غزہ میں طبی سازوسامان کی ترسیل پر پابندیاں نرم کرنے کا مطالبہ
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں زندگی بچانے والی ادویات، مصنوعی اعضا اور دیگر ضروری طبی سامان پہنچانے میں تاخیر کے باعث ان لوگوں کے لیے تباہ کن نتائج کا خطرہ بڑھ رہا ہے جنہیں فوری طبی مدد کی ضرورت ہے۔
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ادارے کی نمائندہ ڈاکٹر رینہلڈے ویرڈٹ نے اسرائیلی حکام سے طبی سامان پر عائد پابندیوں میں نرمی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضروری ادویات کو دہرے استعمال کی اشیا قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔ اسرائیل بعض اشیا کو اس بنیاد پر روک دیتا ہے کہ انہیں حماس کے جنگجو بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
یہ ایسا سامان ہے جسے دنیا بھر میں ہسپتالوں کے لیے بنیادی اور تسلیم شدہ طبی ضروریات سمجھا جاتا ہے اور کسی بھی جگہ کسی بھی شخص کو ان کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ، گزشتہ چھ ماہ کے دوران غزہ کے لیے لائے جانے والے مصنوعی اعضا اور معاون آلات کی ایک کھیپ کو چار مرتبہ مسترد کیا جا چکا ہے۔ اس کا مطلب اس فرد کے لیے مزید تاخیر ہے جو پہلے ہی اپنا ایک عضو کھو چکا ہے اور اب صرف اس موقع کا انتظار کر رہا ہے کہ دوبارہ چل پھر سکے۔ اس سے برعکس، ادویات کی ترسیل نسبتاً بہتر ہے اور تقریباً 87 فیصد ادویات کی کھیپیں منظور کر لی جاتی ہیں۔
سرحدی راستے کھولنے کی ضرورت
ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ غزہ کی انسانی صورتحال اب بھی انتہائی تشویش ناک ہے۔ منظور شدہ امدادی سامان صرف غزہ کے جنوبی سرے پر واقع کیریم شالوم کی گزرگاہ کے ذریعے ہی علاقے میں داخل ہو سکتا ہے۔ جنوبی علاقے میں واقع رفح کی گزرگاہ لوگوں کی محدود آمدورفت کے لیے کھلی ہے جن میں زیادہ تر ایسے مریض شامل ہیں جنہیں بیرون ملک علاج کی ضرورت ہے۔
غزہ میں کام کرنے والے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے اسرائیلی حکام کے ساتھ رابطے اور تعاون کے ذریعے اب بھی علاقے بھر کے لوگوں کو ضروری امداد فراہم کر رہے ہیں تاہم متواتر اور بروقت رسائی نہ ہونے کے باعث یہ کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔
ڈاکٹر ویرڈٹ نے کہا ہے کہ انسانی اور طبی امداد کا سامان بڑے پیمانے پر اور قابل بھروسہ انداز میں غزہ لایا جانا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے متعدد گزرگاہوں پر مشتمل نظام بھی درکار ہے تاکہ امداد کو صرف چند محدود راستوں سے لانے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔
موسم سرما کے خطرات
ڈاکٹر ویرڈٹ نے خبردار کیا ہے کہ موسم خزاں کے اختتام کے بعد سنگین انسانی صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ تقریباً 20 لاکھ افراد کو سردی اور سیلاب کے خطرے سے بچانے کے لیے رہائشی انتظامات درکار ہیں۔
غزہ میں گزشتہ برسوں کی طرح امسال موسم سرما میں بھی قابل انسداد بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ ہے۔ محفوظ رہائش گاہوں کی عدم دستیابی، صاف پانی کی قلت اور چوہوں کی بڑی تعداد اس کی بڑی وجوہات ہیں جبکہ سرکاری لیبارٹریوں کی تباہی نے ممکنہ وباؤں کی بروقت شناخت کا کام بھی مزید مشکل بنا دیا ہے۔
'اوچا' کے مطابق، غزہ میں صفائی ستھرائی کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے حالیہ عرصہ میں ہونے والی پیش رفت اب بھی انتہائی نازک ہے کیونکہ بھاری مشینری اور ضروری آلات تک رسائی غیریقینی ہے جبکہ انہیں چلانے کے لیے درکار انجن آئل اور فاضل پرزہ جات بھی دستیاب نہیں ہو پاتے۔
بارودی سرنگوں اور دیگر جنگی باقیات سے نمٹنے والے اداروں نے بتایا ہے کہ ملبے میں دھماکا خیز مواد کے خطرات کو دور کرنے کے لیے انہیں اجازت ناموں اور ضروری آلات کی کمی کا سامنا ہے۔ یہ خطرات غزہ میں بارودی مواد کی صفائی کے لیے انجام دی جانے والی 37 جائزہ مہمات میں سامنے آئے ہیں۔