عالمی ادارہِ صحت کی طرف سے منکی پاکس کا نام بدلنے کی تجویز
ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ منکی پاکس کو اب 'ایم پاکس' کے نام سے جانا جائے گا۔ یہ فیصلہ اس بیماری کے نام سے وابستہ نسل پرستانہ اور رسوا کن زبان کے باعث کیا گیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ منکی پاکس کو اب 'ایم پاکس' کے نام سے جانا جائے گا۔ یہ فیصلہ اس بیماری کے نام سے وابستہ نسل پرستانہ اور رسوا کن زبان کے باعث کیا گیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) فوری خطرے کے حامل جرثوموں کی تازہ ترین فہرست تیار کرنے کے لیے ایک عالمگیر سائنسی عمل شروع کر رہا ہے۔ ان سے مراد ایسے جراثیمی ذرائع ہیں جو بیماریاں اور وبائیں پھیلانے کا باعث بن سکتے ہیں۔
خود استعمال کی جانے والی مانع حمل اشیاء تک وسیع رسائی اور انہیں مہیا کرنے والوں کی جانب سے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال خاندانی منصوبہ بندی پر عالمی ادارہ صحت کے تازہ ترین رہنماء کتابچے میں بیان کردہ بہت سے ٹھوس اقدامات میں سے ایک ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ تازہ ترین 'گلوبل ویکسین مارکیٹ رپورٹ' کے مطابق ویکسین کی محدود دستیابی اور غیرمساوی تقسیم کے نتیجے میں کم آمدنی والے ممالک کو ایسے ضروری حفاظتی ٹیکوں تک رسائی کی متواتر جدوجہد کرنا پڑتی ہے جن کی امیر ممالک میں مانگ ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے ایک تلخ یاددہانی جاری کی ہے کہ موسمیاتی بحران کے نتیجے میں لوگ بیمار پڑ رہے ہیں اور کاپ 27 کانفرنس میں موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات پر ہونے والی بات چیت میں صحت کو مرکزی اہمیت دی جانی چاہیے۔
حکومتوں کو چاہیے کہ کہ وہ پینے کے صاف پانی کے نظام قائم کرنے پر مزید سرمایہ کاری کریں تاکہ ناصرف آبی ذرائع تک رسائی میں اضافہ یقینی بنایا جا سکے بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو محدود رکھنے میں بھی مدد ملے۔ یہ بات سوموار کو شائع ہونے والی عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)، اقوام متحدہ میں بچوں کے ادارے یونیسف اور ورلڈ بینک کی رپورٹ میں کہی گئی ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر دنیا بھر میں حکومتوں نے ورزش کے فوائد کو فروغ دینے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے تو 2020 اور 2030 کے درمیان تقریباً 500 ملین لوگوں کو جسمانی غیرفعالیت کے سبب دل کی بیماریاں، موٹاپا، ذیابیطس اور دیگر غیرمتعدی امراض (این سی ڈی) لاحق ہو جائیں گے۔
برلن میں جاری عالمی طبی کانفرنس کے موقع پر منگل کو ہونے والے سربراہی اجلاس میں پولیو پر قابو پانے کے لیے عالمگیر اقدام (جی پی ای آئی) کے تحت پولیو کے خاتمے سے متعلق 2022 تا 2026 کی حکمت عملی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مزید 2.6 بلین ڈالر مالی امداد دینے کے وعدے کیے گئے۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے دنیا بھر کی حکومتوں سے صحت عامہ کو ترجیح بنانے کے لیے ''پائیدار سیاسی عزم'' کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان کے ممالک کووڈ۔19 وبا کے بعد مستقبل میں آنے والے طبی مسائل سے نمٹنے کے لیے خود کو بہتر طور سے تیار کر سکیں۔