انسانی کہانیاں عالمی تناظر

عالمیِ ادارہ محنت

گزشتہ سال ابھرتی ہوئی معیشتوں کی اجرتوں میں تقریباً چھ فیصد اضافہ دیکھا گیا جبکہ 2022 میں یہ شرح 1.8 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔
© UNHCR/Charity Nzomo

کووڈ کے منفی اثرات کے بعد اجرتوں میں اضافے کا رحجان، آئی ایل او

عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) نے بتایا ہے کہ کووڈ وبا کے بعد دنیا بھر میں معیشتیں بحال ہو رہی ہیں جس کے نتیجے میں گزشتہ برس اجرتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنےکو ملا اور یہ رحجان رواں سال کی پہلی ششماہی میں بھی برقرار رہا۔

پاکستان میں تعمیراتی شعبے سے وابستہ مزدروں کی بڑی تعداد حفاظتی سازوسامان کے بغیر کام کرتی ہے۔
Shoaib Tariq

پاکستان: تعمیراتی شعبہ کے محنت کشوں کے حالات کار بہتر کرنے کی کوشش

عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) اور پاکستان انجینئرنگ کونسل نے تعمیراتی شعبے میں پیشہ وارانہ تحفظ و صحت یقینی بنانے کے لیے ضابطہ کار ترتیب دینے کا معاہدہ کیا ہے جس سے اس صنعت میں کام کرنے والے محنت کشوں کو پہلی مرتبہ بہتر حالات کار میسر آنے کی امید ہے۔

لزیتھو کی ایک گارمنٹس فیکٹری میں کام کرنے والی کارکن خواتین۔
© ILO/Marcel Crozet

دنیا میں اس سال بیروزگاری میں معمولی کمی کا توقع، آئی ایل او

عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) نے بتایا ہے کہ رواں سال دنیا بھر میں بیروزگاری کی شرح میں قدرے کمی کا امکان ہے لیکن روزگار تک غیرمساوی رسائی برقرار رہے گی جو غریب ممالک میں خواتین کو درپیش ایک بڑا مسئلہ ہے۔

ایشیا اور الکاہل خطے میں جبری مشقت سے 62 ارب ڈالر کمائے جاتے ہیں۔
© UNICEF

جبری مشقت سے سالانہ 236 ارب ڈالر کا منافع، آئی ایل او رپورٹ

اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) نے بتایا ہے کہ دنیا بھر میں لاکھوں لوگ جبری مشقت پر مجبور ہیں اور اس غیرقانونی عمل میں ملوث عناصر کو سالانہ 236 ارب ڈالر آمدنی ہوتی ہے جو ایک دہائی پہلے 64 ارب ڈالر تھی۔

یونین کے ذریعے مزدوروں کو آجروں کے ساتھ اجتماعی سودے بازی کے ذریعے اپنے حقوق حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔
Shoaib Tariq

بلوچستان میں آئی ایل او کی مدد سے بھٹہ مزدوروں کی پہلی یونین کا قیام

عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) کے تعاون سے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بھٹہ مزدوروں کی پہلی یونین قائم کی گئی ہے۔ اس اقدام کی بدولت ان محنت کشوں کو جبری مشقت سے نجات اور اچھے حالات کار کے لیے آجروں کے ساتھ اجتماعی سودے بازی میں مدد ملے گی۔

غیرملکی کارکن متحدہ عرب امارات کے ایک تعمیراتی منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔
© ILO/Apex

سال 2024 میں بے روزگاری بڑھنے کا امکان، آئی ایل او کا انتباہ

اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) نے بتایا ہے کہ رواں سال دنیا بھر میں بے روزگاری بڑھنے کا امکان ہے جبکہ عدم مساوات میں اضافے اور استعداد کار میں کمی کے باعث معاشی افق پر کئی طرح کے خدشات منڈلا رہے ہیں۔

گھر سے کام کرنے والی کارکن خواتین عروسی لباس کی کڑھائی میں مصروف ہیں۔
LEF Pakistan

پاکستان میں گھر سے کام کرنے والوں کے حقوق کی جدوجہد

پاکستان میں غیررسمی شعبے کے محنت کشوں کی 74 فیصد تعداد خواتین پر مشتمل ہے جنہیں صاف، صحت مند اور پائیدار ماحول کے حق تک رسائی دینے کے لیے آگاہی، تربیت اور حکومتی سطح پر منصوبہ بندی درکار ہے۔

آئی ایل او کی رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی سے مردوں کے مقابلے میں خواتین کی دو گنا زیادہ ملازمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
© Unsplash/Steve Johnson

مصنوعی ذہانت ملازمتوں کے خاتمے کی بجائے بہتری لائے گی: آئی ایل او

عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) کے ماہرین نے اس ہفتے شائع ہونے والی ایک نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نوکریوں کے لیے خطرہ نہیں ہے، اس کے بجائے یہ انہیں مزید بہتر بھی بنا سکتی ہے۔

بنگلہ دیش کی ایک کارمنٹس فیکٹری میں شفٹ ختم ہونے پر کارکن گھروں کو واپس جا رہے ہیں۔
© ILO/ Marcel Crozet

معاشی ابتری سے کم آمدنی والے ممالک میں روزگار کے امکانات متاثر

عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) نے خبردار کیا ہے کہ شدید مہنگائی اور بلند ہوتی شرح سود کے باعث بڑھتے قرضوں نے ترقی پذیر ممالک میں نوکری کے خواہاں افراد کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔