیصد ہے۔
عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) نے خبردار کیا ہے کہ شدید مہنگائی اور بلند ہوتی شرح سود کے باعث بڑھتے قرضوں نے ترقی پذیر ممالک میں نوکری کے خواہاں افراد کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین محنت نے کہا ہے کہ رکن ممالک کو آئندہ بحرانوں سے بچنا ہے تو کووڈ کے دوران دنیا میں لاک ڈاؤن کے وقت خاندانوں، معاشروں اور معیشتوں کو چلائے رکھنے والے اہم کارکنوں کو فوری طور پر اچھی اجرتیں اور بہتر حالات کار مہیا کرنا ہوں گے۔
اقوام متحدہ میں امور محنت کے ماہرین نے کہا ہے کہ تقریباً دو دہائیوں میں روزگار تک خواتین کی رسائی، ان کے ملازمتی حالات اور اجرتوں میں صںفی بنیاد پر دائمی فرق سے متعلق دنیا بھر کی صورتحال میں بمشکل ہی کوئی بہتری آئی ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے محنت نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں متواتر معاشی بدحالی کے باعث اس سال اچھی اور بہتر اجرتوں والی نوکریاں ڈھونڈںا مشکل ہو سکتا ہے۔
آئی ایل او کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق کام کے لچکدار اوقات ملازمین اور ان کے خاندانوں کو کام اور ذاتی زندگی میں بہتر توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہوئے معیشتوں اور کاروباروں کی ترقی کا سبب بن سکتے ہیں۔